بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

صحیح حدیث حجت ہے

صحیح حدیث حجت ہے

صحیح حدیث حجت ہے چاہے خبرِ واحد ہو یا متواتر۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ  ﴿سورۃ النساء: 80

“جس نے رسول کی اطاعت کی، اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔”

اس آیتِ کریمہ و دیگر آیات سے رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت کا فرض ہونا ثابت ہے۔

قرآنِ کریم، حدیث کی تشریح اور حکمت کا تعلق

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر صرف قرآنِ مجید ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ آپ ﷺ کو اس کی تشریح، تبیین اور حکمت بھی عطا فرمائی، تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اللہ کی نازل کردہ تعلیمات کو واضح کریں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ

“اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر  اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیےواضح  کریں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔”

﴿سورۃ النحل: 44

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا منصب صرف قرآن پہنچانا نہیں تھا بلکہ اس کی وضاحت اور تشریح کرنا بھی تھا، اور یہی تشریح سنت و حدیث کی صورت میں امت تک پہنچی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ

“اور وہ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔”

﴿ سورۃ البقرۃ: 129، 151، آل عمران: 164، الجمعۃ: 2

جمہور مفسرین نے یہاں “حکمت” سے مراد سنتِ رسول ﷺ لی ہے، کیونکہ کتاب (قرآن) کے ساتھ الگ سے حکمت کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کے علاوہ ایک مستقل وحی ہے جس کے ذریعے قرآن کی عملی تشریح کی گئی۔

اسی مفہوم کو نبی کریم ﷺ نے خود بھی بیان فرمایا:

 أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ

“خبردار! مجھے کتاب (قرآن) اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔”

﴿سنن أبي داود: 4604

اس حدیث میں “کتاب” سے مراد قرآن اور “اس جیسی ایک اور چیز” سے مراد سنت و حدیث ہے، جو وحیِ الٰہی کے تحت نبی کریم ﷺ کو عطا کی گئی۔ لہٰذا حدیث، قرآن سے الگ دین نہیں بلکہ قرآن ہی کی تشریح، تفسیر اور عملی تطبیق ہے۔ اسی لیے قرآن کی صحیح مراد کو سمجھنے کے لیے سنتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔

صحابہ اور ائمہ کا اجماع

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ قبا (مدینے) میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر کہا: رسول اللہ ﷺ پر آج کی رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آ گیا ہے۔ پس سارے نمازی جو شام کی طرف رخ کیے نماز پڑھ رہے تھے، نماز ہی میں کعبہ کی طرف مڑ گئے۔

﴿موطا امام مالک روایت ابن القاسم تحقیقی: 277، وسندہ صحیح، رواية یحییٰ بن یحییٰ: 1/195، ح: 460، صحیح البخاری: 403، صحیح مسلم: 526

معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عقیدے میں بھی صحیح خبرِ واحد کو حجت سمجھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے بادشاہ ہرقل کی طرف دعوتِ اسلام کے لیے جو خط بھیجا تھا، اسے سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا تھا۔

﴿صحیح بخاری: 7

اس سے معلوم ہوا کہ صحیح خبرِ واحد ظنی نہیں بلکہ یقینی، قطعی اور حجت ہوتی ہے۔ جو حدیث نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو جائے، اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اسے ترک کرنا جائز نہیں ہے۔”

﴿مناقب الشافعی للبیہقی: 483/1، وسندہ صحیح

امام شافعیؒ فرماتے تھے: “متى رويت عن رسول الله ﷺ حديثا صحيحا فلم آخذ به . فأشهدكم أن عقلي قد ذهب” “جب میرے سامنے رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث بیان کی جائے اور میں اسے (بطور عقیدہ و بطورِ عمل) نہ لوں تو گواہ رہو کہ میری عقل زائل ہو چکی ہے۔”

﴿مناقب الشافعی ج 1، ص: 474، وسندہ صحیح

معلوم ہوا کہ امام شافعی کے نزدیک، صحیح حدیث پر عمل نہ کرنے والا شخص پاگل ہے۔ امام شافعی خبرِ واحد (صحیح) کو قبول کرنا فرض سمجھتے تھے۔

﴿جماع العلم للشافعی، ص: 8، فقرہ: 1

امام اہل سنت امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: “جس نے رسول اللہ ﷺ کی (صحیح) حدیث رد کی تو وہ شخص ہلاکت کے کنارے پر (گمراہ) ہے۔”

﴿مناقب احمد، ص: 182، وسندہ حسن، الحدیث: 26، ص: 28

امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے ایک حدیث بیان کی گئی تو انہوں نے فرمایا: “یہ حدیث حسن ہے، میں نے یہ حدیث اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔” اس کے بعد امام مالک رحمہ اللہ اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔

 ﴿تقدمۃ الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:ج :1، ص: 31، 32 وسندہ حسن

ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کے بارے میں حنفی علماء یہ کہتے ہیں کہ صحیح حدیث ان کا مذہب تھا۔

عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں: “أما بالخبر الواحد فقال بجوازه الأئمة الأربعة” قرآن کی خبرِ واحد (صحیح) کے ساتھ تخصیص ائمہ اربعہ کے نزدیک جائز ہے۔

﴿غیث الغمام، ص: 277

خلاصہ

قرآنِ کریم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو مطلقاً فرض قرار دیتا ہے، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک ثقہ شخص کی خبر پر اپنا قبلہ تبدیل کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کی طرف ایک ایک صحابی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، جس سے خبرِ واحد کی حجیت ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے اصول و اقوال بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ صحیح خبرِ واحد دین میں حجت ہے، خواہ اس کا تعلق عقائد سے ہو یا احکام سے۔ لہٰذا خبرِ واحد کو مطلقاً رد کرنا یا عقائد میں اس کی حجیت کا انکار کرنا جمہور سلف اور ائمۂ امت کے موقف کے خلاف ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

فیضان ظفر

حسنین علی

حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور محقق ہیں۔آپ تقابلِ ادیان، بین المسالک اختلافات اور علمی ردود کے محقق ہیں۔

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم