شرح نهج البلاغة:220/16
حدیث نمبر:5
٥ – قال أبو بكر و أخبرنا أبو زيد قال حدثنا محمد بن الصباح قال حدثنا يحيى بن المتوكل أبو عقيل عن كثير النوال قال قلت لأبي جعفر محمد بن علي ع جعلني الله فداك أ رأيت أبا بكر و عمر هل ظلماكم من حقكم شيئا أو قال ذهبا من حقكم بشيء فقال لا و الذي أنزل القرآن عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيراً ما ظلمنا من حقنا مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ قلت جعلت فداك أ فأتولاهما قال نعم ويحك تولهما في الدنيا و الآخرة و ما أصابك ففي عنقي ثم قال فعل الله بالمغيرة و بنان فإنهما كذبا علينا أهل البيت
ابو بکر (جوہری) نے کہا اور ہمیں ابو زید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن المتوكل ابو عقیل نے کثیر النوال سے روایت کی، انہوں نے کہا:
میں نے ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام) سے عرض کیا: “اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! کیا ابو بکر اور عمر نے آپ کے حق میں سے کچھ غصب (ظلم) کیا یا آپ کے حق میں سے کچھ لے لیا؟”
انہوں نے فرمایا: “نہیں۔! قسم اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا بنے، انہوں نے ہمارے حق میں سے ایک رائی کے دانے برابر بھی ہم پر ظلم نہیں کیا۔”
میں نے عرض کیا: “میں آپ پر قربان جاؤں! تو کیا میں ان دونوں سے محبت و ولایت (تولّیٰ) رکھوں؟”
انہوں نے فرمایا: “ہاں، وائے ہو تم پر! دنیا اور آخرت میں ان دونوں سے ولایت و محبت رکھو، اور (اس کی وجہ سے) جو بھی نقصان یا وبال تم پر آئے گا، وہ میری گردن پر ہے۔”
پھر انہوں نے فرمایا: “اللہ مغیرہ اور بنان کے ساتھ نمٹے (یا ان پر لعنت کرے)، کیونکہ ان دونوں نے ہم اہل بیت پر جھوٹ باندھا۔”
اس روایت کے برعکس شیعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر اہلِ بیت کے حقوق غصب کرنے کا الزام لگاتے ہیں، ان پر طعن کرتے ہیں اور ان سے براءت کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی روایت میں امام باقر علیہ السلام نے دونوں حضرات کی ولایت و محبت کا حکم دیا ہے اور ان پر ظلم کے الزام کی صراحت کے ساتھ نفی فرمائی ہے۔
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں