بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:16

متفرق ابواب
حدیث نمبر:16

حدیث نمبر:16

حَدَّثَنَا كَثِيرٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَمَّاهُمُ اللَّهُ الأَبْرَارَ، لأَنَّهُمْ بَرُّوا الآبَاءَ وَالأَبْنَاءَ، كَمَا أَنَّ لِوَالِدَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا كَذَلِكَ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ".
حدثنا كثير، حدثنا محمد بن خالد، عن الوصافي، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " سماهم الله الابرار، لانهم بروا الآباء والابناء، كما ان لوالديك عليك حقا كذلك لولدك عليك حق".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ان کا نام ابرار (نیکوکار) رکھا ہے، اس لیے کہ انہوں نے اپنے والدین اور اولاد کے ساتھ نیکیاں کیں۔ جیسا کہ تیرے والدین کا تجھ پر حق ہے، اسی طرح تیری اولاد کا بھی تجھ پر حق ہے۔“

قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم