نماز میں مردوں کا لباس
نماز میں مردوں کا لباس کیسا ہو؟
نماز میں مردوں کے لیے لباس کے باب میں سے ہے کہ ستر چھپا ہوا ہو۔ یعنی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ مردوں کا ستر ہوتا ہے۔ ﴿مسند امام احمد، حدیث: 6756﴾وہ اس طرح چھپا ہو کہ نہ تو چست لباس کی وجہ سے اعضا ظاہر ہو رہے ہوں اور نہ کپڑا اتنا باریک ہو کہ جسم کی رنگت نظر آ رہی ہو۔ گرم ممالک میں گرمیوں کے موسم میں مرد بھی باریک کپڑے پہنتے ہیں۔ قمیض کا تو خیر کوئی مسئلہ نہیں لیکن شلوار یا نیچے والا لباس بہرحال موٹے کپڑے کا ہونا چاہئے تا کہ ستر پوشی درست طریقے سے ہو۔
شب خوابی کے لباس میں نماز ادا کرنا
اگر کوئی شخص سو رہا تھا اور وہ نیند کے فوراً بعد نماز کے لیے آ رہا ہے تو اس کا لباس مناسب ہونا چاہئے۔ یہ نہیں کہ شب خوابی کے لباس میں ہی وہ مسجد میں آ جائے۔ ایسے لباس کہ جس میں وہ بازار۔۔۔۔جو کہ فرمان نبوی ﷺ کے مطابق دنیا کی سب سے بری جگہیں ہیں۔۔۔۔میں بھی جانا پسند نہ کرے، اس لباس میں وہ مسجد۔۔۔۔جو کہ دنیا کی بہترین جگہ ہے﴿صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الجلوس فی صلاة… حدیث: 671﴾ ۔۔۔۔میں حاضر ہو رہا ہو، یہ کس قدر نامناسب بات ہے۔ نمازِ فجر کے وقت بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں لوگ لمبی نیکریں اور بغیر بازوؤں والی شرٹس پہن کر نماز کے لیے آ جاتے ہیں، یہی ان کے سونے کا لباس ہوتا ہے۔ اگرچہ اس لباس میں نماز ہو جاتی ہے لیکن یہ کوئی مستحسن بات نہیں—یہ طرزِ عمل نصِ قرآنی کے برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴿سورۃالاعراف: 31﴾”اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لیا کرو” یعنی جب نماز ادا کرنی ہو تو لباس صاف ستھرا ہو۔
معروف تابعی نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسے لباس میں نماز ادا کر رہا تھا، جسے میں جانوروں کا چارہ کاٹتے وقت پہنا کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا تو ناراض ہوئے اور پوچھنے لگے کہ میں نے تو تمہیں کپڑے خرید کر دیئے تھے۔ اگر میں تمہیں اس لباس میں بازار بھیجوں تو کیا تم جاؤ گے؟
میں نے عرض کی: جی نہیں۔
وہ فرمانے لگے کہ پھر اللہ تعالیٰ تو زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی بارگاہ میں حاضری کے وقت زینت اختیار کی جائے۔ ﴿سنن کبریٰ بیہقی :3273 اس کی سند صحیح ہے﴾
ننگے سر نماز پڑھنا
کچھ مسائل ایسے ہیں کہ جن کا تعلق عادت، مزاج اور ماحول سے ہے، شریعت سے نہیں۔ یعنی شارع علیہ السلام نے اس بارے میں کچھ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ شریعت کا مسئلہ ہی نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس پہ اچھا خاصا بحث و جدل کا بازار گرم ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک مسئلہ ہے کہ دورانِ نماز مرد کا سر ننگا ہو یا اس پر ٹوپی عمامہ وغیرہ ہو…… کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ننگے سر نماز نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ان کے ہاں اس قدر اہتمام ہوتا ہے کہ مساجد میں میلی کچیلی بوسیدہ ٹوپیاں رکھی ہوتی ہیں۔ نمازی آتے ہیں، سر پہ ٹوپی پہنتے ہیں اور نماز شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایسی ”زینت“ ہے کہ کوئی شخص اس ٹوپی کے ساتھ کسی محفل میں جانا پسند نہ کرے لیکن نماز ایسی عالی شان عبادت میں وہ ایسی ٹوپی اوڑھتے ہیں۔
کچھ لوگوں کے ہاں اس کے برعکس سر ڈھانپنے کے لیے خوبصورت رومال ہوتا ہے لیکن وہ ننگے سر نماز پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ جہاں تک شریعت کی بات ہے، ہمیں کہیں بھی ایسی کوئی ہدایت نہیں ملتی کہ دورانِ نماز مردوں کا سر ڈھانپا ہوا ہو۔ البتہ یہ ضرور ملتا ہے کہ جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے سر پر اوڑھنی لازم ہے ورنہ اس کی نماز نہیں ہوگی۔ اور یہ بھی ملتا ہے کہ ایک بار نمازِ عشاء کے لیے نبی کریم ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو آپ کے سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ہاتھ مبارک کی انگلیوں سے بال سنوار رہے تھے۔ اس طرح آپ نے وضو فرمایا تو اپنے سر پہ موجود عمامے پہ مسح کیا۔ لیکن کہیں بھی مردوں کے لیے ایسی کوئی ہدایت نہیں کہ وہ سر ننگا رکھیں یا ڈھانپیں۔ یعنی یہ سرے سے ہی کوئی مسئلہ نہیں۔ خواہ مخواہ کی بحث اور مناظرہ ہے۔
البتہ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا عمومی اسوہ تھا کہ آپ نے سرِ مبارک ڈھانپا ہوتا تھا، اس لیے صرف نماز کے دوران ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی سر ڈھانپنا اچھی بات ہے ہاں اس کا تعلق عرف سے ہے نہ کہ گناہ ثواب سے۔
ننگے کندھوں کے ساتھ نماز ادا کرنا
مردوں کے لیے ضروری ہے کہ نماز میں ان کے کندھے ڈھانپے ہوئے ہوں۔ ننگے کندھوں کے ساتھ نماز ادا کرنا صحیح نہیں۔ نبی کریم ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
“کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔”﴿صحیح بخاری، کتاب الصلاة، باب اذا صلى في الثوب الواحد۔۔۔حدیث: 359﴾
بعض لوگ بنیان پہن کر نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں—اگر کسی نے مختصر لباس میں ہی نماز ادا کرنی ہے تو وہ کم از کم بازوؤں والی بنیان پہنے تاکہ اس کے کندھے ننگے نہ رہیں۔
تصویروں والے کپڑوں میں نماز ادا کرنا
اس مادیت زدہ دنیا میں لوگ خود کو ترقی یافتہ سمجھتے ہیں اور اس ترقی یافتہ دنیا کے دو فتنے سب سے بڑھ کر ہیں۔ ایک تصویر کا فتنہ اور دوسرا بے حیائی کا، جس کا مرکزی نقطہ عورت کو زیادہ سے زیادہ بے حجاب اور بے لباس کرنا ہے۔ تصویر کے فتنے سے مساجد بھی محفوظ نہیں۔ کتنے ہی نمازی ہیں کہ ان کی شرٹس پر جانداروں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں اور انہیں مسئلے کی سنگینی کا علم ہی نہیں ہوتا۔ معصوم بچے مساجد میں آتے ہیں۔ ان کے والدین نے انہیں جو کپڑے پہنائے ہوتے ہیں، ان پر تصاویر اور کارٹون بنے ہوتے ہیں۔ دوسرے نمازیوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوتی ہے اور خشوع میں فرق آتا ہے۔ یہاں تصویر سے مراد ذی روح کی تصویر ہے جو کہ شریعت میں جائز نہیں۔﴿ صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القيامة، حدیث: 5950﴾اس لیے چھوٹے بچوں کے سلسلے میں بھی والدین کو خصوصی احتیاط کرنی چاہیے۔ جب وہ انہیں مسجد میں لے کر آئیں تو انہیں ایسے لباس کہ جن پر جانداروں کی تصاویر بنی ہوں، پہنا کے نہ لائیں۔ ان میں نماز درست نہیں۔
نماز میں سدل کرنا اور چہرہ ڈھانپنا
اکثر نمازیوں کو اس مسئلے کا علم نہیں۔ زیادہ تر اس کوتاہی کا ارتکاب سردیوں کے موسم میں ہوتا ہے جب نمازی اضافی کپڑوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ سویٹر، جرسی، جیکٹ اور گرم چادروں کا استعمال ہوتا ہے۔ چادر یا مفلر یا کسی اور کپڑے کو گردن کے دونوں اطراف لٹکانا سدل کہلاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی چادر گردن میں ڈال کر اسے دونوں طرف لٹکالے، حالتِ نماز میں یہ درست نہیں۔ بازوؤں والی جرسی یا سویٹر یا جیکٹ کندھوں پہ اس طرح ڈالنا کہ دونوں بازو جرسی وغیرہ کی آستینوں میں نہ ہوں اور وہ کندھوں سے آگے کی طرف لٹک رہے ہوں تو یہ ”سدل“ کی شکل ہے اور دورانِ نماز اس طرح کرنا ممنوع ہے۔ اگر ایک طرف چادر لٹکی ہو اور دوسرا پلّو مخالف کندھے کی طرف موڑ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ ”بکل مارنا“، یعنی اس طرح چادر اوڑھنا کہ چہرے کا کچھ حصہ بھی چھپ جائے، نبی کریم ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
“رسول اللہ ﷺنے دورانِ نماز سدل کرنے اور چہرے ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔” ﴿سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما جاء فی السدل فی الصلاة، حدیث: 643۔ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔﴾
عموماً سردیوں میں چہرے ڈھانپے جاتے ہیں، جب سخت سردی پڑ رہی ہوتی ہے۔ گرم چادروں میں نماز کا مزا تو آتا ہے، مگر اس بات کی احتیاط کرنی چاہیے کہ چہرہ کھلا ہو۔ 2020ء میں جب کرونا کی ”مبینہ وبا“ نے دنیا کو اپنے دامن میں سمیٹا تو تقدیرِ الٰہی سے بھاگنے والوں نے مساجد کے دروازے نمازیوں پہ بند کر دیے۔ اس وقت عوامی مقامات پہ چہروں پہ ماسک لینا لازم کر دیا گیا۔ مساجد میں دو تین فٹ فاصلے پہ لوگوں کو کھڑا کر کے نمازیں پڑھائی گئیں۔ ان تکلیف دہ ایام میں لوگ چہروں پہ ماسک لگائے نماز ادا کرنے پہ مجبور تھے۔ یہاں تک کہ حرمین شریفین بھی اس آفت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ انا لله وانا اليه راجعون
کپڑے سمیٹ کر نماز ادا کرنا
بہت سے نمازی اس کوتاہی کا ارتکاب کرتے ہیں اور بہت ہی کم لوگ اس مسئلے سے باخبر ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث شریف اس مسئلے میں نصِ قطعی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
”مجھے سات ہڈیوں پر سجدے کا حکم دیا گیا اور اس بات کا کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔“ ﴿صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب لا یکف ثوبہ فی الصلاة، حدیث: 816﴾
مردوں کا پتلون میں نماز ادا کرنا
پتلون میں نماز ادا کرنا اگرچہ کوئی غلطی شمار ہو تو عالمِ مغرب میں لاکھوں مسلمان پھر کون سا لباس پہنیں۔۔۔ لباس صرف وہی غلط ہے جو کسی دوسری قوم کا شعار ہو یا جس میں شریعت کی مخالفت ہو رہی ہو، جس سے ستر پوشی نہ ہو رہی ہو یا جو عورتوں سے مشابہ ہو۔ پتلون کے متعلق صرف اتنی احتیاط ہونی چاہئے کہ یہ ٹائٹ نہ ہو۔ اس حد تک تنگ کہ مردوں کے زیریں جسم کی بناوٹ نمایاں ہو رہی ہو، یہ تو عام حالات میں پہننا درست نہیںچہ جائیکہ نماز میں ایسی پتلون پہنی جائے۔ اس لیے تنگ پتلون میں نماز ادا کرنا درست نہیں۔ ہم یہ فتویٰ نہیں لگاتے کہ اس کی نماز نہیں ہوگی۔ نماز ہونا نہ ہونا یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن تنگ پتلون میں مردوں کا نماز ادا کرنا سنگین غلطی ہے۔
مردوں کا باریک کپڑوں میں نماز ادا کرنا
بظاہر یہ عجیب سی بات لگتی ہے لیکن دورِ جدید کی قباحتوں میں سے ایک قباحت یہ بھی ہے کہ مردوں کے گرمیوں کے لباس اب ایسے مہین اور باریک آتے ہیں کہ ان میں سے جسم نظر آتا ہے۔ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے۔ جب باریک قمیص پہنی ہو اور نیچے بنیان بھی نہ ہو اور شلوار بھی باریک ہو تو ایسا لباس ستر پوشی کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ جب کہ ستر پوشی تو فرائضِ نماز ہی نہیں بلکہ نماز کے علاوہ بھی لازم اور ضروری ہے۔ اس لیے ایسی باریک شلوار کہ جس میں سے آپ کی جسمانی ہیئت نظر آرہی ہو، اس کا استعمال نماز سے ہٹ کے بھی درست نہیں۔
گرمیوں میں چھوٹی قمیصوں میں نماز ادا کرنا
بعض لوگوں کی قمیص قدرے چھوٹی ہوتی ہے۔ پھر گرمیوں میں یہ مضحکہ خیز منظر ہوتا ہے کہ وہ سجدے میں گئے ہوتے ہیں۔ پنکھا چل رہا ہوتا ہے اور ان کی قمیص کا پچھلا دامن اڑ کے ان کی کمر پہ آ چکا ہوتا ہے۔ اچٹتی سی سرسری سی نظر پڑ جائے تو شدید کراہت محسوس ہوتی ہے۔ اب اس کی مزید کیا منظر کشی کرنی۔ بس اتنی بات ہے کہ یہ منظر عزت و وقار اور شرم و حیا کے منافی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ گرمیوں میں آپ قدرے لمبی قمیص سلوائیں تاکہ سجدے میں جانے کے بعد آپ کی پشت واضح نہ ہو۔ اس پر قمیص کا زیریں کپڑا لٹک رہا ہو۔ بعض عقل مند سجدے میں اپنی قمیص کا پلو دونوں ایڑیوں میں پھنسا لیتے ہیں۔ یہ بھی اچھا طریقہ ہے۔ ویسے بھی سجدے میں سنت طریقہ تو یہی ہے کہ دونوں پاؤں ملے ہوئے ہوں۔
ٹخنوں سے نیچے شلوار وغیرہ ہونا
یہ نہایت سنگین اور ایک عام غلطی ہے۔ اس کی ایک وجہ بعض علماء کی طرف سے ٹخنوں کے نیچے لباس کو تکبر سے مشروط کیا گیا ہے۔ چنانچہ عام نمازی جب اپنے علماء سے یہ مسئلہ سنتے ہیں کہ اگر دل میں تکبر نہیں تو ٹخنوں سے نیچے لباس میں کوئی حرج نہیں تو وہ دورانِ نماز اپنے کپڑے ٹخنوں سے اوپر نہیں کرتے۔ جب کہ کتاب و سنت کی نصوص اس کے برعکس ہیں۔ ہمارا عمل جو بھی ہو اور ہمارے معاشرتی رسوم و رواج جیسے بھی ہوں، لوگوں کی نظروں کے زاویے جس قدر آڑے ترچھے ہوں، شریعت کا حکم بہرحال اپنی جگہ موجود اور مستحکم ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے پہ شدید وعید سنائی ہے۔ چونکہ چنانچہ اگرچہ مگر جتنی مرضی قیل و قال کریں، تاویلاتِ باطلہ و مفسدہ کے انبار لے آئیں، شریعت کا مسئلہ تبدیل ہونے والا نہیں۔ کیونکہ جن پہ وحی نازل ہوتی تھی اور مسائل میں ناسخ و منسوخ اور تغیر و تبدل ہوتا تھا، وہ ساڑھے چودہ سو برس پہلے کے رخصت ہو چکے۔ اب قیامت تک کتاب و سنت کے مسائل وہی رہیں گے جو اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں تھے۔ اور نبی کریم ﷺ نے واضح دو ٹوک فرمایا کہ ٹخنوں سے نیچے والا کپڑا آگ میں ہے۔ ﴿صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب ما اسفل من الكعبين فهو في النار، حدیث: 5787﴾
ان کی بات معتبر یا پاک و ہند کے اصحابِ جبہ و دستار کی۔۔۔۔۔؟
اس لیے!
جو لوگ دورانِ نماز اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، جان لیں کہ دانستہ و نادانستہ وہ شدید غلطی اور ایک بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ایک ایسا کام جو عام حالات میں بھی جائز نہیں، نماز کے بیچ کیسے درست ہو گیا؟
نماز کے بعد شلوار، پتلون وغیرہ ٹخنوں سے نیچے کرنا
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز کے وقت شلوار اور پتلون وغیرہ سمیٹی جاتی ہے اور نماز کے بعد انہیں نیچے کر لیا جاتا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
بات یہ ہے کہ نماز ہو یا غیر نماز، کسی بھی حالت میں ٹخنوں کے نیچے کپڑا ہونا سخت گناہ ہے۔ اگر کسی کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی، کسی کی عقل میں نہیں آتی کہ اتنی معمولی سی بات اور اتنا سنگین گناہ…… وہ اپنی سوچوں کا زاویہ درست کرے۔ دین کے متعلق اپنے اعتقادات کی سمت صحیح کرے۔ دین انسانی عقل کا مرہونِ منت نہیں، دین تو دلیل کا نام ہے اور دلیل ہے کتاب و سنت۔
اب اس مسئلہ کا ایک اور پہلو ملاحظہ فرمائیے!
بہت سے نمازی جو نہی نماز سے فارغ ہوتے ہیں، مسجد سے باہر نکلے نہیں اور ان کی شلوار، پینٹ ٹخنوں سے نیچے ہوئی نہیں۔ اللہ کے بندوں سے کوئی پوچھے کہ آپ نے دورانِ نماز اپنے کپڑے ٹخنوں سے اونچے کیوں کیے؟ کس کے کہنے پر کیے؟
اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے پر سخت وعید سنائی ہے تو اس میں ایک مسلمان کے پاس اگرچہ مگرچہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایک متسائل انسان اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دورانِ نماز اپنا کپڑا سمیٹ کر ٹخنے ننگے کرتا ہے تو اس کا فعل یہ درست ہوگا۔ کیونکہ ایک بڑے گناہ سے اس نے خود کو محفوظ کر لیا۔ غور و فکر کا مقام ہے کہ جن کے ارشاد اور حکم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اس نے دورانِ نماز اپنے کپڑے ٹخنوں سے بلند کیے، انہوں (ﷺ) نے ہی تو یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ایک مرد کا لباس ہمیشہ ٹخنوں سے اونچا ہی ہونا چاہیے۔ ﴿سنن أبي داؤد، كتاب اللباس، باب في قدر موضع الإزار، حديث: 4093﴾یہ حکم نماز کے لیے مخصوص نہیں اور نہ اس کا بطورِ خاص نماز سے تعلق ہے۔ یہ ایک عمومی حکم ہے جسے اجمالاً نا ماننا ءمومن کے ایمان کا امتحان ہے۔
اب نبی کریم ﷺ کا ایک حکم ماننا اور دوسرے حکم کی خلاف ورزی اور اس حد تک لا پروائی کہ ابھی اللہ تعالیٰ کے گھر میں ہی ہیں اور صفوں میں ہی ہیں اور آپ اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے کر رہے ہیں۔
ناطَقہ سر بہ گریباں ہے کہ اسے کیا کہیے
پینے سے شرابور اور میلے کچیلے لباس میں نماز ادا کرنا
بعض لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے اس غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ
خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴿سورۃ الاعراف: 31﴾
یعنی ادائیگیِ نماز کے وقت صاف ستھرا لباس ہو۔ حلیہ درست ہو، جسم میل کچیل سے پاک ہو، پینے کی بدبو نہ آرہی ہو۔ مؤدب ہو کر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوا جائے۔ اگر ننگا سر ہے تو بالوں میں کنگھی کی ہو۔ داڑھی میں بھی کنگھی کی ہو۔ بال جھاڑ جھنکار نظر نہ آرہے ہوں۔ اگر نمازی کوئی مکینک، رنگ ساز یا مزدور ہے تو وہ اپنے کام والے کپڑوں میں ہی نہ آ جائے جن پر درجنوں داغ ہوتے ہیں بلکہ نماز کے لیے اس کا الگ سے صاف ستھرا لباس ہونا چاہئے۔ ﴿صحيح البخاری، كتاب كتاب الجمعة، باب من أين تؤتى الجمعة، حديث: 902﴾
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
“لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے گھروں سے اور اطرافِ مدینہ گاؤں سے (مسجدِ نبوی میں) باری باری آیا کرتے تھے۔ لوگ گرد و غبار میں چلے آتے، گرد میں اٹے ہوئے اور پینے میں شرابور۔ اس قدر پسینہ ہوتا کہ تھمتا نہیں تھا۔ اسی حالت میں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ اس دن (جمعہ میں) غسل کر لیا کرتے تو بہتر ہوتا۔”
واللہ اعلم بالصواب
علمی تدوین و اضافہ
عمر فاروق قدوسی
عمر فاروق قدوسی اسلامی موضوعات پر لکھنے والے مصنف ہیں۔ ان کی تحریروں میں عبادات، نماز، طہارت، استخارہ اور دینی رہنمائی سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف میں خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، اللؤلؤ والمرجان اردو ترجمے کی ترتیب و تدوین ، انوار المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح کے عناوین، نبوی مجموعہ وظائف، اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں، نبیِ رحمت ﷺ کی راتیں اور استخارہ کتاب و سنت کی روشنی میں شامل ہیں۔