بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں۔

کتاب: علم کے بیان میں
باب: علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں۔
احادیث:1

قسم الحديث: صفات و شمائل

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 99

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ".
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال: حدثني سليمان، عن عمرو بن ابي عمرو، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، انه قال: قيل يا رسول الله، من اسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لقد ظننت يا ابا هريرة، ان لا يسالني عن هذا الحديث احد اول منك لما رايت من حرصك على الحديث، اسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة، من قال لا إله إلا الله خالصا من قلبه او نفسه".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی سفارش سے کون زیادہ حصہ پائے گا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ابوہریرہ! مجھے یقین تھا کہ تجھ سے پہلے کوئی مجھ سے یہ بات نہیں پوچھے گا، کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تجھے حدیث کی بڑی حرص ہے۔ قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ ور وہ شخص ہو گا جس نے اپنے دل یا خلوص نیت سے لا إله إلا الله کہا ہو گا۔‘‘
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم