Category: رد فرق باطلہ
حدیثِ علی رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین
احناف کے نزدیک ترکِ رفع الیدین کی ایک مشہور دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس روایت کو بعض حضرات رفع الیدین کے نسخ یا ترک پر دلیل بناتے ہیں، جبکہ اصولِ حدیث کی روشنی میں اس روایت پر متعدد علمی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ ذیل میں اسی روایت کا سندی اور اصولی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
“ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی سے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے اپنے والد (کلیب) سے روایت کیا کہ: علی رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔”
﴿المصنف ابن ابى شيبہ:213/1﴾
الحمد للہ! نماز میں رفع الیدین کے مسئلے پر امت کے اہلِ علم نے صدیوں سے علمی گفتگو کی ہے، اور اس موضوع میں دونوں طرف سے متعدد روایات پیش کی جاتی رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جسے ترکِ رفع الیدین کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی روایت کو دلیل بنانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا وہ سند کے اعتبار سے ثابت بھی ہے یا نہیں، اور کیا وہ دیگر صحیح و محفوظ احادیث کے مقابلے میں قابلِ احتجاج ہے یا نہیں۔ اس مضمون میں اسی روایت کا اصولِ حدیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی حقیقت واضح ہو سکے۔
ناسخ و منسوخ پر موقف
امام سرخسی رحمہ اللہ لکھتے:
“ابوبکر الرازی (جصاص) فرماتے ہیں: یہ متواتر کی دو اقسام میں سے ایک ہے، اس معنی میں کہ اس کے ذریعے علمِ یقین (ایسا علم جس میں کوئی شک نہ ہو) ثابت ہوتا ہے۔”
﴿اصول السرخسی: 292/1﴾
آگے مزید کہتے:
“۔۔۔کسی ناسخ (منسوخ کرنے والی) نص کی بنیاد پر۔ اور جو حکم یقین کا فائدہ دیتا ہو، اس کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا مگر اسی جیسی دلیل سے جو علمِ یقین کا فائدہ دیتی ہو۔”
﴿اصول السرخسی: 292/1﴾
آسان الفاظ میں “اگر کوئی شرعی حکم کسی پکی اور قطعی دلیل جیسے قرآن مجید یا حدیثِ متواتر سے ثابت ہو، تو وہ کسی کمزور یا شک والی دلیل سے ختم نہیں ہو سکتا۔ اسے منسوخ کرنے کے لیے بھی اتنی ہی پکی اور یقینی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔”
الامام ابو بکر الجصاص رحمہ اللہ فرماتے:
“اگر ناسخ (منسوخ کرنے والے حکم) کے لیے اپنے نظم، صورت، حروف اور معانی میں منسوخ (جس حکم کو ختم کیا گیا) جیسا ہونا واجب ہوتا۔”
﴿الفصول فی الاصول: 349/2﴾
علت نمبر 1: ابو بکر النہشلی کی روایات کا تحقیقی جائزہ
ابو بكر النهشلي كى كتب ميں درج ذیل روایات ثابت ہے اور ان میں متابعت بھی موجود ہے:
1) حَدَّثَنَاه عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: ” إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ “.
﴿صحیح مسلم ت عبدالباقی:1284﴾
اي كى متابعت امام الشاشي نے کی ہے؛
حَدَّثَنَا الْعَسْقَلَانِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ “
﴿المسند للشاشي1/334 — الشاشي :ت 335﴾
2)وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ “.
﴿صحيح مسلم ت عبدالباقی: 1106﴾
اس کی متابعت امام دارقطنی نے نکل کی:
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ»
سنن الدارقطني 3/146 — الدارقطني :ت 385﴾
3)حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ”
﴿سنن ابن ماجه : 1931﴾
اس كى متابعت امام ترمذى ناكل كى؛
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ المَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا» وَأَبُو حَرِيزٍ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ». ⦗425⦘ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِثْلِهِ. وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ
﴿سنن الترمذي : ت شاكر 3/424 — الترمذي:ت 279﴾
ان کی اس سے تین روایات ثابت اور تمام کی متابعت موجود ہے اور اب اس کی ضعیف روایات کو دیکھتے ہے۔
1)حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ذُكِرَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:” أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا”
﴿سنن ابن ماجه : 2516﴾
اس راوی جس کا نام
الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ یہ راوی ضعیف الحدیث ہے.
2)حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” يَوْمَانِ مِنَ الدَّهْرِ لا تَصُومُوهُمَا، وَسَاعَتَانِ مِنَ النَّهَارِ لا تُصَلُّوهُمَا، فَإِنَّ النَّصَارَى وَالْيَهُودَ يَتَحَرُّونَهُمَا، يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى، وَبَعْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ
﴿سنن دارقطنی:952﴾
اس کا راوی عطیۃ اور ابو سعید جو کلبی ہے دونوں ضعیف ہے اور اس کی متابعت امام بخآری اور امام مسلم دونوں نہ کی ہے۔
3)حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ”
﴿سنن ابن ماجہ :1931 ﴾
اس میں راوی جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ہے جو مضطرب الحدیث اور متہم ہے۔
4)حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ”
﴿مسند احمد: 19945﴾
اس روایت میں امام حسن بصری کا عنعنہ ہے۔
5)حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ ، وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ”
﴿مسند احمد : 3983 ﴾
امام نسائی لکھتے ہے:
خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَرَوَاهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
5)حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: ” مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ , رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
﴿مسند احمد: 27543 ﴾
امام ابن حجر نے اس میں راوی مرزوق بن ابی بکر کو مقبول کہا اور وہ ان کے نزدیک مجہول ہے۔
تحریر تقریب التہذیب میں اس کی شرح میں لکھتے:
مجهول، تفرد بالرواية عنه أبو بكر النهشلي، ولم يوثقه أحد
6)حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النهشليُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ جَارِيَتِي حُرَّةً إِنْ نَقَصْتُهَا مِنْ كَذَا وَكَذَا، فَقَدْ خِفْتُ أَنْ يَنْقَضِيَ الْمَوْسِمَ قَبْلَ أَنْ يَبِيعَهَا فَيَرَى أَنْ يَبِيعَهَا بِأَقْلَ مِمَّا قُلْتُ، قَالَ: «إِنْ لَمْ تَخَفِ السُّلْطَانَ، – أَوْ لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ السُّلْطَانَ عَلَيْكَ -»
﴿مصنف ابن ابى شيبہ:23076﴾
اس وجہ سے اس میں حبیب بن ابی ثابت کا عنعنہ مدلس ہے اور یہ ضعیف ہے۔
اب ان تمام حديث كو ديكها جاۓ تو اس میں صرف تین روایات ثابت ہے اور اس پر بھی تمام روایات متابعت موجود ہے تو اس وجہ سے اس راوی کا تفرد قبول نہیں۔
علت نمبر 2: ابو بکر النہشلی کا تفرد
1)امام البيهيقى کہتے ہے:
“پس علی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل پر کسی اور کے فعل کو ترجیح دیں گے، لیکن ابوبکر النھشلی ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی روایت سے حجت پکڑی جائے یا جن کی تنہا روایت سے کوئی سنت ثابت ہو.”
﴿المعرفة السنن و الآثار:422/2﴾
2)امام ابن حبان کہتے:
“اور ابوبکر النھشلی اگرچہ (ذاتی طور پر) صاحبِ فضل (نیک انسان) تھے، لیکن وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں، اور جب وہ (کسی روایت میں) اکیلے ہوں تو ان سے حجت پکڑنا باطل (ناقابلِ قبول) ہو جاتا ہے، اور اگر ان کا اعتبار کیا جائے تو صرف اس صورت میں کہ جب وہ ثقہ (قابلِ اعتماد) راویوں کے موافق ہوں، جس میں ان پر جرح نہ کی گئی ہو۔”
﴿كتاب المجروحين:499/2﴾
اگر دیکھے تو امام ابن حبان اور امام البیھیقی دونوں متساہل تھے اور امام اس کو موفقات بیان کیا کیوں کہ جو پہلے والا کلام دیکھے تو ان کی تمام کتب میں 3 احادیث ثابت ہے جو کتابیں معتبر ہے یعنی یہ قلیل الحدیث ہے اور ان کی زیادہ تر روایات متابعت اور شواہد پر معتبر ہے۔
علت نمبر 3: یہ روایت شاذ ہے
یہ روایت شاذ ہے کیوں کہ امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مرفوع روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
امام ابن خزیمہ لکھتے ہے:
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ جب فرضی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔اپنے کندھوں کے برابر، اور اسی طرح کرتے جب اپنی قرأت مکمل کر لیتے اور رکوع کا ارادہ کرتے، اور اسی طرح کرتے جب رکوع سے سر اٹھاتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی نماز کی کسی اور چیز میں نہ اٹھاتے جب آپ بیٹھے ہوتے، اور جب دو سجدوں سے کھڑے ہوتے تو اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔”
سند پر جروحات كا جواب:
لوگ كہتے ہے کہ عبد الرحمن بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے مگر:
امام بخآری رحمہ اللہ نے متابعت میں اس سے روایات نکل کی ہے۔
امام ابن حجر کہتے ہے:
عبد الرحمن ابن أبي الزناد عبد الله ابن ذكوان المدني مولى قريش صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد وكان فقيها من السابعة ولي خراج المدينة فحمد مات سنة أربع وسبعين وله أربع وسبعون سنة خت م
﴿تقریب التھذیب:3861﴾
امام العجلی اور امام ترمذی نے کہا:
وقال الترمذي، والعجلي: ثقة ﴿تهذيب التھذيب طہ الرسالتہ :2/ 504﴾
امام ابن المدینی نے کہا:
وقال يعقوب بن شيبة: ثقة صدوق، وفي حديثه ضعف، سمعت علي ابن المديني يقول: حديثه بالمدينة مقارب، وما حدث به بالعراق فهو مضطرب ﴿تهذيب التھذيب طہ الرسالتہ: 2/ 504﴾
خير اس پر ایک اور جرح کی ہے امام ابن حجر لکھتے کہ ان کی حدیث بغداد میں لکھی گی وہ اختلط کا شکار ہوگۓ۔
مگر اس پر امام ابن المدینی نے کہا:
“مجھے ازہری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن عمر الخلال نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن احمد بن یعقوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے میرے دادا نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: بہرحال عبدالرحمن بن ابی الزناد کی بات ہے تو ان کی حدیث میں کچھ کمزوری (ضعف) ہے؛ میں نے علی بن المدینی کو کہتے سنا: ان کی وہ حدیث جو مدینہ میں (بیان کی گئی) ہو وہ (درست ہونے کے) قریب ہے، اور جو انہوں نے عراق میں بیان کی ہو وہ مضطرب (مخلوط یا غیر مستند) ہے۔ علی (بن المدینی) نے کہا: اور میں نے اس (روایت) میں غور کیا جو ان سے سلیمان بن داؤد الہاشمی نے روایت کی ہے، تو میں نے اسے (درستگی کے) قریب پایا۔”
﴿تاريخ بغداد:496/11﴾
اور دوسرا یہ ہے کہ امام خزیمہ نے اس کے ساتھ یہ عبد اللہ ابن وھب سے نکل کی ہے.جب كہ ابن وھب بھی مدینہ اۓ تھے۔
امام دارقطنى رحمه الله جرح كرتے ہوۓ کہتے ہے:
“اور ان (امام دارقطنی) سے کُلیب بن شہاب کی (روایت کردہ) حدیث کے بارے میں پوچھا گیا، جو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔
تو انہوں نے (جواب میں) فرمایا: یہ وہ حدیث ہے جسے ابوبکر النہشلی، محمد بن ابان اور ان کے علاوہ دیگر راویوں نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے۔
اور ابوبکر النہشلی (کی سند) میں اختلاف ہوا ہے، اور ان کا نام (اس روایت میں) صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ عبدالرحیم بن سلیمان نے ان سے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
اور انہوں نے (عبدالرحیم بن سلیمان نے) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کرنے (آپ کا قول یا فعل قرار دینے) میں وہم (غلطی) کھائی ہے۔
اور ثقہ (قابلِ اعتماد) راویوں کی ایک جماعت نے ان کی مخالفت کی ہے، جن میں: عبدالرحمن بن مہدی، موسیٰ بن داؤد، اور احمد بن یونس اور ان کے علاوہ دیگر شامل ہیں، جنہوں نے عاصم سے روایت کیا ہے۔ پس انہوں نے اسے ابوبکر النہشلی سے ‘موقوف’ (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل) روایت کیا ہے، اور یہی بات درست ہے۔
اور اسی طرح محمد بن ابان نے بھی اسے عاصم سے ‘موقوف’ ہی روایت کیا ہے۔”
﴿علل الدرقطنى:105/4﴾
علت نمبر 4: عاصم بن کلیب کے تفرد کا جائزہ
عاصم بن كليب حب اپنے باپ کلیب سے روایت کرے تو اس کا تفرد قبول نہیں کیا جاۓ گا۔حلانکہ وہ ثقہ ہے اور ثقہ صدوق دونوں کا تفرد قبول ہوتا اگر روایت شاذ نہ ہو اور اوثق یا کسی حافظ راوی کے مخالف نہ ہو۔
امام علی بن مدینی فرماتے:
اس کی منفرد روایت سے حجت نہیں لی جاۓ گی۔
﴿کتاب الضعفاء والمتروکین:70/2﴾
امام البزار نے عاصم کی منفرد روایت پر جرح کرتے ہوے کہا:
“اور اس حدیث کو عاصم بن کلیب نے روایت کیا ہے، اور عاصم کی حدیث میں اضطراب (کمزوری) پایا جاتا ہے.
﴿مسند البزار:47/5﴾
امام احمد بن حنبل فرماتے ہے:
“اور میرے علم کے مطابق اسے عاصم سے (ابو بکر) النَھشَلی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔ گویا کہ انہوں نے (امام احمد نے) اس کا انکار کیا (یا اسے ناپسند کیا)۔”
﴿العلل ومعرفة الرجال:374/1﴾
عاصم بن كليب پر الزامئ جواب:
امام نسائ رحمه الله كہتے ہے:
ہمیں سوید بن نصر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ (بن مبارک) نے زائدہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد (کلیب) نے بیان کیا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو ضرور (غور سے) دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا۔ پھر انہوں نے (نماز کا طریقہ) بیان کیا اور کہا: پھر آپ ﷺ (تشہد کے لیے) بیٹھے، آپ ﷺ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور بائیں گھٹنے پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھا، پھر آپ ﷺ نے اپنی (دائیں ہاتھ کی) دو انگلیوں کو بند کیا اور ایک حلقہ (انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کو ملا کر گول دائرہ) بنایا، پھر اپنی (شہادت کی) انگلی کو اٹھایا، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اسے ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ دعا کر رہے تھے… (یہ حدیث) مختصر (بیان کی گئی ہے)۔”
﴿سنن الكبرى النسائ:92/2﴾
امام عاصم بن كليب كا اس روايت ميں تفرد کے اور انھوں نے اس کو ان کی باپ سے نکل کیا ہے۔تو اصول احناف پر یہ بھی قبول ہے۔
علت نمبر 5: تفرد کے بارے میں ائمہ کا اصول
امام حاکم کہتے ہے:
یہ قسم روایات میں سے “شاذ” (منفرد یا انوکھی) روایت کی پہچان کے بارے میں ہے؛ اور یہ “معلول” (علت زدہ/خرابی والی) حدیث سے الگ ہوتی ہے۔ کیونکہ معلول وہ حدیث ہوتی ہے جس کی پوشیدہ خرابی (علت) کا پتہ چل جائے، جیسے ایک حدیث دوسری حدیث میں داخل ہو گئی ہو، یا کسی راوی کو اس میں وہم (غلط فہمی) ہو گئی ہو، یا کسی ایک راوی نے اسے مرسل (تابع سے براہِ راست نبی ﷺ تک) روایت کیا ہو اور وہم کا شکار ہونے والے دوسرے راوی نے اسے موصول (پوری سند کے ساتھ) بیان کر دیا ہو۔
جہاں تک شاذ کا تعلق ہے، تو یہ وہ حدیث ہوتی ہے جسے ثقہ (قابلِ اعتماد) راویوں میں سے کوئی ایک راوی اکیلا ہی روایت کرے، اور اس ثقہ راوی کی تائید کرنے والی (اس حدیث کی) کوئی اور بنیادی یا متابع روایت موجود نہ ہو۔
﴿معرفة علوم الحديث:119﴾
امام زهبي کہتے ہے:
یہ وہ حدیث ہے جس کا راوی اپنے سے زیادہ قابلِ اعتماد (ثقہ) راویوں کی مخالفت کرے، یا جسے ایسا راوی اکیلا بیان کرے جس کے حالات اس کے اکیلے پن (تفرد) کو قبول کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں۔
﴿الموقظة:42﴾
ابی بکر النہشلی کی منفرد روایت پر الزامی جواب:
امام نسائ نے باب قیام لیل میں حدیث لکھی:
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:” كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور تین رکعت وتر پڑھتے، اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے۔
﴿سنن ابن ماجه :1708﴾
ائمہ محدثین کے فیصلے
امام ابن مقلن اس پر بحث لكھتے ہے:
اور جہاں تک اثار کا تعلق ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب اثر ضعیف ہے اور ان سے درست ثابت نہیں ہے۔ اور جن ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ان میں امام بخاریؒ بھی شامل ہیں۔
اور (امام بیہقی کی کتاب) ‘السنن’ اور ‘الخلافيات’ میں عثمان الدارمی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) سے یہ حدیث اس کمزور/واہی راستے (سند) سے مانی گئی ہے، اور اسے عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج نے عبیداللہ بن ابی رافع سے، انہوں نے سیدنا علی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت (رفع یدین) کرتے تھے۔ پس یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ (علیؓ) نبی ﷺ کے فعل کے خلاف (عمل) منتخب کریں گے، لیکن (اس کی سند میں) ‘ابوبکر النہشلی’ ہے، یعنی: مذکورہ شخص اپنی سند میں ایسا نہیں ہے جس کی روایت سے حجت (دلیل) پکڑی جائے (یا جو ثابت ہو)، وہ ایسی سنت لایا ہے جسے اس کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کیا۔
“امام حاکم نے فرمایا: یہ ایک شاذ (بہت کمزور/منفرد) روایت ہے جس سے حجت قائم نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کے ذریعے صحیح اور منقول احادیث کا مقابلہ (یا معارضہ) کیا جا سکتا ہے۔”
﴿البدر المنير :501,499/3﴾
امام احمد بن حنبل لكهتے کہتے ہے:
“تیسرا (موقف/حدیث): سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ: وہ نماز کی پہلی تکبیر (تکبیرِ تحریمہ) میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر اس کے بعد (دوبارہ ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔
“امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: جہاں تک میں جانتا ہوں، عاصم (بن کلیب) سے اس حدیث کو ‘ابوبکر النہشلی’ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، گویا انہوں (امام احمد) نے اس روایت پر نکارت کا اظہار کیا ہے (یعنی اسے غیر محفوظ یا ضعیف سمجھا ہے)۔”
﴿جامع العلوم الامام احمد:224/14﴾
امام الشافعى كهتے ہے:
“اور امام شافعی کے قولِ قدیم (ان کے پہلے موقف) میں ہے: ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ لوگوں نے اپنا یہ موقف سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ نماز میں کسی بھی جگہ اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے نماز کے آغاز (تکبیرِ تحریمہ) کے۔۔۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: انہوں نے (معترض نے) جو کچھ کہا ہے، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں ہے۔”
﴿شرح سنن ابن ماجه المغلطائ:297/5﴾
خلاصہ
الحمد للہ! اس تحقیقی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ترکِ رفع الیدین کی روایت متعدد علتوں کا شکار ہے، جن میں ابو بکر النہشلی کا تفرد، روایت کا شاذ ہونا، بعض رواۃ پر کلام اور ائمۂ حدیث کی صریح جرح شامل ہیں۔ مزید یہ کہ صحیح اور محفوظ روایات سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین کا ثبوت موجود ہے، اس لیے اس منفرد روایت کو ان صحیح احادیث کے مقابلے میں حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس روایت کو قابلِ استدلال قرار نہیں دیا۔ لہٰذا اصولِ حدیث اور ائمۂ محدثین کی تحقیق کی روشنی میں یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ ترکِ رفع الیدین کی یہ روایت ثابت نہیں، جبکہ رفع الیدین کی احادیث صحیح، محفوظ اور قابلِ احتجاج ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
زائر عباس
زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔