بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) اللہ کی راہ میں کھایا ہوا زخم

متفرق ابواب
باب: اللہ کی راہ میں کھایا ہوا زخم
احادیث:1

حدیث نمبر: 93

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُ بِهِ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ يَفْجُرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل كلم يكلم به المسلم في سبيل الله يكون يوم القيامة كهيئتها إذا طعنت يفجر دما، اللون لون الدم والعرف عرف المسك"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو اللہ کی راہ میں جو بھی زخم لگتا ہے وہ روز قیامت اسی حالت پر ہو گا جس طرح کہ وہ لگا تھا، اس سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ خون کی طرح ہو گا اور (اس کی) خوشبو مشک (کستوری) کی طرح ہو گی۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم