بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) موت کی تمنا مت کرو

متفرق ابواب
باب:موت کی تمنا مت کرو
احادیث:1

حدیث نمبر: 77

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ، أَوْ قَالَ أَجَلُهُ، وَإِنَّهُ لا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلا خَيْرًا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يتمنى احدكم الموت ولا يدع به من قبل ان ياتيه، إنه إذا مات احدكم انقطع عمله، او قال اجله، وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص مرنے کی تمنا نہ کرے اور موت کے آنے سے قبل اس کی دعا بھی نہ کرے، اس لیے کہ تم میں سے جب کوئی مرتا ہے تو اس کا (وسیلہ) عمل ختم ہو جاتا ہے، یقیناً مومن کی عمر اس کی خیر ہی میں اضافہ کرتی ہے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم