کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں بھاگ گئے تھے؟ روایت کی مکمل تحقیقی حقیقت
“ہم سے بیان کیا ابو ہشام الرفاعی نے، انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا ابو بکر بن عیاش نے، انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا عاصم بن کلیب نے، انہوں نے اپنے والد (کلیب) سے روایت کیا، انہوں نے کہا: حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو سورہ آل عمران کی تلاوت کی—اور انہیں خطبے میں اس کی تلاوت کرنا پسند تھا۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے: ‘بیشک جو لوگ تم میں سے اس دن پیچھے ہٹ گئے جس دن دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئی تھیں۔۔۔’ [آل عمران: 155] تو انہوں نے (اپنے خطبے میں) فرمایا:
‘جب احد کا دن تھا، تو ہم نے انہیں (کفار کو) شکست دی، پھر (اکیلے میں) میں بھاگا یہاں تک کہ پہاڑ پر چڑھ گیا، اور میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس طرح چھلانگیں مار رہا تھا جیسے کوئی پہاڑی بکرا (ارویٰ) چھلانگیں مارتا ہے۔ اور لوگ کہہ رہے تھے کہ “محمد (ﷺ) شہید کر دیے گئے ہیں!” تو میں نے کہا: “میں جس کسی کو بھی یہ کہتے ہوئے پاؤں گا کہ محمد شہید ہو گئے ہیں، میں اسے قتل کر دوں گا!” یہاں تک کہ ہم سب پہاڑ پر اکٹھے ہو گئے، تو یہ آیت نازل ہوئی: “بیشک جو لوگ تم میں سے اس دن پیچھے ہٹ گئے جس دن دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئی تھیں۔۔۔” یعنی پوری آیت۔'”
﴿تفسیر طبری: 176/6﴾
شیعہ حضرات ایک روایت پیش کرتے ہیں جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ سے فرار ہو گئے تھے۔ ذیل میں اس روایت کا اصولِ حدیث کی روشنی میں سند اور متن دونوں اعتبار سے علمی جائزہ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
علت نمبر 1: ابو بکر بن عیاش کا اختلاط
ابو بکر بن عیاش صدوق اور بخاری مسلم کے راوی ہے۔ مگر یہ راوی مختلط ہوگئے تھے آخری وقت میں ان کا حافظہ بدل گیا تو شیعہ حضرات سے گزارش ہے کہ ثابت کرے یہ روایت مختلط سے پہلے ہے۔
علت نمبر 2: ابو ہشام الرفاعی کی تضعیف
اس کا راوی ابو ہشام الرفعی ہے وہ راوی ضعیف ہے اور جمہور نے اس پر جرح کی اور اجماع نقل کیا۔
محمد بن یزید بن محمد بن کثیر العجلی، ابو ہشام الرفاعی، الکوفی، مدائن کے قاضی (جج) تھے۔ یہ ‘قوی’ (یعنی حدیث میں مضبوط یا قابلِ اعتماد) نہیں ہیں، دسویں طبقہ کے صغار (چھوٹے راویوں) میں سے ہیں۔ ابن عدی نے ان کا ذکر امام بخاری کے شیوخ (اساتذہ) میں کیا ہے، اور خطیب (بغدادی) نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ امام بخاری نے ان سے روایت کی ہے، لیکن خود امام بخاری نے فرمایا ہے: ‘میں نے محدثین کو ان کی تضعیف (کمزور قرار دینے) پر متفق پایا ہے’۔ ان کی وفات 248 ہجری میں ہوئی۔ (ان کی روایات) مسلم، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہیں۔”
﴿تقریب التھذیب: 6402﴾
۶۴۰۲ – محمد بن یزید بن محمد بن کثیر العجلی، ابو ہشام الرفاعی، الکوفی، مدائن کے قاضی تھے؛ یہ ‘قوی’ نہیں ہیں، دسویں طبقہ کے صغار (چھوٹے راویوں) میں سے ہیں۔ ابن عدی نے ان کا ذکر امام بخاری کے شیوخ (اساتذہ) میں کیا ہے، اور خطیب (بغدادی) نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ امام بخاری نے ان سے روایت کی ہے، لیکن خود امام بخاری نے فرمایا ہے: ‘میں نے محدثین کو ان کی تضعیف (کمزور قرار دینے) پر متفق پایا ہے’۔ ان کی وفات ۲۴۸ ہجری میں ہوئی۔ (ان کی روایات) مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہیں۔”
“بلکہ (حق یہ ہے کہ) یہ ‘ضعیف’ (کمزور) راوی ہیں۔ ان کو امام بخاری، امام نسائی، ابن نمیر اور ابو حاتم الرازی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور عثمان بن ابی شیبہ نے تو انہیں جھوٹا (کذاب) کہا ہے۔ البتہ امام دارقطنی نے (کچھ نرمی کرتے ہوئے) انہیں ثقہ کہا ہے، اور ایک دوسری جگہ فرمایا: ‘ان کے شہر (کوفہ) کے لوگوں نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔’ اور امام بخاری نے (جیسا کہ اوپر گزرا) فرمایا: ‘میں نے محدثین کو ان کی تضعیف پر متفق پایا ہے’۔”
﴿تحریر تقریب التھذیب: 335/3﴾
علت نمبر 3: عاصم بن کلیب کا تفرد
عاصم بن كليب حب اپنے باپ کلیب سے روایت کرے تو اس کا تفرد قبول نہیں کیا جاۓ گا۔حلانکہ وہ ثقہ ہے اور ثقہ صدوق دونوں کا تفرد قبول ہوتا اگر روایت شاذ نہ ہو اور اوثق یا کسی حافظ راوی کے مخالف نہ ہو۔
امام علی بن مدینی فرماتے:
اس کی منفرد روایت سے حجت نہیں لی جاۓ گی۔
﴿کتاب الضعفاء والمتروکین:70/2﴾
امام البزار نے عاصم کی منفرد روایت پر جرح کرتے ہوے کہا:
“اور اس حدیث کو عاصم بن کلیب نے روایت کیا ہے، اور عاصم کی حدیث میں اضطراب (کمزوری) پایا جاتا ہے.
﴿مسند البزار:47/5﴾
امام احمد بن حنبل فرماتے ہے:
“اور میرے علم کے مطابق اسے عاصم سے (ابو بکر) النَھشَلی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔ گویا کہ انہوں نے (امام احمد نے) اس کا انکار کیا (یا اسے ناپسند کیا)۔”
﴿العلل ومعرفة الرجال:374/1﴾
علت نمبر 4: صحیح بخاری سے متن کی مخالفت
اس روایت کا متن صحیح بخاری کی صحیح اور زیادہ مضبوط روایت کے خلاف ہے۔ صحیح بخاری میں غزوۂ اُحد کے واقعہ کے دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کردار اس روایت سے مختلف بیان ہوا ہے۔ جب ابو سفیان نے یہ اعلان کیا کہ محمد ﷺ، ابوبکرؓ اور عمرؓ قتل ہو چکے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً اس کی تردید کرتے ہوئے جواب دیا کہ تم نے جھوٹ کہا، وہ سب زندہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں مذکور فرار اور پہاڑ پر چڑھنے کی تفصیل صحیح بخاری کی روایت سے موافق نہیں، لہٰذا یہ روایت شاذ اور متن کے اعتبار سے قابلِ اعتراض ہے۔
پھر ابو سفیان نے کہا: “کیا لوگوں میں محمد (ﷺ) موجود ہیں؟” انہوں نے یہ بات تین بار کہی۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع فرما دیا۔
پھر ابو سفیان نے کہا: “کیا لوگوں میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر صدیق) موجود ہیں؟” یہ بات بھی انہوں نے تین بار کہی۔ پھر کہا: “کیا لوگوں میں ابن الخطاب (حضرت عمر فاروق) موجود ہیں؟” یہ بھی تین بار کہا۔
اس کے بعد ابو سفیان اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا اور کہنے لگا: “جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے، تو یہ قتل ہو چکے ہیں۔” یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور (جوش میں آ کر) بولے: “اے اللہ کے دشمن، تو نے جھوٹ بولا ہے! جن کا تو نے نام لیا ہے، وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تمہاری رسوائی کے لیے بہت کچھ باقی ہے۔”
ابو سفیان نے کہا: “آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، اور لڑائی میں ہار جیت کی باری ہوتی ہے۔ تم اپنی قوم میں کچھ مقتولین کے ناک کان کٹے ہوئے (مثلہ کیے ہوئے) پاؤ گے، میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے یہ برا بھی نہیں لگا۔” پھر ابو سفیان فخر سے گنگنانے لگا: “ہبل (بت) بلند رہے، ہبل بلند رہے!”
نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: “تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟” صحابہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ہم کیا جواب دیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “کہو: اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔”
ابو سفیان نے کہا: “ہمارا تو عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں ہے۔” نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اسے جواب دو!” صحابہ نے پوچھا: “یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “کہو: اللہ ہمارا حامی و مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔”
﴿صحیح البخاری:101،100/3﴾
خلاصہ
غزوۂ اُحد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرار سے متعلق پیش کی جانے والی یہ روایت اصولِ حدیث کی رو سے قابلِ احتجاج نہیں۔ اس کی سند میں متعدد علل پائی جاتی ہیں؛ ابو بکر بن عیاش آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، ابو ہشام الرفاعی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور عاصم بن کلیب کی اپنے والد سے اس منفرد روایت کو ائمۂ حدیث نے قابلِ حجت قرار نہیں دیا۔ مزید برآں اس روایت کا متن صحیح بخاری کی مضبوط روایت کے بھی خلاف ہے، جس میں غزوۂ اُحد کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مختلف کردار ثابت ہے۔ لہٰذا سند اور متن دونوں اعتبار سے یہ روایت کمزور، شاذ اور ناقابلِ استدلال ہے، اس لیے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر اس روایت کی بنیاد پر اعتراض کرنا علمی اصولوں کے مطابق درست نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
زائر عباس
زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔