(بخاری) علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں۔
کتاب: علم کے بیان میں
باب: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں۔
احادیث:3
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): موقوف
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا، ثُمَّ يَتْلُو إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ إِلَى قَوْلِهِ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 159 - 160، إِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمْ والصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِي أَمْوَالِهِمْ،" وَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِهِ، وَيَحْضُرُ مَا لَا يَحْضُرُونَ، وَيَحْفَظُ مَا لَا يَحْفَظُونَ".
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال: إن الناس يقولون اكثر ابو هريرة، ولولا آيتان في كتاب الله ما حدثت حديثا، ثم يتلو إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات إلى قوله الرحيم سورة البقرة آية 159 - 160، إن إخواننا من المهاجرين كان يشغلهم والصفق بالاسواق، وإن إخواننا من الانصار كان يشغلهم العمل في اموالهم،" وإن ابا هريرة كان يلزم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشبع بطنه، ويحضر ما لا يحضرون، ويحفظ ما لا يحفظون".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں: ابوہریرہ نے بہت احادیث بیان کی ہیں۔ اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر انہوں نے ان آیات کو تلاوت کیا: ’’جو لوگ چھپاتے ہیں ان کھلی ہوئی نشانیوں اور ہدایت کی باتوں کو جو ہم نے نازل کیں۔‘‘ الرحیم تک۔ بےشک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بازار میں خرید و فروخت کا شغل رہتا تھا اور ہمارے انصاری بھائی اموال و زراعت کے شغل میں لگے رہتے تھے لیکن ابوہریرہ تو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود رہتا تھا اور ایسے موقع پر حاضر رہتا جہاں لوگ حاضر نہ رہتے اور وہ باتیں یاد کر لیتا جو دوسرے لوگ یاد نہ کر سکتے تھے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اور (میں کہتا ہوں) کہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیت پڑھی، (جس کا ترجمہ یہ ہے) کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی دلیلوں اور آیتوں کو چھپاتے ہیں (آخر آیت) «رحيم» تک۔ (واقعہ یہ ہے کہ) ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتا (تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے) اور (ان مجلسوں میں) حاضر رہتا جن (مجلسوں) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ (باتیں) محفوظ رکھتا جو دوسرے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ، قَالَ: ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ، قَالَ: فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ضُمَّهُ، فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ"، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ بِهَذَا، أَوْ قَالَ: غَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ.
حدثنا احمد بن ابي بكر ابو مصعب، قال: حدثنا محمد بن إبراهيم بن دينار، عن ابن ابي ذئب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال: قلت:" يا رسول الله، إني اسمع منك حديثا كثيرا انساه، قال: ابسط رداءك فبسطته، قال: فغرف بيديه، ثم قال: ضمه، فضممته فما نسيت شيئا بعده"، حدثنا إبراهيم بن المنذر، قال: حدثنا ابن ابي فديك بهذا، او قال: غرف بيده فيه.
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن بھول جاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اپنی چادر پھیلاؤ۔‘‘ میں نے چادر پھیلائی تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو سا بنایا (اور چادر میں ڈال دیا)، پھر فرمایا: ’’اسے اپنے اوپر لپیٹ لو۔‘‘ میں نے اسے لپیٹ لیا، اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ ابراہیم بن منذر نے بھی ابو فدیک کے طریق سے ابن ابی ذئب سے یہ روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں غرف بيديه کی جگہ غرف بيديه فيه کے الفاظ ہیں۔
ہم سے ابومصعب احمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن دینار نے ابن ابی ذئب کے واسطے سے بیان کیا، وہ سعید المقبری سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت باتیں سنتا ہوں، مگر بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھیلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چلو بنائی اور (میری چادر میں ڈال دی) فرمایا کہ (چادر کو) لپیٹ لو۔ میں نے چادر کو (اپنے بدن پر) لپیٹ لیا، پھر (اس کے بعد) میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی فدیک نے اسی طرح بیان کیا کہ (یوں) فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو اس (چادر) میں ڈال دی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ".
حدثنا إسماعيل، قال: حدثني اخي، عن ابن ابي ذئب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال:" حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعاءين، فاما احدهما فبثثته، واما الآخر فلو بثثته قطع هذا البلعوم".
حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے) دو ظرف (برتن) یاد کیے۔ ان میں سے ایک تو میں نے ظاہر کر دیا ہے۔ اگر دوسرے کو بھی ظاہر کر دوں تو میرا یہ گلا کاٹ دیا جائے۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی (عبدالحمید) نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا۔ وہ سعید المقبری سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (علم کے) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
No product found.