بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(الاربعون في الرد على الشيعة من كتبهم) وراثت

متفرق ابواب
وراثت

تخریج :شرح اصول الكافى:29/2

حدیث نمبر:2

(و ذاك أنّ الأنبياء لم يورثوا درهما و لا دينارا)

و الجواب أنّ المراد أنّ الأنبياء لم يكن من شأنهم و عاداتهم جمع الأموال و الأسباب كما هو شأن أبناء الدنيا

“اور وہ یہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے کوئی درہم یا دینار (مال و دولت) وراثت میں نہیں چھوڑا۔”
“اور جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انبیاء کا شیوہ اور ان کی عادت دنیا داروں کی طرح مال اور اسباب کو جمع کرنا نہیں تھی۔”

اس روایت کے برعکس شیعہ انبیاء کی مالی وراثت کے قائل ہیں، اسی بنیاد پر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا اور فدک کے معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان پر طعن کرتے ہیں۔