بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت

متفرق ابواب
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت
احادیث:1

حدیث نمبر: 38

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ أَوْ شِرَاكَهُ، فَلا يَمْشِ فِي إِحْدَاهُمَا بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَالأُخْرَى حَافِيَةٌ، لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا انقطع شسع نعل احدكم او شراكه، فلا يمش في إحداهما بنعل واحدة والاخرى حافية، ليحفهما جميعا او لينعلهما جميعا"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ یا پٹی ٹوٹ جائے تو وہ اس حالت میں نہ چلے کہ ایک پاؤں میں جوتا اور دوسرا پاؤں ننگا ہو، بلکہ وہ دونوں پاؤں سے جوتے اتار دے یا دونوں پاؤں ننگے رکھ کر چلے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم