کتاب: وضو کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ ہلکا وضو کرنا بھی درست اور جائز ہے۔
احادیث:1
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 138
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ صَلَّى، وَرُبَّمَا قَالَ: اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ، وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَرُبَّمَا، قَالَ سُفْيَانُ: عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قُلْنَا لِعَمْرٍو: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ سورة الصافات آية 102".
حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو، قال: اخبرني كريب، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نام حتى نفخ، ثم صلى، وربما قال: اضطجع حتى نفخ، ثم قام فصلى، ثم حدثنا به سفيان مرة بعد مرة، عن عمرو، عن كريب، عن ابن عباس، قال:" بت عند خالتي ميمونة ليلة، فقام النبي صلى الله عليه وسلم من الليل، فلما كان في بعض الليل قام النبي صلى الله عليه وسلم، فتوضا من شن معلق وضوءا خفيفا يخففه عمرو ويقلله، وقام يصلي فتوضات نحوا مما توضا، ثم جئت فقمت عن يساره وربما، قال سفيان: عن شماله فحولني فجعلني عن يمينه، ثم صلى ما شاء الله، ثم اضطجع فنام حتى نفخ، ثم اتاه المنادي فآذنه بالصلاة فقام معه إلى الصلاة فصلى ولم يتوضا، قلنا لعمرو: إن ناسا يقولون: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم تنام عينه ولا ينام قلبه، قال عمرو: سمعت عبيد بن عمير، يقول: رؤيا الانبياء وحي، ثم قرا: إني ارى في المنام اني اذبحك سورة الصافات آية 102".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے، یہاں تک کہ خراٹے بھرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیدار ہو کر) نماز پڑھی، کبھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کروٹ پر لیٹے، یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر سفیان رحمہ اللہ نے اس روایت کو دوبارہ تفصیل سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے۔ جب کچھ رات گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لٹکتے ہوئے مشکیزے سے ہلکا وضو فرمایا۔ عمرو (راوی) اس (وضو) کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتا ہے۔ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح وضو کیا، پھر میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ سفیان رحمہ اللہ نے کبھی «يَسَارٍ» (بائیں جانب) کے بجائے «شِمَالٍ» کا لفظ استعمال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیرا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر اللہ کی توفیق میسر آئی، (تہجد کی) نماز ادا فرمائی، پھر کروٹ کے بل لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ خراٹے بھرنے لگے۔ پھر مؤذن آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔ (سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں) ہم نے (اپنے استاد) عمرو سے کہا: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نیند کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نہیں، بلکہ صرف آنکھ پر ہوتا تھا۔ عمرو نے جواب دیا: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، پھر درج ذیل آیت کو بطور دلیل تلاوت فرمایا: ﴿إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102] ”میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔“
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے عمرو کے واسطے سے نقل کیا، انہیں کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور کبھی (راوی نے یوں) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے بعد نماز پڑھی۔ پھر سفیان نے ہم سے دوسری مرتبہ یہی حدیث بیان کی عمرو سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ وہ کہتے تھے کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنی خالہ (ام المؤمنین) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے۔ جب تھوڑی رات باقی رہ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو اس کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتے تھے اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان نے «عن يساره» کی بجائے «عن شماله» کا لفظ کہا (مطلب دونوں کا ایک ہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیر لیا اور اپنی داہنی جانب کر لیا۔ پھر نماز پڑھی جس قدر اللہ کو منظور تھا۔ پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے۔ حتیٰ کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ پھر آپ کی خدمت میں مؤذن حاضر ہوا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (سفیان کہتے ہیں کہ) ہم نے عمرو سے کہا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں، دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ پھر (قرآن کی یہ) آیت پڑھی۔ ”میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔“
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں