بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

علم کی فضیلت کے بیان میں۔ (بخاری)

کتاب: علم کے بیان میں
باب: علم کی فضیلت کے بیان میں۔
احادیث:0

ترجمۃ الباب

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ}. وَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا}.
وقول الله تعالى: {يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير}. وقوله عز وجل: {رب زدني علما}.
ا ارشاد باری تعالٰی ہے:"اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو درجات کے اعتبار سے بلندی عطا فرمائے گا جو ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔" اس کے علاوہ فرمان الہی ہے: "( آپ کہہ دیجیے:) میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما۔"
‏‏‏‏ جو تم میں ایماندار ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے اللہ ان کے درجات بلند کرے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ طہٰ میں) فرمایا (کہ یوں دعا کیا کرو) پروردگار مجھ کو علم میں ترقی عطا فرما۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم