بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

Tag: محمد اویس سبحانی

Videos

آدم سے محمد تک

اس سفر کی ابتدا ساتویں صدی میں نہیں ہوئی نہ ہی اس وقت سے نہیں ہوتی جب زمین نے اپنا پہلا سانس لیا، نہ جب آسمانوں نے اپنے ستارے سجائے، نہ جب انسان کی مٹی نے شکل اختیار کی۔ نہیں۔بلکہ  یہ ابتداء اس سے بھی پہلے کی ہے — اس لمحے کی، جب کچھ بھی نہ تھا۔ نہ وقت، نہ مکان، نہ روشنی، نہ اندھیرا۔ صرف اللہ کی ذات تھی، اور اس کی ازلی حکمت۔

فہرستِ مباحث

اس خالی پن میں، جہاں نہ کوئی آواز تھی نہ کوئی حرکت، اللہ رب العزت نے سب سے پہلے ایک چیز کو وجود بخشا: قلم۔

وہ قلم جو تقدیروں کا معمار تھا۔ اللہ نے اسے حکم دیا:

“لکھو!”

قلم نے  عرض کی: “اے میرے رب! کیا لکھوں؟”

اور جواب آیا، جو کائنات کی بنیاد بن گیا:

“جو کچھ ہو چکا ہے اور جو قیامت تک ہونے والا ہے، سب لکھ دو۔”

قلم چل پڑا۔ اس کی نوک سے تقدیریں بہتی تھی ۔ ہر لکیر ایک زندگی تھی، ہر نقطہ ایک موت۔ وقت کی سانسیں اس نے گنیں، قسمتوں کے دروازے کھولے اور بند کیے۔ اور پھر، سب سے نمایاں، سب سے روشن لکیر میں، اس نے ایک فیصلہ رقم کر دیا جو تمام فیصلوں پر حاوی تھا:

کہ محمد ﷺ آخری نبی ہوں گے۔ خاتم النبیین۔

یہ فیصلہ اس وقت لکھا گیا جب آدم علیہ السلام ابھی مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔ نہ ان میں روح پھونکی گئی تھی، نہ وہ زمین پر اترے تھے۔ یہ  اللہ کا علم تھا، اور اس کا قلم جو لکھ رہا تھا کہ ایک دن، عرب کے صحراؤں میں، ایک یتیم بچہ پیدا ہوگا جو ساری کائنات کی رحمت بنے گا۔

عالمِ ارواح کا عہد

اس کے بعد ایک لمحہ آیا جو تاریخِ نبوت کا ستون بن گیا۔ اللہ نے تمام انبیاء کی روحوں سے عہد لیا۔ وہ سب وہاں تھے — نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور ہزاروں دیگر۔ سب کے سامنے اللہ کا سوال گونجا:

اگر میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں، اور پھر ایک رسول آئے جو تمہارے ساتھ جو کچھ ہے اس کی تصدیق کرے، تو تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے؟

سب نے کہا: “ہاں، ہم ایمان لائیں گے اور مدد کریں گے۔”

یہ وعدہ محمد ﷺ کے لیے تھا۔ وہ رسول جو سب کی تصدیق کرے گا، سب کا سلسلہ مکمل کرے گا۔ یہ عہد عالمِ ارواح میں ہوا، جہاں روحیں ابھی جسموں میں نہ آئی تھیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک عظیم اعلان تھا کہ نبوت کا سفر ایک دن مکہ کے ایک غار میں پہنچ کر اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔

آدم علیہ السلام: انسانیت کا پہلا باب

اللہ تعالیٰ نے جب زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کا اعلان فرمایا تو آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔اللہ نے اپنے ہاتھوں سے مٹی کو گوندھا۔ پانی ملا، شکل دی، اور پھر روح پھونکی۔ یوں آدم علیہ السلام کھڑے ہوئے۔ پہلا انسان۔

فرشتوں کو حکم ہوا: “اسے سجدہ کرو۔”

سب نے سر جھکا دیے۔ ایک نے نہیں۔ ابلیس۔ وہ جو جن تھا، آگ سے بنا، اور تکبر اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔ اس نے کہا: “میں اس سے بہتر ہوں۔ میں آگ سے، یہ مٹی سے۔”

اس ایک لمحے میں، انسانیت کا سب سے بڑا دشمن پیدا ہو گیا۔ ابلیس نے قسم کھائی کہ وہ آدم کی اولاد کو بہکائے گا، راستے سے ہٹائے گا، سیدھے راستے سے بھٹکائے گا۔

مگر اللہ نے آدم کو علم عطا کیااور تمام  اشیاء کے نام سکھائے۔ پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا فرشتوں نےعرض کی: اے اللہ ! تو پاک ہے ۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا ، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔پھر اللہ نےفرمایا: اے آدم!تم انہیں ان اشیاء کے نام بتادو۔ تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ نےفرمایا : اے فرشتو! کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔

پھر ایک عظیم منظر پیش آیا۔ اللہ نے آدم کے سامنے ان کی تمام ذریت کو پیش کیا — لاکھوں، کروڑوں روحیں، جو ابھی جسم نہ پا چکی تھیں۔ یہ انسانیت کا اپنے مستقبل سے پہلا تعارف تھا ۔

جنت سے زمین کی طرف

پھر اللہ نے آدم کو جنت میں بسایا۔ایسی جنت جہاں کمی کا کوئی تصور نہ تھا۔جہاں نعمتیں مانگنے سے پہلے موجود تھیں۔پھل جھکے ہوئے تھے، نہریں رواں تھیں،اور سکون—ایسا سکون جو کسی خوف سے آشنا نہ تھا۔اللہ نے آدم کی پسلی سے ان کے لیے سب سے بڑی نعمت ان کی بیوی حوا کو بنایا۔پس آدم اور حوّا وہاں تھے،جہاں نہ بھوک کا احساس، نہ پیاس کی جلن،نہ وقت کی قید، نہ موت کا خیال۔

بس ایک حکم تھا۔ایک حد۔ایک درخت—جس کے قریب جانا منع تھا۔

مگر ابلیس خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔

وہ جس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا،جسےبارگاہِ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا  گیا ،اس نے انتقام کو مقصد بنا لیا۔

اس نے وسوسہ ڈالاجس میں آواز میں مٹھاس اوربات میں فریب تھا۔

” تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ اور اس نے ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں”

یہ کھلا انکار نہ تھا،یہ بغاوت کی دعوت نہ تھی،یہ صرف شک تھا—اور شک، ایمان کی پہلی دراڑ ہوتا ہے۔پس اس نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔

اس وقت پھل چکھا گیا۔اور اسی لمحےوہ سب کچھ بدل گیا۔آنکھیں کھل گئیں—نور سےنہیں،بلکہ شرمندگی سے۔وہ اپنے آپ کو دیکھنے لگے،آخر پہلی بار خود کو بنا لباس کے محسوس کرنے لگے،جنت کی فضا اب ایک خطا کی گواہ بن چکی تھی ۔

انہوں نے خود کو ڈھانپنا چاہا،مگر اصل بوجھ جسم کا نہیں تھا—وہ دل پر تھا۔پھر آواز آئی۔نہ غضب کی گرج،نہ قہر کی چیخ—بس سوال:

“کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟اور کیا میں نے یہ نہ کہا تھاکہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟”

آدم ٹوٹ گئے۔کوئی جواز نہیں،کوئی الزام نہیں،کوئی انا نہیں۔بس اعتراف تھا—اور آنسوؤں میں ڈوبی دعا:

“اے ہمارے رب!ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔اگر تو ہمیں نہ بخشےاور ہم پر رحم نہ کرےتو ہم یقیناً خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”

اور وہ رب جو سزا سے پہلے توبہ قبول کرتا ہے—اس نے معاف کر دیا۔کیونکہ وہ توّاب ہے،اور رحیم ہے۔

پھر حکم آیا:

“اب زمین پر اتر جاؤ۔وہاں تم رہو گے۔وہاں تم آزمائے جاؤ گے۔تم میں سے بعضایک دوسرے کے دشمن ہوں گے—لیکن میری ہدایت آئے گی۔جو اس کی پیروی کرے گاوہ نہ گمراہ ہو گانہ بدبخت۔”

یہ جنت سے نکالا جانا سزا نہ تھا۔یہ انسانیت کا پہلا قدم تھا۔زمین اب صرف مٹی نہیں تھی—یہ امتحان گاہ  بن چکی تھی۔اور آدم،پہلے انسان،پہلے نبی، پہلے خطاءکے بعد  توبہ کرنے والےیعنی انسانی تاریخ کی ابتدا ءبن چکاتھے۔

توحید سے شرک کا سفر

ابتدا میں ساری انسانیت ایک ہی دین پر تھی۔ اللہ کی عبادت، اس کی فرمانبرداری۔ سب مسلمان تھے — اللہ کے سامنے جھکنے والے۔

مگر ابلیس نے چال چلی۔ وہ اور اس کے ساتھی آسمانوں کی خبروں کو چرانے کی کوشش کرتے، جھوٹ ملا کر زمین پر پھیلاتے۔ لوگوں کو بہکاتے۔

ایک دن اس نے لوگوں کو نیک مردوں کی یاد دلائی۔ وہ مرد جو گزر چکے تھے — وڈ، سواع، یغوث، یعوق، نسر۔ پہلے کہا: “ان کی مجسمے بنا لو، یاد کے لیے۔”

لوگوں نے بنائے۔ پھر شیطان بولا: “یہ وسیلہ ہیں، ان کے ذریعے اللہ تک پہنچو۔”

اور آخرکار: “یہ خود معبود ہیں۔”

یوں توحید میں شرک داخل ہو گیا۔ خالص ایمان میں میلہ پن آ گیا۔

نوح:

ابتدا میں انسانیت  ایک ہی امت تھی ۔ایک ہی رب،ایک ہی سجدہ،ایک ہی اطاعت۔زمین پر بسنے والی پوری انسانیت اللہ کی بندگی جانتی تھی، اسی کے سامنے جھکتی تھی،اور اسی کو واحد معبود مانتی تھی۔کوئی بت نہ تھا،کوئی وسیلہ نہ تھا،کوئی شریک نہ تھا۔یہی وہ دین تھاجس پر آدم کی اولاد پلی بڑھی—خالص، سیدھی،سچی راہ۔

مگر ابلیس انتظار میں تھا۔وہ جانتا تھا کہ انسان کو کھلے انکار سے نہیں توڑا جاسکتا،انکار سے پہلے خیال آتا ہے،اور خیال سے پہلے یاد۔

وہ اور اس کے ساتھی آسمانوں کی طرف لپکتے،ایک کے اوپر ایک چڑھ کرخبروں کے ٹکڑے سننے کی کوشش کرتے،پھر اور زمین پر آ کر ان باتوں کو کاہنوں اور جادوگروں کو بتا دیتے وہ بدبخت اس ایک بات میں سو  جھوٹ ملاتا،اورانہیں سچ بنا کر پھیلا دیتا۔یوں لوگ حیران ہوتے،متاثر ہوتے،اور آہستہ آہستہ بہکنے لگتے۔

پھر ایک دن ابلیس نے ایک راستہ چنازیادہ خاموش،زیادہ خطرناک۔اس نے لوگوں کوان نیک مردوں کی یاد دلائیجو کبھی ان کے درمیان رہے تھے۔وَدّ…سُواع…یغوث…یعوق…نسر…ایسے لوگ جن کی زندگیاں عبادت تھیں، جن کے کردار چراغ تھے، جن کے جانے کے بعد دل خالی ہو گئے تھے۔

ابلیس نے کہا:

“انہیں بھول نہ جانا۔ان کی یاد باقی رکھو۔بس ان کی تصویریں،ان کے مجسمے بنا لو—صرف یاد کے لیے۔”

لوگ مان گئے۔نیت میں عبادت نہ تھی،صرف عقیدت تھی۔پھر وقت گزرا۔نسلیں بدلیں،اصل مقصد دھندلا گیا۔ابلیس پھر آیا—

اور اس نے کہا:

“یہ اللہ کے قریب تھے۔ان کے ذریعے مانگو،یہ تمہاری سفارش کریں گے۔”

اور پھرآخری وار:

“یہ خود مقدس ہیں۔یہی تمہارے معبود ہیں۔”

یوں توحید میں دراڑ پڑی، اور اس دراڑ سے شرک داخل ہو گیا۔ خالص ایمان آلودہ ہو گیا۔

نوح علیہ السلام

جب زمین پر شرک جڑ پکڑ گیا،جب بت سجدوں کے عادی ہو گئے،اور انسان رب کو بھولنے لگا—تو اللہ نے نوح کو بھیجا۔آدم اور نوح کے درمیان

کتنا وقت گزرا؟ہم نہیں جانتے۔صدیاں؟یا اس سے بھی زیادہ؟مگر یہ حقیقت روشن تھیکہ نوح پہلی انسانیت کے لیے اٹھائے گئے۔

نوح نے پکارا۔نرمی سے،درد سے،اور پھر صبر سے۔نو سو پچاس سال۔راتوں میں،دنوں میں،تنہائی میں،مجمع میں۔وہ تھکے نہیں،وہ رکے نہیں۔ لوگ ہنستے تھے،طنز کرتے تھے،پتھر مارتے تھے۔انہوں نے کہا: اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، اور نہ وَدّ کو چھوڑنا، نہ سُواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔

 اور نوح جواب دیتے تھے:

“اے میری قوم! میں تمہارے لیے ایک کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔ اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔ بے شک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے تو اسے مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش تم جانتے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا پاس نہیں رکھتے؟ حالانکہ اسی نے تمہیں مختلف مرحلوں سے پیدا کیا۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے؟ اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو روشن چراغ بنایا؟

اور اللہ ہی نے تمہیں زمین سے ایک خاص طریقے سے اگایا، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں لوٹائے گا اور پھر اسی سے دوبارہ نکالے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے کشادہ فرش بنا دیا، تاکہ تم اس میں کھلے راستوں پر چل سکو۔”

مگر ایمان لانے والےگنے چنے تھے—چند گھرانے،چند دل۔ پھر نوح نے اپنے رب کے سامنے عرض کیا:

“اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن پکارا، مگر میری دعوت نے ان کی دوری ہی بڑھائی۔ جب بھی میں نے انہیں بلایا کہ تو انہیں بخش دے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں، اپنے کپڑوں سے اپنے چہرے ڈھانپ لیے، اپنی ضد پر اڑ گئے اور بڑے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔

پھر میں نے انہیں کھلے عام بھی دعوت دی، اور کبھی پوشیدہ طور پر بھی سمجھایا۔ میں نے ان سے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا، تمہارے مال اور اولاد میں اضافہ کرے گا، تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔

 

پھر وہ دن آیاجب آسمان نے خود کو کھول دیا۔بارش نہیں—فیصلہ برسنے لگا۔زمین پھٹ گئی،پانی اُبل پڑا،سمندر اور آسمان ایک ہو گئے۔ طوفان آیا۔ سب کچھ ڈوب گیا—گھر،بت،غرور،اور گناہ۔

صرف وہ بچےجو اس کشتی میں تھے جسے نوح نے اللہ کے حکم سے بنایا تھا۔اور جب پانی اُترا،جب خاموشی لوٹی—تو  انسانیت نوح کی اولاد سے آگے بڑھی۔یہ انجام نہ تھا۔یہ ایک نیا آغاز تھا۔توحید کی حفاظت کا نیا دور۔اور دور کہیں،ازل میں لکھی ہوئی وہ سطراب بھی روشن تھی—کہ ایک دن اسی اولاد ِ نوح میں سے محمد ﷺ آئیں گے،اور نبوت کے اس طویل سفر کوہمیشہ کے لیے مکمل کر دیں گے۔

ابراہیم علیہ السلام

طوفان کا پانی اتر چکا تھا۔ زمین نے ایک گہری سانس لی، جیسے برسوں کی اذیت کے بعد سکون پا رہی ہو۔ نوح علیہ السلام کی کشتی ایک پہاڑ کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔ دروازہ کھلا، اور چند گھرانے — وہ چند خوش نصیب جو اللہ کی رحمت کے سائے میں بچ گئے تھے — باہر نکلے۔ ہوا میں ابھی بھی مٹی اور پانی کی مہک تھی، مگر آسمان صاف تھا۔

انسانیت دوبارہ پھیلنے لگی۔ نوح کی اولاد سے نسلیں بڑھیں، قبیلے بنے، بستیاں بسیں۔ زمین کے کونے کونے میں لوگ آباد ہوئے۔ کچھ دریاؤں کے کنارے، کچھ پہاڑوں میں، کچھ میدانی علاقوں میں۔ تہذیب اٹھنے لگی۔ زبانیں الگ ہوئیں، رسم و رواج مختلف ہوئے۔ اور ایک شہر ابھرا جو اپنے وقت کا مرکز بن گیا: بابل۔

بابل — علم کا شہر، تجارت کا گڑھ، بلند میناروں اور شاندار محلات والا۔ یہاں لوگ ستاروں کی پوجا کرتے، بت تراشتے، اور اپنی طاقت پر نازاں تھے۔ مگر دل خالی تھے۔ نوح کا سبق بھلا دیا گیا تھا۔ طوفان کی داستان اب صرف ایک پرانی کہانی بن چکی تھی، جسے بوڑھے لوگ بچوں کو سنانے کے لیے دہراتے۔

بت پرستی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا میں ابراہیم علیہ السلام توحید کے علمبردار بن کر ابھرے۔ابراہیم کا دل مختلف تھا۔ وہ راتوں کو آسمان کی طرف دیکھتا، ستاروں کو، چاند کو، سورج کو۔ سوچتا: “یہ سب کیسے بنے؟ یہ خود کیسے چمکتے ہیں؟ یہ تو خود بدلتے ہیں، یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟”

 انہوں نے اپنے والد اور اپنی قوم کو للکارا، عقل اور جرات کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بت نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔حتی کہ ایک وقت آیا کہ رات اپنی سیاہی پھیلا چکی تھی۔بابل کی زمین پر بتوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے، اور آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے۔یہ وہی ستارے تھے جنہیں ابراہیم علیہ السلام کی قوم رب مانتی تھی۔

ابراہیم علیہ السلام نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔ایک روشن ستارہ چمک رہا تھا۔انہوں نے کہا —“یہ میرا رب ہے؟”

قوم چونک گئی۔یہ ان کے اپنے معبودوں کی زبان تھی۔مگر ابھی بات ختم نہ ہوئی۔کچھ ہی دیر بعد وہ ستارہ ڈوب گیا۔ابراہیم علیہ السلام بولے:

“میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

یہ جملہ تھا…مگر بتوں پر پہلی کاری ضرب۔پھر چاند نکلا۔ستارے سے بڑا، زیادہ روشن، زیادہ پرجلال۔ابراہیم علیہ السلام نے کہا:

“یہ میرا رب ہے؟”

قوم نے سکھ کا سانس لیا۔یہ معبود تو زیادہ طاقتور لگتا تھا۔مگر وقت گزرا…اور چاند بھی ڈوب گیا۔

ابراہیم علیہ السلام نے کہا:

“اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے، تو میں گمراہوں میں سے ہو جاؤں گا۔”

پھر سورج طلوع ہوا۔آسمان پر سب سے زیادہ روشن، سب سے بڑا، سب پر غالب۔ابراہیم علیہ السلام نے کہا:

“یہ میرا رب ہے! یہ سب سے بڑا ہے!”

قوم مطمئن ہو گئی۔یہی تو ان کا سب سے بڑا معبود تھا۔

مگر جب سورج بھی غروب ہو گیا…تو ابراہیم علیہ السلام نے آخری بات کہی —اور فیصلہ کن بات کہی:

“اے میری قوم! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔

میں نے تو اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یکسو ہو کر، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔”

یہ اعلان تھا۔یہ مناظرہ تھا۔یہ عقل کی زبان میں توحید کا اعلان تھا۔

ابراہیم علیہ السلام نے کسی ستارے، چاند یا سورج کو رب نہیں مانا —بلکہ ان کے زوال کو دکھا کر قوم کو سمجھایا کہ:

جو ڈوب جائے، وہ رب نہیں ہو سکتا۔جو بدل جائے، وہ اللہ  نہیں ہو سکتا۔

رب وہ ہے جو نہ ڈوبے، نہ بدلے، نہ فنا ہو۔

اور یہ اللہ کی وہ حجت تھی جو اللہ  نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کی۔

ابراہیم علیہ السلام نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

بابل کی فضا اب ابراہیم علیہ السلام کے لیے تنگ ہو چکی تھی۔حق کہہ دیا گیا تھا، مگر قوم نے سننا گوارا نہ کیا۔بت ٹوٹے تھے، مگر دل نہیں۔جب سرکشی حد سے بڑھ گئی، تو اللہ کا ہجرت کا حکم آیا ۔

یہ ہجرت کمزور کی نہیں تھی،یہ توحید کے عَلَم بردار کی روانگی تھی۔

ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ سارہ کے ساتھ بابل سے نکلے اور مصر کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ وہاں ایک طاقتور بادشاہ کی حکومت تھی—ایسا بادشاہ جو طاقت کے نشے میں حدود بھول چکا تھا۔ جب اسے خبر ملی کہ ایک حسین اور باوقار عورت اس سرزمین میں آئی ہے، تو اس نے سارہ کو اپنے دربار میں بلوانا چاہا۔

ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ اگر کہا گیا کہ یہ میری بیوی ہے، تو ظلم یقینی ہے۔انہوں نے فرمایا: “یہ میری بہن ہے”—یعنی دین میں بہن۔

البتہ جب بادشاہ نے ناپاک ارادے سے سارہ کی طرف بڑھنا چاہا، تو اللہ کی قدرت حرکت میں آئی۔ اس کے جسم پر ایسی گرفت ہوئی کہ وہ بے بس ہو گیا۔ خوف سے لرز اٹھا۔ اللہ نے اسے رسوا ہونے سے بچا لیا، مگر اس پر حقیقت کھل گئی—یہ عام لوگ نہیں، اللہ کے خاص بندے ہیں۔

شرمندگی کے عالم میں بادشاہ نے سارہ کو باعزت رخصت کیا،اور تحفے میں ایک پاکیزہ عورت عطا کی—ہاجرہ۔

یہ تحفہ نہیں تھا،یہ تقدیر کا ایک نیا باب تھا۔

سال گزرتے گئے۔ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے۔سارہ بظاہر بانجھ معلوم ہوتی تھیں۔اولاد کی امید ماند پڑ چکی تھی۔مگر اللہ کے وعدے عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کوان کی پیاری  ہاجرہ سے ایک پیارا بیٹا عطا فرمایا—اسماعیل علیہ السلام۔

  ان کی اطاعت اور وفاداری کا سب سے بڑا امتحان اس وقت آیا جب اللہ نے انہیں اپنے محبوب بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ذرہ برابر تردد کیے بغیر سرِ تسلیم خم کر دیا، تو اللہ نے اس قربانی کے بدلے ایک مینڈھا عطا فرمایا اور ان کی کامل فرمانبرداری کو قبول کیا۔

ابراہیم علیہ السلام کی میراث صرف ان کے زمانے تک محدود نہ رہی۔ اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر انہوں نے کعبہ کی تعمیر نو کی اور اسے صرف اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص کیا۔ جب وہ اس کی بنیادیں بلند کر رہے تھے تو ان کی زبان پر یہ دعا جاری تھی:

“اے ہمارے رب! ہم سے یہ قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔”

﴿سورۃ البقرہ: 127

اپنی قوم سے جدا ہونے سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے ایک عظیم پیش گوئی بھی کی اور اللہ کے حضور عرض کیا:

“اے ہمارے رب! انہی میں سے ایک رسول اٹھا، جو ان پر تیری آیات پڑھے، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔”

﴿سورۃ البقرہ: 129

ابراہیم علیہ السلام  ایک اور کرم یہ بھی ہواکہ سارہ کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا—اسحاق علیہ السلام۔

یوں اللہ نے ابراہیم کودو بیٹوں سے نوازا،اور دو عظیم قوموں کی بنیاد رکھ دی۔

اللہ فرماتا ہے:

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا

“اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے” ﴿سورۃالأنبیاء: 73

إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا

“میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں” ﴿سورۃ البقرہ: 124

بائبل میں آج بھی یہ  وعدہ درج ہے:

“میں تجھ سے ایک بڑی قوم بناؤں گا،تجھے برکت دوں گا،اور زمین کی ساری قومیں تیرے سبب برکت پائیں گی” ﴿تورات: پیدائش: 12 :2 -3 

یوں ایک بیٹے سےعربوں کی نسل چلی— یعنی اسماعیل کی اولاد۔

اور دوسرے بیٹے سےبنی اسرائیل— یعنی اسحاق، پھران کے بیٹے  یعقوب، پھر ان کی اولاد سے بارہ قبائل۔

نسلیں الگ ہو گئیں،مگر وعدہ ایک تھا۔

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے عرض کی کہ میری اولاد کو بھی فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ہے۔﴿سورۃ البقرہ: 124

اللہ کا وعدہ تھا، مگر شرط بھی واضح تھی۔ یعنی امامت، نبوت اور قیادت کا تاج ہر نسل کو نہیں ملنا تھا، بلکہ صرف ان کو جو اللہ کے سامنے جھکے رہیں۔

اسحاق سے بنی اسرائیل تک

اسحاق علیہ السلام سے یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے، جنہیں اسرائیل کہا گیا۔اور یعقوب سے بارہ بیٹے ہوئے، جن سے بنی اسرائیل کی بارہ شاخیں نکلیں:

روبیل،شمعون،لاوی،یہوداہ،دان،نفتالی،جاد،آشر،یساکر،زبولون،یوسف،بن یامین

ان سب میں یوسف علیہ السلام وہ ہستی تھے جنہیں اللہ نے حسن بھی دیا، صبر بھی، اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی۔

قرآن نے بہترین قصہ بیان کیا ۔ ایک حسد سے بھرا کنواں، ایک قید خانہ، اور پھر تخت کے قریب جگہ—یوسف کی زندگی خود ایک مکمل داستان تھی۔

وقت بدلا، تقدیر نے پلٹا کھایا، اور یوسف مصر کے بادشاہ کے سب سے قریبی انسان بن گئے۔ان کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آباد ہوئے—

اور صرف آباد ہی نہیں ہوئے، بلکہ عزت، سکون اور خوشحالی کی زندگی گزارنے لگے۔یہ شاہانہ زندگی تھی،نہ تاج تھا، نہ تخت،مگر عزت، امن اور روٹی میسر تھی۔

تخت وہی رہا، مگر دل بدل گئےپھر وقت نے کروٹ لی۔ تخت وتاج وہی تھا، مگر اہل تخت بدل چکے تھے۔

ایک نیا فرعون آیا—جو یوسف کو نہیں جانتا تھا،نہ ان کی قدر، نہ ان کی تاریخ۔اس نے بنی اسرائیل کو خطرہ سمجھا،اور ظلم کو قانون بنا دیا۔

ان کے بیٹوں کو قتل کیا جانے لگا،اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیا گیا—تاکہ غلامی باقی رہے۔

اسی ظلم کی تاریکی میں موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔پیدائش غلاموں میں،مگر پرورش دشمن کے محل میں۔

یہ اللہ کی حکمت تھی—کہ جس ہاتھ نے بچوں کو قتل کا حکم دیااسی محل میں موسیٰ پلیں۔پھر وقت آیا،اللہ نے موسیٰ کو نبوت عطا کی،عصا دیا،معجزے دیے،اور فرعون کو للکارنے بھیجا۔

جب بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پھنس گئےاور پیچھے فرعون کا لشکر تھا،تو اللہ نے سمندر کو چیر دیا۔راستہ بن گیا،قوم پار ہو گئی۔فرعون پیچھے آیا—اور وہیں ڈوب گیا۔

ڈوبتے وقت وہ چیخا:

“میں ایمان لایا!”مگر یہ ایمان نہیں تھا،یہ موت کی چیخ تھی۔جو خود کو اللہ  کہتا تھا،وہ خود کو بچا نہ سکا۔

موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر بلایا۔چالیس راتوں کا وعدہ تھا۔

وہ اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر گئے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا نگہبان مقرر کیا۔لیکن قوم کا دل ابھی مکمل طور پر آزاد نہ ہوا تھا۔جسم تو مصر سے نکل آیا تھا،مگر ذہن ابھی فرعون کی تہذیب میں قید تھا۔

موسیٰ علیہ السلام جب اللہ کے حکم سے کوہِ طور پر چالیس راتوں کے لیے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل ایک سخت آزمائش میں پڑ گئے۔ سامری نے لوگوں کے زیورات سے بچھڑے کا مجسمہ بنا کر انہیں یہ دھوکا دیا کہ یہی ان کا معبود ہے، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے فرعون کو غرق ہوتے اور اللہ کی قدرت کے عظیم معجزات دیکھ چکے تھے۔ ہارون علیہ السلام نے انہیں روکا اور سمجھایا کہ یہ صرف آزمائش ہے اور ان کا رب صرف اللہ ہے، مگر قوم نے انکار کیا اور بچھڑے کی پوجا میں لگ گئی۔ جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تو اس کھلی گمراہی پر سخت رنجیدہ اور غضبناک ہوئے، بچھڑے کو ختم کیا گیا اور بنی اسرائیل پر اللہ کا غضب نازل ہوا، تاہم توبہ کا دروازہ پھر بھی بند نہ ہوا۔

قوم موسی اس سب کے بعد بھی اپنے رب کی نافرمانی پر ڈٹ گئی۔

صحرا کی سختیاں شروع ہوئیں تو نافرمانیاں شروع ہو گئیں۔ پانی کی پیاس لگی تو موسیٰ علیہ السلام سے شکایت کی، اللہ نے عصا سے پتھر مارا تو بارہ چشمے پھوٹ نکلے—مگر وہ پھر بھی ناشکرے رہے۔کھانے میں منّ اور سلویٰ آسمان سے برس رہے تھے، مگر وہ چیخے:

اے موسٰی! ہم سے ایک ہی قِسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہو سکے گا.اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ساگ ، ککڑی ، گہیوں مسور اور پیاز دے آپ نے فرمایا بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے ۔

گائے ذبح کرنے کا حکم آیا تو سوال پر سوال کیے، یہاں تک کہ اللہ نے رنگ اور عمر تک بیان کر دی—پھر بھی دل سخت رہے۔پس  غضب پر غضب نازل ہوا۔

اسی قوم کے درمیان

اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک کی بشارت دی:

کہ اللہ ان کے بھائیوں میں سےایک ایسا نبی اٹھائے گاجو موسیٰ کی مانند ہوگا۔اللہ اپنا کلاماس کے منہ میں ڈالے گا،اور وہ وہی بولے گاجو اللہ چاہے گا۔

پھر موسیٰ علیہ السلام دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ان کے بعدبنی اسرائیل میں نبی آتے رہے:

یوشع بن نون،داؤد،سلیمان،ایوب،الیاس،الیسع،یونس،زکریا،یحییٰ اور کئی جن کے نام صرف اللہ جانتا ہے۔

نسل در نسل نبوت چلتی رہی۔ ایک نبی جاتا، دوسرا آتا۔مگر قوم نہ بدلی۔کچھ نبیوں کو جھٹلایا،کچھ کو قتل کیا،اور کچھ کے پیغام کو بدل دیا۔

یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تورات میں تحریفات کی اور اسے بدل کر رکھ دیا اور کہہ دیا:

“یہ اللہ کی طرف سے ہے!”

عیسیٰ علیہ السلام

پھر اللہ نےان پر آخری حجت قائم کی۔عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا—کنواری مریم سےبغیر باپ کے پیدا کیے گئے۔یہ خود ایک معجزہ تھا۔پھر معجزات پر معجزات:

اندھے دیکھنے لگے،کوڑھی شفا پانے لگے،مردے اللہ کے حکم سے زندہ ہوئے۔وہ بتاتے تھےکہ تم گھر سے کیا کھا کر آئےاور گھر میں کیا چھوڑ آئے۔وہ مٹی سے پرندہ بناتےاور وہ اڑنے لگتا—اللہ کے حکم سے۔

مگر پھر بھی انہوں نے کہا:

یہ جادو ہے۔

اور پھراسی مسیح کوقتل کرنے کا ارادہ کیاجو ان کی نجات کے لیے آیا تھا۔

اللہ نے ان کے منصوبے ناکام بنا دیے۔

عیسیٰ علیہ السلام کواپنی طرف اٹھا لیا۔اور جاتے جاتےوہ ایک اور بشارت سنا گئے:میرے بعداحمد آئے گے۔

عیسیٰ علیہ السلام نےان سے صاف کہہ دیا:

کیا تم نے نہیں دیکھاکہ جس پتھر کو معماروں نے رد کر دیا وہی کونے کا پتھر بن گیا؟اور پھر فرمایا:بادشاہت تم سے چھین لی جائے گی اور کسی اور قوم کو دے دی جائے گی۔

یہ فیصلہ تھا۔یہ اعلان تھا۔یہ انجام تھااس وعدے کا جو رب نے کیا تھا:

“میرا وعدہ ظالموں کے ساتھ نہیں”

امامت کا وعدہ،بادشاہت کا وعدہ،آخری نبی کا وعدہ—یہ بنی اسرائیل کے لیے نہ تھا۔کیونکہ وہ ظلم پر قائم رہے۔یہ وعدہابراہیم کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی نسل کے لیے تھا۔اور وہ وعدہ آخرکارپورا ہو کر رہا۔۔۔

خاتم النبیین ﷺ

آدم سے لے کر عیسیٰ تک، نبوت کا یہ سلسلہ انسانیت کو آخری رسول کی آمد کے لیے تیار کرتا رہا۔ تورات اور انجیل جیسی آسمانی کتابوں میں محمد ﷺ کی آمد کی واضح نشانیاں موجود تھیں۔

تورات میں آیا ہے:

“رب سینا سے آیا، اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا، اور جبلِ فاران سے چمکا۔”

 

﴿تورات : استثنا: 2: 33 

 

 

جبلِ فاران سے مراد مکہ ہے، جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کی سرزمین ہے۔

انجیل میں آیا ہے:

“لیکن جب وہ حق کی روح آئے گا ، تو وہ تمہیں ساری سچائی کی طرف رہنمائی کرے گا۔ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا، بلکہ جو سنے گا وہی کہے گا، اور تمہیں آنے والی باتوں کی خبر دے گا۔”

 

﴿انجیل ِ یوحنا:13 : 16

 

 

یہ تمام پیش گوئیاں ایسے انسان کی طرف اشارہ کرتی تھیں جو اللہ کی رحمت کا پیکر ہوگا اور اس کی ہدایت کو مکمل کرے گا۔

چنانچہ ہاتھیوں کے سال، شہرِ مکہ کی مقدس سرزمین میں محمد ﷺ کی ولادت ہوئی۔ آپ ﷺ صرف صدیوں پرانی پیش گوئیوں کا جواب ہی نہیں تھے بلکہ اللہ کی رحمت کا مجسم اظہار تھے، جنہیں اسلام اور توحید کے پرچم تلے پوری انسانیت کو متحد کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ آپ ﷺ کی رسالت کسی ایک قوم تک محدود نہ تھی بلکہ تمام انسانیت کے لیے تھی، ایسا پیغام لے کر جو زمان و مکان کی قید سے بالا ہے۔

آپ ﷺ پر وحی کے سلسلے کا اختتام ہوا، مگر اس کی روشنی آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے اور خالق کی طرف بلاتی ہے۔ محمد ﷺ کی زندگی عدل، رحمت اور ابدی حق کی تلاش کرنے والوں کے لیے ہمیشہ سے رہنمائی کا چراغ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

واللہ اعلم بالصواب

علمی تدوین و اضافہ

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔