بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:11

متفرق ابواب
حدیث نمبر:11

حدیث نمبر:11

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، وَلا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الإِبِلِ، وَلا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ".
حدثنا يزيد بن عبد ربه، حدثنا بقية، عن خالد بن يزيد، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت محارب بن دثار، يقول: سمعت ابن عمر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " توضئوا من لحوم الإبل، ولا توضئوا من لحوم الغنم، وتوضئوا من البان الإبل، ولا توضئوا من البان الغنم، وصلوا في مرابض الغنم، ولا تصلوا في معاطن الإبل".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرو اور بکری کا گوشت کھانے سے وضو نہ کرو، اونٹنیوں کا دودھ پینے سے وضو کرو اور بکریوں کا دودھ پینے سے وضو نہ کرو۔ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔“

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم