بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کن کن صورتوں میں قصاص اور تاوان نہ لیا جائے

متفرق ابواب
باب: کن کن صورتوں میں قصاص اور تاوان نہ لیا جائے
احادیث:1

حدیث نمبر: 138

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالنَّارُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العجماء جرحها جبار، والبئر جبار، والمعدن جبار، والنار جبار، وفي الركاز الخمس"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کے زخمی (یا مارنے کا)، کان میں گرنے اور زخمی ہونے پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ آگ میں گر کر مر جانے پر بھی کوئی تاوان نہیں ہے اور دفینے میں سے 1/5 حصہ (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا) ہے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم