بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:17

متفرق ابواب
حدیث نمبر:17

حدیث نمبر:17

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالصَّلاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، حَتَّى انْكَسَرَ لِسَانُهُ".
وعن ابن عمر، قال:" ما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوصي بالصلاة وما ملكت ايمانكم، حتى انكسر لسانه".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نماز اور غلاموں سے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ آپ کی زبان مبارک خاموش ہو گئی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم