بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔

کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔
احادیث:1

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 328

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ؟ فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجِي".
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله،" إن صفية بنت حيي قد حاضت، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلها تحبسنا الم تكن طافت معكن؟ فقالوا: بلى، قال: فاخرجي".
حضرت عائشہ‬ ؓ ز‬وجہ نبی ﷺ سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صفیہ بنت حیی ؓ کو حیض آ گیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شاید وہ ہمیں (مدینہ) جانے سے باز رکھے گی۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کر لیا تھا؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر وہ رخت سفر باندھے۔‘‘
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 329

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ.
حدثنا معلى بن اسد، قال: حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال:" رخص للحائض ان تنفر إذا حاضت.
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر حائضہ کو عذر حیض شروع ہو جائے تو وہ (طواف وداع کے بغیر) مکے سے روانہ ہو سکتی ہے۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے عبداللہ بن طاؤس کے حوالہ سے، وہ اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ حائضہ کے لیے (جب کہ اس نے طواف افاضہ کر لیا ہو) رخصت ہے کہ وہ گھر جائے (اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے)۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 330

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ: إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: تَنْفِرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ".
وكان ابن عمر يقول في اول امره: إنها لا تنفر، ثم سمعته يقول: تنفر، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لهن".
حضرت ابن عمر ؓ پہلے پہلے اس حالت میں مکے سے واپس ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ (حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ) پھر میں نے انہیں یہ فرماتے سنا کہ وہ طواف وداع کے بغیر واپس جا سکتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی تھی۔
ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ اسے (بغیر طواف وداع کے) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

No product found.