بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

مقدمہ (قمر بنی ہاشم)

مقدمہ قمر بنی ھاشم

الحمد لله الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق، وأتمَّ به النعمة، وأكمل به الدين، وجعله رحمةً للعالمين، وسراجًا منيرًا، وأُسوةً حسنةً للمؤمنين، والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين، وإمام المتقين، وقائد الغر المحجلين، نبينا وحبيبنا محمد ﷺ، الذي بلَّغ الرسالة، وأدَّى الأمانة، ونصح الأمة، وجاهد في الله حق جهاده، وعلى آله الطيبين، وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين۔

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ان کے ذریعے اپنی نعمت کو مکمل کیا، ان کے ذریعے دین کو کامل کیا، انہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت اور روشن چراغ بنا کر بھیجا، اور اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔اور درود و سلام ہو تمام انبیاء و رسل کے خاتم، متقیوں کے امام، قیامت کے دن روشن چہروں والوں کے پیشوا، ہمارے نبی، ہمارے محبوب محمد ﷺ پر، جنہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا، امانت ادا کی، امت کی خیر خواہی فرمائی اور اللہ کی راہ میں اس طرح جدوجہد کی جس طرح جدوجہد کرنے کا حق تھا۔اور آپ ﷺ کی پاکیزہ آل پر، آپ ﷺ کے تمام صحابہ پر، اور قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل ہو۔

فہرستِ مباحث

اما بعد!

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۚ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴿سورۃ آل عمران:164

’’بے شک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘

یہ آیت صرف ایک تاریخی واقعے کی خبر نہیں دیتی؛ یہ ہمیں اس عظیم نعمت کی حقیقت سمجھاتی ہے جسے ہم بعثتِ محمد ﷺ کہتے ہیں۔

انسانیت پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں، لیکن ان احسانات میں سب سے عظیم احسان ہدایت کا ہے۔ دنیا کی دولت انسان کو کچھ عرصے کے لیے آسودہ کر سکتی ہے، علم اسے کچھ عرصے کے لیے ممتاز بنا سکتا ہے، اقتدار اسے لوگوں پر غالب کر سکتا ہے، مگر ان میں سے کوئی چیز اسے اس وقت تک حقیقی کامیابی نہیں دے سکتی جب تک اسے اپنے رب کی پہچان، اس کی عبادت کا صحیح طریقہ اور آخرت کی منزل کا شعور حاصل نہ ہو۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا۔

جب انسان اپنے رب کو بھول گیا تو رب نے اسے یاد دلایا۔جب انسان راستہ بھول گیا تو اللہ نے راستہ دکھایا۔جب انسان نے اپنے ہاتھوں سے معبود تراش لیے تو اللہ نے توحید کی دعوت دی۔جب طاقتور نے کمزور کو کچلنا شروع کیا تو اللہ نے عدل کا حکم نازل فرمایا۔جب اخلاق بکھر گئے تو رسولوں نے اخلاق کی تعمیر کی۔اور جب انسان اپنی خواہشات کا غلام بن گیا تو اللہ کے انبیاء نے اسے اپنے حقیقی رب کا بندہ بننے کی دعوت دی۔

پھر نبوت کا یہ سلسلہ اپنے آخری مقام تک پہنچا۔

اور مکہ کی وادیوں میں ایک ایسی ہستی تشریف لائیں جن کی بعثت کسی ایک قوم، کسی ایک خطے یا کسی ایک زمانے کے لیے نہیں تھی۔

وہ محمد بن عبداللہ ﷺ تھے۔

وہی محمد ﷺ جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا۔وہ محمد ﷺ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴿سورۃ الانبياء:107

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔‘‘

ایک اندھیرے زمانے میں طلوع ہونے والی روشنی

صحرا ہمیشہ سے تضاد کی سرزمین رہا ہے۔

دن کے وقت سورج کی تپش ریت کو دہکا دیتی ہے، اور رات کے وقت اسی صحرا کی خاموش وسعت انسان کو آسمان کے بے شمار ستاروں کے نیچے تنہا کھڑا کر دیتی ہے۔ بظاہر وہاں زندگی کے آثار کم ہوتے ہیں، مگر اسی خاموشی میں زندگی کے راز بھی چھپے ہوتے ہیں۔

چودہ سو سال پہلے عرب کا ایک ایسا ہی معاشرہ تھا۔

مکہ میں ابراہیم علیہ السلام کے قائم کردہ توحید کے مرکز، بیت اللہ، کے گرد بت نصب ہو چکے تھے۔ قبائلی عصبیت نے انسانوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا تھا۔ خون کا بدلہ نسلوں تک چلتا تھا۔ طاقتور کمزور پر ظلم کر سکتا تھا۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان شدید عدم توازن موجود تھا۔ عورتوں کے ساتھ مختلف ظالمانہ رسوم روا رکھی جاتی تھیں اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے تک کی سنگ دلانہ رسم میں مبتلا تھے۔

لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پورا عرب انسانی خوبیوں سے خالی تھا۔ ان میں سخاوت تھی، شجاعت تھی، مہمان نوازی تھی، وفاداری تھی، فصاحت و بلاغت تھی؛ مگر ان خوبیوں پر شرک، جاہلی تعصبات اور بے اعتدالی کی گرد چھا چکی تھی۔

یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جسے صرف سیاسی اصلاح نہیں چاہیے تھی۔اسے عقیدے کی اصلاح چاہیے تھی۔اسے صرف نئے قوانین نہیں چاہیے تھے۔اسے رب کی پہچان چاہیے تھی۔اسے صرف ایک نیا حکمران نہیں چاہیے تھا۔اسے ایک رسول چاہیے تھا۔

اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو مبعوث فرمایا۔

ایک یتیم، جس نے دنیا کو اپنا رب پہچنوایا

محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو نہ آپ کسی شاہی محل کے وارث تھے، نہ کسی سلطنت کے شہزادے۔

آپ ﷺ نے یتیمی دیکھی۔آپ ﷺ نے محنت دیکھی۔آپ ﷺ نے مکہ کی زندگی دیکھی۔آپ ﷺ نے تجارت کی۔آپ ﷺ نے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے حالات دیکھے۔آپ ﷺ نے معاشرے کے دکھ دیکھے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت کے لیے منتخب فرمایا۔

پھر وہ لمحہ آیا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

غارِ حرا کی تنہائی میں، چالیس برس کی عمر میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا آغاز ہوا۔

اقْرَأْ ﴿سورة العلق:1

پڑھیے!

اپنے رب کے نام سے پڑھیے۔یہ صرف ایک لفظ نہ تھا۔یہ ایک انقلاب کا آغاز تھا۔ایک ایسا انقلاب جو تلوار سے پہلے توحید کے ذریعے دلوں میں برپا ہوا۔جس نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کیا۔جس نے بتوں کے سامنے جھکنے والے انسان کو صرف اللہ کے سامنے جھکنا سکھایا۔جس نے کہا کہ عزت قبیلے سے نہیں، تقویٰ سے ہے۔

جس نے بتایا کہ عربی و عجمی، کالا و گورا، امیر و غریب—سب ایک رب کے بندے ہیں۔

جس نے غلام کو بھی انسان کی عزت دی، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، مسکین کے حق کی حفاظت کی، عورت کے حقوق بیان کیے، پڑوسی کے حقوق سکھائے اور دشمن کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیا۔

یہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک مکمل زندگی ہے

سیرتِ محمد ﷺ کو اگر صرف غزوات، ہجرت، معجزات اور تاریخی واقعات کا مجموعہ سمجھ لیا جائے تو ہم اس کی اصل روح سے محروم رہ جائیں گے۔

سیرت دراصل ایک مکمل انسانی زندگی کا عملی نمونہ ہے۔محمد ﷺ ایک نبی تھے، مگر آپ ﷺ نے نبوت کے ساتھ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے سامنے عملاً گزارا۔

آپ ﷺ یتیم بھی رہے۔بیٹے بھی رہے۔شوہر بھی رہے۔والد بھی رہے۔استاد بھی رہے۔شاگردوں کے مربی بھی رہے۔قائد بھی رہے۔حاکم بھی رہے۔قاضی بھی رہے۔سپہ سالار بھی رہے۔تاجر بھی رہے۔پڑوسی بھی رہے۔مسافر بھی رہے۔

میزبان بھی رہے۔اور اللہ کے سب سے بڑے بندے کی حیثیت سے عبادت گزار بھی رہے۔

اسی لیے سیرت صرف مؤرخ کے لیے نہیں۔

یہ طالب علم کے لیے بھی ہے۔استاد کے لیے بھی ہے۔والد کے لیے بھی ہے۔بیٹے کے لیے بھی ہے۔شوہر کے لیے بھی ہے۔تاجر کے لیے بھی ہے۔حاکم کے لیے بھی ہے۔سپاہی کے لیے بھی ہے۔مربی کے لیے بھی ہے۔داعی کے لیے بھی ہے۔اور اس شخص کے لیے بھی ہے جو اپنی زندگی میں راستہ تلاش کر رہا ہے۔

اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ اچھا انسان کیسے بنتا ہے

تو محمد ﷺ کی زندگی دیکھو۔اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ والدین کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، سیرت دیکھو۔اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ اپنی اولاد کے ساتھ محبت کیسے کرنی ہے، سیرت دیکھو۔اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت کیا ہے، سیرت دیکھو۔اگر تم غم میں مبتلا ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم خوشی میں ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تمہیں کامیابی ملی ہے تو سیرت دیکھو۔اگر تم شکست سے دوچار ہوئے ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تمہیں کسی نے تکلیف پہنچائی ہے تو سیرت دیکھو۔اگر تم کسی کو معاف کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم کمزور ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم طاقتور ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم امیر ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم غریب ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تم تنہا ہو تو سیرت دیکھو۔اگر تمہیں لوگوں کی رہنمائی کی ذمہ داری دی گئی ہے تو سیرت دیکھو۔

اور اگر تم اللہ کے قریب ہونا چاہتے ہو تو اس رسول ﷺ کی زندگی کو دیکھو جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا﴿سورة الاحزاب:21

’’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔‘‘

یہ آیت سیرت کا خلاصہ ہے۔

اسوۂ حسنہ۔

ایک ایسا نمونہ جسے صرف پڑھنا نہیں، اپنانا ہے۔

چودہ صدیاں گزر گئیں، سوال آج بھی وہی ہے

زمانے بدل گئے۔اونٹوں کی جگہ گاڑیاں آ گئیں۔مٹی کے گھروں کی جگہ بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہوگئیں۔چراغوں کی جگہ بجلی آگئی۔خطوط کی جگہ پیغامات نے لے لی۔بازار بدل گئے۔لباس بدل گئے۔زبانیں بدل گئیں۔

لیکن انسان؟

اس کے بنیادی سوال آج بھی وہی ہیں۔

میں کون ہوں؟

میں یہاں کیوں آیا ہوں؟

میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟

مجھے کس کے سامنے جھکنا ہے؟

مجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چلنا ہے یا اپنے رب کے حکم کے مطابق؟

آج انسان کے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔اس کے پاس رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر دل تنہائی کا شکار ہے۔اس کے پاس دولت کمانے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر سکون کم ہے۔آج بت شاید پتھر کے نہیں، مگر انسان دولت، شہرت، خواہش، طاقت، انا اور اپنی ذات کو مرکز بنا سکتا ہے۔کل انسان بت کے سامنے جھکتا تھا؛ آج وہ کبھی اپنی خواہش کے سامنے جھکتا ہے، کبھی اپنے نفس کے سامنے، کبھی معاشرے کی پسند کے سامنے، اور کبھی دنیا کی چمک دمک کے سامنے۔

اس لیے محمد ﷺ کی سیرت آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کل تھی۔

بلکہ شاید آج انسان کو اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

سیرت تاریخ نہیں، آئینہ ہے

سیرت  صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ محمد ﷺ کے ساتھ کیا ہوا۔یہ آپ سے یہ بھی پوچھے گی:

محمد ﷺ کے ساتھ جو ہوا، اس سے آپ نے کیا سیکھا؟

طائف میں آپ ﷺ کو پتھر مارے گئے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ طائف میں کیا ہوا۔

سوال یہ ہے:

جب لوگ آپ کو تکلیف دیں گے تو آپ کیا کریں گے؟

اُحد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا۔

سوال صرف یہ نہیں کہ اُحد میں کون غالب آیا۔

سوال یہ ہے:

جب آپ سے غلطی ہو جائے گی تو آپ کیا کریں گے؟

فتح مکہ آئی۔

سوال صرف یہ نہیں کہ مکہ کیسے فتح ہوا۔

سوال یہ ہے:

جب آپ کو اپنے دشمنوں پر اختیار مل جائے تو آپ کا اخلاق کیا ہوگا؟

آپ ﷺ نے فقر بھی دیکھا اور مال بھی۔

تنہائی بھی دیکھی اور اقتدار بھی۔

غم بھی دیکھا اور فتح بھی۔

محبت بھی پائی اور مخالفت بھی برداشت کی۔اور ہر حال میں اپنے رب کے بندے رہے۔یہی سیرت کا کمال ہے۔

سیرت کا سب سے بڑا سبق: اللہ کے ہو جاؤ

محمد ﷺ کی پوری زندگی کا خلاصہ اگر چند الفاظ میں بیان کرنا ہو تو شاید اس سے بہتر کوئی تعبیر نہ ہو:

ہمہ اوقات بالله و مع الله و بامر الله

بہر آن و زماں لله و في الله و لوجہ الله

ہر وقت اللہ کے ساتھ، اللہ کے ہمراہ اور اللہ کے حکم کے مطابق۔

ہر آن اور ہر زمانے میں اللہ ہی کے لیے، اللہ ہی کی خاطر اور اللہ کی رضا کے لیے۔

مختصر یہ کہ اللہ کے ہو جاؤ۔

آپ ﷺ نے اپنی زندگی کو اپنی خواہشات کے تابع نہیں کیا بلکہ اللہ کی وحی کے تابع کیا۔اللہ نے جو حکم دیا، اسے قبول کیا۔اللہ نے جس چیز سے روکا، اس سے رک گئے۔اللہ نے جس راستے کی طرف بلایا، اس پر چل پڑے۔اور اپنی پوری زندگی کے ذریعے امت کو یہ سکھا دیا کہ حقیقی آزادی خواہشات کی غلامی میں نہیں، بلکہ صرف اللہ کی بندگی میں ہے۔

اسی لیے قرآن نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ   ﴿سورۃ النجم : 1-2

’’اور وہ(محمد ﷺ) اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘

یہ مقام کسی عام انسان کا نہیں تھا۔یہ اللہ کے آخری نبی اور رسول کا مقام تھا۔اور اسی لیے ہمیں آپ ﷺ کی سیرت کو پڑھتے ہوئے عقیدت کے ساتھ ساتھ اتباع کا جذبہ بھی پیدا کرنا چاہیے۔

محض محبت کا دعویٰ کافی نہیں۔محبت کا ثبوت اتباع ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ﴿سورة ال عمران:31

’’کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

سیرت کیوں پڑھیں؟

ہم سیرت  صرف اس لیے نہیں پڑھیں گے کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ محمد ﷺ کب پیدا ہوئے۔ہم یہ جاننے کے لیے بھی نہیں پڑھیں گے کہ فلاں غزوہ کب ہوا اور فلاں شخص کب مسلمان ہوا۔ہم سیرت اس لیے پڑھیں گے کہ ہمیں معلوم ہو:

محمد ﷺ کون تھے؟

ان کا رب سے تعلق کیسا تھا؟

ان کی عبادت کیسی تھی؟

ان کا اخلاق کیسا تھا؟

ان کا گھر کیسا تھا؟

ان کی دعوت کا طریقہ کیا تھا؟

ان کی مشکلات میں حکمت کیا تھی؟

ان کی کامیابی میں عاجزی کیا تھی؟

ان کی قیادت میں عدل کیا تھا؟

ان کے دشمنوں کے ساتھ برتاؤ میں کون سا اخلاق تھا؟

اور سب سے بڑھ کر:

ہم اپنی زندگی میں ان کی سنت کو کیسے زندہ کر سکتے ہیں؟

کیونکہ سیرت کا مقصد ماضی میں واپس جانا نہیں۔

سیرت کا مقصد ماضی کی روشنی سے حال کو روشن کرنا ہے۔

قمرِ بنی ہاشم ﷺ

اسی محبت اور اسی نسبت سے میں نے اس کتاب کا نام رکھا ہے:

قمرِ بنی ہاشم ﷺ

چاند رات کے اندھیرے میں اپنی روشنی سے مسافروں کے لیے سمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ وہ رات کی تاریکی میں ایک نمایاں نشان بن جاتا ہے۔

اور محمد ﷺ کی بعثت بھی ایک ایسے دور میں ہوئی جب انسانیت کو ہدایت کی روشنی کی شدید ضرورت تھی۔

آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلایا۔آپ ﷺ نے توحید کی دعوت دی۔آپ ﷺ نے قرآن سنایا۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے ذریعے قرآن کی عملی تصویر پیش کی۔آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ حقیقی کامیابی دنیا کی چمک میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔

اسی مناسبت سے قمرِ بنی ہاشم—بنی ہاشم کے اس عظیم فرزند کی طرف نسبت، جنہیں اللہ تعالیٰ نے آخری نبی و رسول بنا کر تمام انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔البتہ حقیقی نور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، اور رسول اللہ ﷺ اس ہدایت کے مبلغ، مبشر، منذر اور اسوۂ حسنہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا﴿سورة الاحزاب:45

’’اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

یہی سراجِ منیر ہماری اس کتاب کے عنوان کے پیچھے موجود اصل مفہوم ہے۔

ایک گزارش

اس کتاب میں جو کچھ درست ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوگا، اور جو غلط ہوگا وہ میری کم علمی اور انسانی خطا کا نتیجہ ہوگا۔

میں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن، صحیح احادیث اور معتبر تاریخی روایات کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ جہاں روایت کے درجے میں اختلاف یا کمزوری ہو، وہاں تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ اسے بلا تحقیق قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی، معمولی معاملہ نہیں۔

دین کا معیار اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح سنت ہے۔

اگر اس کتاب میں کہیں میری کوئی بات قرآن یا صحیح سنت کے خلاف ہو تو میری بات کو چھوڑ دیا جائے اور قرآن و سنت کو اختیار کیا جائے۔

آئیے، اس سفر کا آغاز کرتے ہیں

اب آئیے۔

مکہ کی ان گلیوں کی طرف چلتے ہیں جہاں ایک یتیم بچہ پروان چڑھا۔اس گھر کی طرف چلتے ہیں جہاں محمد ﷺ کی ولادت ہوئی۔اس زمانے کی طرف واپس چلتے ہیں جہاں عرب اپنی جاہلیت میں مبتلا تھا۔اس غار کی طرف چلتے ہیں جہاں پہلی وحی نازل ہوئی۔ان لوگوں کے درمیان چلتے ہیں جنہوں نے ایمان کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا۔ان راستوں پر چلتے ہیں جن پر ہجرت کرنے والے قدموں کے نشان چھوڑ گئے۔بدر کے میدان میں کھڑے ہوتے ہیں۔اُحد کی آزمائش دیکھتے ہیں۔خندق کی راتوں کی شدت محسوس کرتے ہیں۔

حدیبیہ کی حکمت سمجھتے ہیں۔مکہ کی فتح کے دن رسول اللہ ﷺ کی عاجزی دیکھتے ہیں۔اور پھر مدینہ کی اس مسجد میں پہنچتے ہیں جہاں سے ایک ایسی امت کی تربیت ہوئی جس نے دنیا کے نقشے ہی بدل دیے۔

لیکن اس پورے سفر میں ایک بات یاد رکھیے:

ہم کسی افسانوی کردار کی داستان پڑھنے نہیں جا رہے۔ہم کسی بادشاہ کی سوانح نہیں پڑھ رہے۔ہم کسی فلسفی کی زندگی کا مطالعہ نہیں کر رہے۔ہم اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ کی سیرت پڑھ رہے ہیں۔

وہ نبی جن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔وہ رسول جن کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔وہ ہستی جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بہترین نمونہ بنایا۔اور وہ انسان جن کی زندگی میں ہمیں قیامت تک کے لیے ہدایت کا راستہ دکھائی دیتا ہے۔لہٰذا اس کتاب کو صرف آنکھوں سے نہ پڑھیں۔دل سے پڑھیں۔واقعات کو صرف یاد نہ کریں۔ان سے سبق لیں۔محمد ﷺ کے حالات صرف جاننے کی کوشش نہ کریں۔محمد ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ دینے کی کوشش کریں۔

شاید یہ کتاب پڑھتے پڑھتے ہم خود سے یہ سوال کرنے لگیں:

اگر محمد ﷺ آج میری زندگی دیکھتے تو کیا میں ان کی سنت پر چلنے والا شخص نظر آتا؟

اور شاید یہی سوال اس کتاب کی سب سے بڑی کامیابی ہو۔کیونکہ سیرت کا مقصد ہمیں ماضی میں لے جانا نہیں۔سیرت کا مقصد یہ ہے کہ محمد ﷺ کی روشنی میں ہمارا آج بدل جائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معمولی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اس کتاب میں حق بات بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، غلطی سے محفوظ رکھے، رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت اور اتباع نصیب فرمائے، قرآن و سنت کو ہماری زندگی کا دستور بنائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں قیامت کے دن کہا جائے گا کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ کو مانا، ان سے محبت کی، ان کی پیروی کی اور ان کے راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔

اے اللہ! ہمیں محمد ﷺ کی سیرت پڑھنے والا ہی نہیں، ان کی سنت پر چلنے والا بنا۔اے اللہ! ہمارے دلوں میں توحید کو زندہ فرما۔

اے اللہ! ہمارے اخلاق کو نبوی اخلاق سے آراستہ فرما۔اے اللہ! ہمارے گھروں کو سنت کے نور سے روشن فرما۔اے اللہ! ہمارے اعمال کو اپنے نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق بنا۔

اور جب ہماری زندگی کا آخری سفر شروع ہو تو ہمیں ایمان، توحید اور سنت پر ثابت قدم رکھ، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے حبیب محمد ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ نصیب فرما۔

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔

آمین یا رب العالمین۔

واللہ اعلم بالصواب

علمی تدوین و اضافہ

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔