بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے۔ (بخاری)

کتاب: ایمان کے بیان میں
باب: رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے۔
احادیث:1

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 37

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص رمضان میں ایماندار ہو کر حصول ثواب کے لیے رات کے وقت قیام کرے گا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے نقل کیا، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم