بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) تکبر کی سزا

متفرق ابواب
باب: تکبر کی سزا
احادیث:1

حدیث نمبر: 65

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، خُسِفَ بِهِ الأَرْضُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بينما رجل يتبختر في بردين وقد اعجبته نفسه، خسف به الارض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص دو چادروں میں اتراتا ہوا چل رہا تھا، اور خود پسندی میں مبتلا ہوا، تو (بحکم الٰہی) وہ زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ (اسی طرح) روز قیامت تک رہے گا۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم