بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) نظر لگنا حق ہے اور سرمہ بھروانا ممنوع ہے

متفرق ابواب
باب: نظر لگنا حق ہے اور سرمہ بھروانا ممنوع ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 131

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَشْمِ".
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العين حق" ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوشم".
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگ جانا حق ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وشم» یعنی گود کر سرمہ بھروانے سے منع فرمایا۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم