(بخاری) سورج گرہن میں اللہ کو یاد کرنا
کتاب: سورج گہن کے متعلق بیان
باب: سورج گرہن میں اللہ کو یاد کرنا
احادیث:1
ترجمہ الباب
رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
رواه ابن عباس رضي الله عنهما.
اس کو عبداللہ بن عباس ؓا نے روایت کیا۔
اس کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا۔
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ وَقَالَ هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ".
حدثنا محمد بن العلاء، قال: حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال:" خسفت الشمس فقام النبي صلى الله عليه وسلم فزعا يخشى ان تكون الساعة، فاتى المسجد فصلى باطول قيام وركوع وسجود رايته قط يفعله وقال هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت احد ولا لحياته، ولكن يخوف الله به عباده، فإذا رايتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره".
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ آفتاب گرہن ہوا تو نبی ﷺ خوفزدہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔ آپ گھبرائے کہ شاید قیامت آ گئی۔ پھر آپ مسجد میں تشریف لائے اور اتنے طویل قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھائی کہ اتنی طویل نماز پڑھاتے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’یہ نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے جینے کی وجہ سے ظہور پذیر نہیں ہوتیں، لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو ذکر الہٰی کی طرف توجہ کرو، نیز دعا اور استغفار بھی خوب کرو۔‘‘
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبا قیام، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے استغفار کی طرف لپکو۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
No product found.