کیا کائنات نبی کریم ﷺ کے لیے بنائی گئی؟
بعض لوگ یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات صرف نبی کریم ﷺ کی خاطر پیدا کی، اور اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو نہ آسمان و زمین پیدا کیے جاتے اور نہ ہی دیگر مخلوقات۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی۔ ان عقائد کے اثبات کے لیے چند روایات پیش کی جاتی ہیں، لیکن جب انہیں اصولِ حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی روایت صحیح ثابت نہیں ہوتی۔ ذیل میں ان روایات کا سندی و متنی جائزہ اور پھر قرآنِ مجید کی روشنی میں اس مسئلے کی حقیقت پیش کی جا رہی ہے۔
لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الأفْلَاکَ
’’محبوب! اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو کائنات ہست و بود کو بھی وجود میں نہ لاتا۔‘‘
﴿ عجلوني، کشف الخفاء، 2: 214، رقم: 2123﴾
اسلام وعلیکم۔ معزز دوست احباب، آج کل لوگوں کی طرف سے یہ عقیدہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کائنات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر بنائی گئی اور اللہ نے اگر اللہ نبی کریم کو نہ بناتا تو کائنات اور مخلوقات کو بھی نہ بناتا۔ اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا آدم کی توبہ بھی نبی پاک کے وسیلے سے قبول ہوئی۔ اکثر اوقات جو روایات پیش کی جاتی ہیں ان کی اسناد نہیں دی جاتی یا دعوی کرنے والے کو معلوم ہی نہیں ہوتی۔ لیکن کبھی کبھار لوگ مختلف روایات پیش کرتے ہیں اسناد کے ساتھ۔ آج میں انھی میں سے چند روایات پے بات کروں گا اور ان کا رد قرآن اور احادیث سے کروں گا۔ انشاءاللہ۔
روایت نمبر 1: "لولاك لما خلقت الا فلاك" کی تحقیق
لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الأفْلَاکَ
’’محبوب! اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو کائنات ہست و بود کو بھی وجود میں نہ لاتا۔‘‘
﴿ عجلوني، کشف الخفاء، 2: 164، رقم: 2123﴾
تحقیق روایت
یہ حدیث موضوع ہے جیسا کہ امام الصفانی (رحمہ اللہ) نے احادیث موضوعة میں ذکر کیا ہے الشیخ القاری کا قول (67-68) جس کا مفہوم صحیح ہے جب کہ الدیلمی نے ابن عباس سے مرفوع روایت کی ہے کہ میرے پاس جبریل تشریف لائے تو انہوں نے کہا اے محمد ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور اگر آپ نہ ہوتے تو میں دوزخ کو پیدا نہ کرتا، نیز ابن عساکر (رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا۔
پس میں (شیخ البانی) کہتا ہوں اس کے معنی کی صحت پر یقین کرنا مناسب نہیں ہے البتہ اس چیز کے ثابت ہونے کے بعد جس کو اس نے دیلمی (رحمہ اللہ) سے نقل کیا ہے اور یہ ایسی بات ہے کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے جس نے اس کے بیان کی جانب جھکاؤ کیا ہو اور مجھے اگر چہ اس کی سند پر اطلاع حاصل نہیں ہو سکی ہے تا ہم میں اس کے ضعیف ہونے کے بارے میں متردد نہیں ہوں اور ہمیں اس کی تدلیس میں یہ بات کافی ہے کہ اس کے بیان کرنے میں دیلمی منفرد ہے البتہ حافظ ابن عساکر (رحمہ اللہ) کی روایت جس کو ابن جوزی (رحمہ اللہ) نے بھی ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے وہ سلمان سے مرفوع بیان کرتا ہے اور اس نے آگاہ کیا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔
﴿سلسلة الاحاديث الضعيفۃ والموضوعة واثرها السيئ في الامہ: 282﴾
روایت نمبر 2:سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ اور محمد ﷺ کے وسیلے والی روایت
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو الْحَارِثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ الْفِهْرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “” لَمَّا اقْتَرَفَ آدَمُ الْخَطِيئَةَ قَالَ: يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لَمَا غَفَرْتَ لِي، فَقَالَ اللَّهُ: يَا آدَمُ، وَكَيْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا وَلَمْ أَخْلُقْهُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، لِأَنَّكَ لَمَّا خَلَقْتَنِي بِيَدِكَ وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوحِكَ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ عَلَىَ قَوَائِمِ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَمْ تُضِفْ إِلَى اسْمِكَ إِلَّا أَحَبَّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ، فَقَالَ اللَّهُ: صَدَقْتَ يَا آدَمُ، إِنَّهُ لَأُحِبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ ادْعُنِي بِحَقِّهِ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ ذَكَرْتُهُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْكِتَابِ»
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا آدم علیہ السلام نے خطا کا ارکاب کیا تو اللہ تعالیٰ سے عرض کی : اے میرے رب ! میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، تو مجھے معاف کر دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم علیہ السلام ! تو نے محمد ﷺ کو کیسے پہچانا ؟ حالانکہ ان کو تو میں نے ابھی پیدا ہی نہیں کیا ۔ آدم علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! تو نے جب مجھے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے عرش کے پائے پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہوا دیکھا تو میں جان گیا کہ تو نے جس کا نام اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہوا ہے وہ تمام مخلوقات میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم علیہ السلام ! تو نے سچ کہا ہے ۔ واقعی وہ مجھے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب ہے تو مجھ سے اس کا واسطہ دے کر دعا مانگ ۔ میں نے تجھے معاف کر دیا ہے اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا ۔
﴿المستدرک الحاکم 4228﴾ ﴿التعليق من تلخيص الذهبي بل موضوع﴾
تحقیق روایت
اول تو امام ذھبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی اعتراض کرنے والا اس روایت پے اعتراض کرتا ہے کہ یہ روایت موضوع نہیں تو اس صورت میں اس کا جواب بھی قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ اس روایت میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے۔ اس راوی کے متعلق محدثین اور آئمہ کی آراء درج ذیل ہیں۔
عبدالرحمن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہے، اسے احمد بن حنبل، علی بن المدینی اور دیگر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ حدیث صرف اس کے ذریعے ہی مرفوعاً مروی ہے۔
﴿جامع الترمذی :199/2﴾
ابو طالب نے احمد بن حنبل سے روایت کی کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔ ﴿تہذیب الکمال :114/17﴾
علی بن المدینی نے کہا کہ زید بن اسلم کے بیٹوں میں سے کوئی بھی ثقہ نہیں ہے۔ ﴿الکامل فی الضعفاء :442/5﴾
بخاری اور ابو حاتم نے کہا کہ علی بن المدینی نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کو بہت ضعیف قرار دیا ہے۔ ﴿تہذیب التھذیب :508/2﴾
جوزجانی نے کہا کہ زید بن اسلم کے بیٹے سب ضعیف ہیں۔ ﴿تہذیب التھذیب:508/2﴾
حاکم اور ابو نعیم نے کہا کہ اس نے اپنے والد سے موضوع (من گھڑت) حدیثیں روایت کی ہیں۔ ﴿تہذیب التھذیب :508/2﴾
ابن الجوزی نے کہا کہ اہل علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔﴿تہذیب التھذیب :508/2﴾
ابن حبان نے کہا کہ وہ احادیث کو تبدیل کرتا تھا، اور اسے علم نہیں تھا، یہاں تک کہ اس کی روایات میں مرسلوں کو مرفوع اور موقوف کو مسند کرنے کی کثرت ہو گئی، جس کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔ ﴿تہذیب التھذیب :508/2﴾
ابن خزیمہ نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی حدیث پر اہل علم اعتماد کرتے ہیں، کیونکہ اس کی حفظ کی حالت اچھی نہیں تھی، وہ عبادت اور زہد میں مشغول تھا، لیکن حدیث کے حفظ میں ماہر نہیں تھا۔ ﴿تہذیب التھذیب:508/2﴾
ابو حاتم رازی نے کہا کہ وہ حدیث میں قوی نہیں ہے، وہ اپنے نفس میں صالح تھا، لیکن حدیث میں کمزور تھا۔ ﴿تہذیب التھذیب:508/2﴾
ابو زرعہ رازی نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔ ﴿تہذیب التھذیب :508/2﴾
شافعی نے کہا کہ ایک شخص نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے پوچھا کہ کیا تمہارے والد نے تمہیں اپنے دادا سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نوح کی کشتی بیت اللہ کے گرد گھومتی تھی اور اس نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی تھی؟ عبدالرحمن نے کہا: ہاں۔﴿الکامل فی الضعفاء:443/5﴾
محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کہتے ہیں کہ میں نے شافعی کو کہتے سنا: ایک آدمی نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی تو اس نے کہا: تمہیں کس نے بتایا؟ انہوں نے ایک سلسلہ منقطع ہونے کا تذکرہ کیا اور کہا: عبدالرحمٰن بن زید کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اپنے باپ کی سند سے، نوح کی سند سے بتائیں گے۔﴿الکامل فی الضعفاء:443/5﴾
ان تمام اراء کی بنیاد پر عبدالرحمن بن زید بن اسلم ایک ضعیف راوی ہے اور یہ شبہ بھی ہے کہ یہ احادیث گھڑتا بھی تھا۔
قرآنِ مجید سے اس عقیدے کا رد
خیر اب ہم قرآن سے اس عقیدے کی نفی کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو قرآن مجید میں اللہ سبحان و تعالی کائنات بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ
وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے۔
﴿سورة ملک :2﴾
وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّة اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلاً ؕ وَلَٮِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَـقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
﴿سورة ھود :7﴾
وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ
اور میں نے جن اور آدمی اسی ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں
﴿سورة الذریت :56﴾
سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قرآنِ مجید کی روشنی میں
اوپر بیان کردہ آیات میں اللہ سبحان وتعالی نے یہ کائنات اور مخلوقات بنانے کی وجوہات واضح بیان کر دی اور وہ یہ کہ اللہ کی عبادت اور جن و انسان کی آزمائش۔ ان آیات سے یہ عقیدے کا تو رد ہو گیا کہ کائنات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر بنائی گئی۔ دوسری یہ بات کہ سیدنا آدم کی توبہ قبول نبی کریم کے وسیلے سے ہوئی تو یہ بات بھی بے بنیاد ہے۔ اور سیدنا آدم کی دعا قرآن میں آئی ہے کہ جن الفاظ سے آدم علیہ السلام اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
دونوں نے عرض کی، اے رب ہمارے! ہم نے اپنا آپ بُرا کیا، تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے
﴿سورة اعراف : 23﴾
اب ان دلائل کے بعد بھی اگر کوئی اس عقیدے پے بضد ہو تو اس کو ڈر جانا چائیے کیونکہ نبی پاک پر وہ جھوٹ باندھ رہا ہے۔ اور نبی پاک کا ارشاد ہے:
وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل يعني ابن علية ، عن عبد العزيز بن صهيب ، عن انس بن مالك ، انه قال: إنه ليمنعني ان احدثكم حديثا كثيرا، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: من تعمد علي كذبا، فليتبوا مقعده من النار
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مجھے تمہارے سامنے زیادہ احادیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنالے۔
﴿صحیح مسلم : ترقیم عبدالباقی: 2 ،ترقیم شاملہ: 3﴾
مذکورہ تمام روایات کا سندی، متنی اور اصولی جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ “کائنات نبی کریم ﷺ کی خاطر پیدا کی گئی” یا “سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی” جیسے عقائد پر پیش کی جانے والی روایات قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ بعض روایات صریح موضوع (من گھڑت) ہیں، جبکہ بعض میں ایسے ضعیف راوی موجود ہیں جن پر ائمہ جرح و تعدیل نے سخت کلام کیا ہے۔ اس کے برعکس قرآنِ مجید نے نہایت وضاحت کے ساتھ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندوں کی آزمائش بیان کیا ہے، اور سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کے وہ الفاظ بھی خود قرآن میں محفوظ کر دیے ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ لہٰذا ایسے عقائد کو اختیار کرنا یا انہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا، جبکہ ان کی کوئی صحیح شرعی دلیل موجود نہ ہو، علمی دیانت کے خلاف ہے۔
خلاصہ
اس پوری تحقیق سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
“لولاك لما خلقت الأفلاك” والی روایت موضوع (من گھڑت) ہے، لہٰذا اس سے کوئی عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
سیدنا آدم علیہ السلام کے نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے والی روایت کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے موضوع قرار دیا ہے، جبکہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم موجود ہے، جسے جمہور محدثین نے ضعیف بلکہ بعض نے منکر و موضوع روایات بیان کرنے والا قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بندوں کی آزمائش اور اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، نہ کہ کسی ایک مخلوق کی خاطر۔
قرآن ہی میں سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کے الفاظ موجود ہیں، جن میں کسی وسیلے کا ذکر نہیں بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعا کی گئی ہے۔
عقائد صرف قرآنِ مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہوتے ہیں، جبکہ ضعیف اور موضوع روایات کو عقیدہ بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
لہٰذا صحیح اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے افضل، اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب اور خاتم النبیین ہیں، لیکن یہ کہنا کہ پوری کائنات صرف آپ ﷺ کی خاطر پیدا کی گئی یا سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ آپ ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی، قرآنِ مجید اور صحیح سنت سے ثابت نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے عقائد کی بنیاد صرف صحیح اور ثابت شدہ دلائل پر رکھے، کیونکہ دین میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو ثابت نہ ہو، نہایت سنگین معاملہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
فیضان ظفر
فیضان ظفر متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور اسلامی موضوعات پر تحقیق کرنے والے قلم کار ہیں۔ ان کی تحریریں مستند مراجع اور علمی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔