بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:12

متفرق ابواب
حدیث نمبر:12

حدیث نمبر:12

حَدَّثَنَا سُحَيْمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ لا يَسْمَعُونَ شَيْئًا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ إِلا الأَذَانَ".
حدثنا سحيم بن القاسم الحراني، حدثنا عيسى بن يونس عن الوصافي، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إن اهل السماء لا يسمعون شيئا من اهل الارض إلا الاذان".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک آسمان میں رہنے والے، زمین والوں (کی باتوں) سے اذان کے سوا کچھ نہیں سنتے ہیں۔“

اس کی سندضعیف ہے
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم