بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) وضو کے دوران ناک میں پانی ڈالنا

متفرق ابواب
باب: وضو کے دوران ناک میں پانی ڈالنا
احادیث:1

حدیث نمبر: 82

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا توضا احدكم، فليستنشق بمنخريه من ماء، ثم لينتثر"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو وہ ناک کے (دونوں) نتھوں میں پانی چڑھائے پھر ناک جھاڑے۔ ”
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم