بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

ایک گم شدہ دنیا کے سائے میں (قمر بنی ہاشم)

ایک گم شدہ دنیا کے سائے میں

دنیا کبھی ایک ہی لمحے میں تاریک نہیں ہوتی۔

اندھیرا آہستہ آہستہ اترتا ہے۔ پہلے روشنی مدھم ہوتی ہے، پھر راستے دھندلا جاتے ہیں، پھر انسان اپنی سمت پہچاننا چھوڑ دیتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کچھ ایسی ہی تھی۔

فہرستِ مباحث

چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو شاید وہ لفظ گمراہی ہوگا۔ بظاہر یہ دنیا زندہ تھی؛ سلطنتیں قائم تھیں، بادشاہ تختوں پر بیٹھے تھے، لشکر میدانوں میں اترتے تھے، بازار آباد تھے، تجارت کے قافلے ایک سرزمین سے دوسری سرزمین کا سفر کرتے تھے، علم و فلسفہ کے مراکز موجود تھے اور مختلف تہذیبیں اپنی اپنی شان و شوکت کے ساتھ قائم تھیں، لیکن اس ظاہری زندگی کے نیچے انسانیت ایک گہرے روحانی اور اخلاقی زوال میں مبتلا تھی ۔ انسان اپنے خالق کو بھول چکا تھا، زندگی کے مقصد سے دور ہو چکا تھا، طاقت کو حق سمجھنے لگا تھا، نسب کو فضیلت کا معیار بنا چکا تھا، دولت کو عزت کا پیمانہ سمجھتا تھا اور خواہشات کو اپنا رہنما بنا بیٹھا تھا۔ کہیں انسان پتھروں کے سامنے جھک رہا تھا، کہیں بادشاہوں کی طاقت کے سامنے، کہیں مذہبی پیشواؤں کے سامنے اور کہیں اپنی ہی خواہشات کے سامنے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پوری انسانیت ایک ایسے خطرناک راستے پر چل رہی ہو جس کے ایک طرف گہری کھائی تھی اور دوسری طرف تباہی کا دہانہ، مگر چلنے والوں میں سے بہت کم لوگ ایسے تھے جو جانتے تھے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔

عرب میں، جہاں اللہ کی عبادت کی پہلی عمارت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کی تھی، لوگ جہالت اور روحانی زوال کی حالت میں گر چکے تھے۔ کعبہ، جو کبھی توحید اور ایک اللہ  کی بندگی کی وحدت کی علامت تھا، بت پرستی کا اڈہ بن چکا تھا۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، جو کبھی ایمان کا مینارہ تھی، اب لا تعداد بتوں کے سامنے جھکتی تھی۔ سردار بت، ہُبل، کو “آباءِ اصنام” (بتوں کا باپ) کے طور پر پوجا جاتا تھا، جبکہ عُزّٰی اور لات جیسے دوسرروں کے بارے میں یقین تھا کہ وہ لوگوں کی زندگیوں پر اختیار رکھتے ہیں۔ عرب، جو کبھی با عزت اور خوددار تھے، راستہ بھٹک چکے تھے۔

اور عورتوں کا کیا؟ اس معاشرے میں، عورت کو محض ایک ملکیت، ایک شے سمجھا جاتا تھا جسے خریدا جا سکتا ہے، جس پر ظلم کیا جا سکتا ہے اور جسے پھینکا جا سکتا ہے۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج نہ صرف عام تھا بلکہ ایک معیار کے طور پر قبول کیا جاتا تھا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں عورت کا کوئی حق نہ تھا، نہ کوئی آواز، نہ معاشرے میں کوئی مقام۔ ان کی آوازوں کو دبا دیا جاتا تھا، ان کی قدر، ان کی خدمت اور اطاعت کرنے کی صلاحیت کے سوا کسی چیز سے ناپی نہیں جاتی تھی۔

لوگ جہالت میں بھی ڈوبے ہوئے تھے، ایسے کاموں میں ملوث ہو رہے تھے جو عقل اور شرافت دونوں کے خلاف تھے۔ سود، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا تھا، عام ہو چکا تھا۔ معمولی باتوں پر جنگیں چھڑ جاتی تھیں — ایک چوری ہوئی اونٹنی، کنویں پر جھگڑا — اور ان بے معنی لڑائیوں میں پورے پورے قبیلے مٹا دیے جاتے تھے۔ عرب آپس میں ہی  لڑتے رہتے تھے، انصاف کو جاننے سے قاصر، انتقام اور نفرت کے چکر میں پھنسے ہوئے۔

مگر یہ زوال صرف عرب تک محدود نہ تھا۔ عرب کے باہر بھی دنیا کسی حقیقی امن میں نہیں تھی۔ دنیا بظاہر بڑی تھی، تہذیبیں ترقی کر رہی تھیں، سلطنتیں اپنی طاقت کا اظہار کر رہی تھیں، بڑے شہر آباد تھے، تجارت کے راستے براعظموں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہے تھے اور انسان نے علم، فن، تعمیر اور سیاست کے میدانوں میں بہت کچھ حاصل کر رکھا تھا؛ لیکن اس تمام ظاہری ترقی کے باوجود انسانیت کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا تھا۔ انسان یہ تو جانتا تھا کہ سلطنت کیسے قائم کی جاتی ہے، لشکر کیسے منظم کیا جاتا ہے، تجارت کیسے کی جاتی ہے اور شہر کیسے بسائے جاتے ہیں، مگر وہ اپنے وجود کے سب سے بنیادی سوال کے سامنے اب بھی کھڑا تھا: میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ مجھے کس کے سامنے جھکنا ہے؟ اور میری زندگی کا آخری انجام کیا ہے؟

دنیا کے نقشے پر اس وقت دو عظیم طاقتیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں: رومی سلطنت اور ساسانی فارس۔ دونوں کے درمیان صرف چند سو میل کی سرحدی کشمکش نہیں تھی، بلکہ صدیوں سے جاری ایک وسیع سیاسی اور عسکری رقابت تھی۔ کبھی روم غالب آتا، کبھی فارس؛ کبھی ایک سلطنت دوسرے کے علاقوں میں داخل ہوتی اور کبھی جنگ کا رخ بدل جاتا۔ شام، عراق، آرمینیا، قفقاز اور دوسرے سرحدی علاقے بار بار ان طاقتوں کی کشمکش سے متاثر ہوتے۔ تخت پر بیٹھے بادشاہوں کے لیے یہ جنگیں شاید اقتدار، سرحد اور سیاسی برتری کی جنگیں تھیں، مگر ان کے درمیان بسنے والے عام لوگوں کے لیے جنگ کا مطلب اکثر خوف، نقل مکانی، بھوک، تباہی اور اپنے گھروں سے محرومی تھا۔

مشرقی رومی سلطنت، جسے آج ہم بازنطینی سلطنت کے نام سے جانتے ہیں، اپنے وقت کی ایک عظیم ترین سیاسی طاقت تھی۔ اس کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا، ایک ایسا شہر جو یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے تجارت، سیاست اور مذہب کا غیر معمولی مرکز بن چکا تھا۔ اس کے پاس مضبوط فوج تھی، وسیع علاقے تھے، منظم انتظامی ڈھانچہ تھا اور قدیم رومی قانون و تہذیب کی ایک طویل روایت موجود تھی۔

لیکن طاقت اور تہذیب اپنے آپ میں ہدایت کی ضمانت نہیں ہوتیں۔

رومی دنیا میں عیسائیت غالب مذہب بن چکی تھی، مگر عیسائی دنیا خود شدید مذہبی اختلافات سے دوچار تھی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت، ان کی طبیعت، ان کے مقام اور مذہبی عقائد کے مختلف پہلوؤں پر بڑے بڑے مذہبی اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔ کلیسائی مجالس منعقد ہوئیں، عقائد کے فیصلے ہوئے، بعض گروہوں کو درست قرار دیا گیا اور بعض کو بدعتی یا منحرف سمجھا گیا۔ مذہب اب صرف انسان اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا معاملہ نہیں رہا تھا، بلکہ اس کے ساتھ سیاسی اقتدار اور ریاستی نظم بھی جڑ چکا تھا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ رومی دنیا میں ہر شخص گمراہ یا ہر ادارہ برا تھا۔ وہاں عبادت گزار لوگ بھی تھے، علماء بھی تھے، خیرات کرنے والے بھی تھے، اخلاقی زندگی گزارنے والے بھی تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے فہم کے مطابق اللہ کی رضا تلاش کر رہے تھے۔ لیکن مجموعی طور پر وہ اصل خالص توحیدی پیغام جسے انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے، اپنی پہلی حالت میں محفوظ نہ رہا تھا۔

یوں ایک عظیم سلطنت کے پاس طاقت تھی، مگر وحی کی آخری اور محفوظ رہنمائی نہیں تھی۔

روم کے مشرق میں ساسانی فارس ایک دوسری عظیم طاقت تھی۔ اس کا مرکز مدائن تھا، اس کے بادشاہوں کے پاس وسیع سلطنت تھی، مضبوط فوج تھی اور ایک ترقی یافتہ انتظامی نظام تھا۔ فارس میں زرتشتی مذہبی روایت کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی، جبکہ سلطنت کے مختلف حصوں میں عیسائی، یہودی اور دیگر مذہبی گروہ بھی آباد تھے۔

فارس بھی علمی اور تہذیبی اعتبار سے ایک اہم دنیا تھی۔ یہاں فنون، طب، انتظامی علوم، زراعت اور تجارت کی روایات موجود تھیں۔ مگر اس عظمت کے ساتھ معاشرے میں طبقاتی تقسیم بھی گہری تھی۔ شاہی خاندان، فوجی اشرافیہ، مذہبی طبقہ اور دوسرے بااثر طبقات کے مقابلے میں عام انسان کی حیثیت بہت کمزور تھی۔

اور پھر روم کے ساتھ مسلسل جنگوں نے اس سلطنت کی طاقت اور وسائل کو مسلسل آزمایا۔اور ان دونوں کے درمیان رہنے والی انسانیت بار بار ان کے تصادم کی قیمت ادا کر رہی تھی۔

روم اور فارس کے درمیان واقع شام اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی اس عالمی کشمکش سے محفوظ نہیں تھے۔

شام کے شہر تجارت کے اہم مراکز تھے۔ دمشق، حمص اور انطاکیہ جیسے شہر مختلف تہذیبوں اور تجارتی راستوں کو آپس میں جوڑتے تھے۔ یہاں عرب قبائل بھی موجود تھے، عیسائی آبادی بھی تھی اور رومی سیاسی اثر بھی۔

فلسطین کی مذہبی اہمیت تو اس سے بھی زیادہ تھی۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں بہت سے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے، جہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے بڑے واقعات پیش آئے اور جہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کا ایک بڑا حصہ گزرا۔

لیکن یہاں بھی مذہبی اختلافات موجود تھے۔

ایک طرف مقدس مقامات تھے، دوسری طرف ان مقامات سے وابستہ مذہبی اور سیاسی تنازعات۔

انسان کے پاس مقدس تاریخ تھی، مگر اس تاریخ کا اصل مقصد، یعنی اللہ کی خالص بندگی، ہر جگہ اپنی پہلی صورت میں باقی نہ رہا تھا۔

ہندوستان، چین اور جاپان میں، جبکہ باقی دنیا زمین اور طاقت کے لیے لڑ رہی تھی، لوگ اپنی اپنی توہم پرستی اور بت پرستی کی قید میں جکڑے ہوئے تھے۔ مذہبی پیشوا اور بادشاہ اپنے جھوٹےقصے کہانیوں اور کرامتوں  کے شکنجے سے حکومت کرتے تھے، جبکہ غریب اور مظلوم خاموشی سے مصائب جھیلتے تھے۔ یہ معاشرے، باقی سب کی طرح، بدعنوانی، جہالت اور لالچ سے بھرے ہوئے تھے۔ لوگ اپنی موجودگی کی حقیقت سے کٹے ہوئے،فقط جھوٹے معبودوں اور بانج خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی زندگیاں گزار رہے تھے۔

یہاں تک کہ اس نام نہاد آزاد دنیا میں بھی، دنیا کے رہنما اپنے اخلاقی قطب نما سے بھٹک چکے تھے۔ امیر، امیر تر ہو رہے تھے اور غریب، غریب تر۔ لالچ اور خود غرضی ترقی کی محرک قوتیں تھیں، اور مظلوموں کی آہیں استعمال پرستی اور مادہ پرستی کے شور میں دب کر رہ جاتی تھیں۔ دنیا کے حکمران اپنے فرائض فراموش کر چکے تھے، اور عوام خود اپنی زندگی کے مقصد کو بھول چکے تھے۔

یہی وہ کیفیت تھی جسے قرآن مجید نے ایک نہایت لرزا دینے والی تصویر میں بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کی بعثت سے پہلے کی حالت یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

وَ  كُنْتُمْ  عَلٰى  شَفَا  حُفْرَةٍ  مِّنَ  النَّارِ  فَاَنْقَذَكُمْ  مِّنْهَا-كَذٰلِكَ  یُبَیِّنُ  اللّٰهُ  لَكُمْ  اٰیٰتِهٖ  لَعَلَّكُمْ  تَهْتَدُوْنَ﴿سورۃ آل عمران:103

“”اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے، پھر اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔‘‘

یہ آیت اس پورے انقلاب کی شاید سب سے جامع تصویر پیش کرتی ہے۔

لیکن پھر، تاریکی کی اس دنیا میں، اللہ نے محمد ﷺکو بھیجا، آخری اور حتمی رسول۔ عرب کے قلب میں، شہر مکہ میں پیدا ہونے والے نبی کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جو بہت پہلے اپنا راستہ بھول چکا تھا۔ پھر بھی، ان کے گرد پھیلی تاریکی کے باوجود، وہ روشنی کا مینار، حقیقت کے متلاشیوں کے لیے رہنما تھے۔

اللہ نے یہ مقدر کر دیا تھا کہ اللہ  کی بادشاہی یہودیوں سے لے لی جائے گی اور ایک ایسی قوم کو دے دی جائے گی جو اس کے لائق پھل پیدا کرے گی۔ اور اس کی وجہ یہ کہ یہودی صدیوں سے  ایک مسیحا کے منتظر تھے، لیکن جب وہ آئے تو انہوں نے اسے رد کر دیا۔ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا، لیکن انہوں نے سچائی کو چھوڑ کر اپنی گمراہ کن باتوں کو ترجیح دے دی۔ اور اس طرح، پیشین گوئی پوری ہوئی:

“کیا تم نے کبھی صحیفوں میں نہیں پڑھا: ’جس پتھر کو معماروں نے رد کیا تھا وہی کونے کا سرپتھر بن گیا ہے۔ یہ رب کا کام ہے اور ہماری نظر میں یہ عجیب ہے‘؟ میں تم سے کہتا ہوں کہ اللہ  کی بادشاہی تم سے چھین لی جائے گی اور ایک ایسی قوم کو دے دی جائے گی جو اس کے لائق پھل پیدا کرے گی۔” ﴿متی 21:42-43

اب سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد انسانیت کی رہنمائی کی ذمہ داری ورثے میں پانے والی تھی۔ وہ مذہب جسے مسخ کر کے بھلا دیا گیا تھا، اسے بنی اسرائیل کے ذریعے نہیں بلکہ بنی اسماعیل کے ذریعے بحال کیا جائے گا۔ یہی اللہ  کے منصوبے کی بنیاد تھی۔ وہی پتھر جسے رد کر دیا گیا تھا اب ایمان کی بنیاد بننے والا تھا۔

وہ “کونے کا پتھر” جس کا ذکر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کیا — جس پتھر کو معماروں نے رد کیا — محض ایک جسمانی چیز نہ تھا۔ یہ ایمان کی بنیاد تھا، ایک ایسی سچائی جو مضبوط اور اٹل کھڑی رہے گی، چاہے اسے کتنی ہی بار کیوں نہ رد کر دیا جائے۔ جیسا کہ زبور میں ہے:

“جس پتھر کو معماروں نے رد کیا تھا وہی کونے کا سرپتھر بن گیا ہے۔” ﴿زبور 118:22

اور یقیناً، معماروں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد کے ایمان کو رد کر دیا تھا، لیکن اللہ کا منصوبہ ان کے انکار سے بڑا تھا۔

کعبہ، جو کبھی بتوں کا گھر تھا، اب اللہ واحد کے عبادت کا مرکز بننے والا تھا۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد توحید، صرف ایک اللہ کی عبادت کی پاکیزگی بحال کرے گی۔ وہ دنیا میں امن، انصاف اور مساوات کا پیغام لائیں گے۔ محمد ﷺآخری نبی، خاتم النبیین ہوں گے، اور ان کے ذریعے اسلام کا پیغام زمین کے ہر کونے میں پھیلایا جائے گا۔

آج کے لیے ایک پیغام

اور جیسے ہی میں یہاں بیٹھا دنیا کی حالت پر غور کر رہا ہوں، مجھے احساس ہوتا ہے کہ ماضی کی برائیاں آج کی برائیوں سے کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ وہی جہالت، وہی لالچ، وہی جھوٹ جو چھٹی صدی میں دنیا کو لپیٹ میں لیے ہوئے تھے، اکیسویں صدی میں بھی زندہ و سلامت ہیں۔ شاید بت بدل گئے ہوں، لیکن گمراہی کی روح قائم ہے۔ لوگ پیسے، طاقت اور شہرت کی پوجا کرتے رہتے ہیں، اور وہ اللہ کی نشانیوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

حمد ﷺکا پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ متعلقہ ہے۔ دنیا نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ ماضی کے مسائل ہی حال کے مسائل ہیں۔ اور جیسے انسانیت کو چودہ سو سال پہلے نبی کی ضرورت تھی، آج بھی ہمیں ان کی ضرورت ہے — شاید پہلے سے بھی زیادہ۔

اس الجھن اور تقسیم کے زمانے میں، محمد ﷺکی تعلیمات امن، اتحاد اور نیکی کا راستہ پیش کرتی ہیں۔ وہ ہمیں دکھاتی ہیں کہ کیسے ایک دوسرے کے ساتھ اور خالق کے ساتھ ہم آہنگی سے رہا جائے۔

“دنیا گم راہ ہے، لیکن اسلام کی روشنی کے ذریعے ہم اپنا راستہ واپس پا سکتے ہیں۔”

واللہ اعلم بالصواب

علمی تدوین و اضافہ

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔