بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالرحمن بن عوف) عبدالرحمٰن بن أبى بكر کی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت

متفرق ابواب
باب: عبدالرحمٰن بن أبى بكر کی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت
احادیث:1

حدیث نمبر: 14

حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ يَلْبَسْهُ تَحْتَ ثِيَابِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: لَبِسْتَهُ عِنْدَ مِنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ.
حدثنا ابو حذيفة، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، قال: كان لعبد الرحمن بن عوف قميص من حرير يلبسه تحت ثيابه، فقال له عمر: ما هذا؟ فقال: لبسته عند من هو خير منك.
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی ایک قمیص تھی جسے وہ اپنے کپڑے کے نیچے (بنیان کے طور پر) پہنتے تھے۔ امیر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ کیوں پہنتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے یہ قمیص ایسی شخصیت کے پاس بھی پہنی جو آپ سے بہتر تھے۔
ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم