بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) وضو میں ہر عضو کو تین تین بار دھونا (سنت ہے)۔

کتاب: وضو کے بیان میں
باب: وضو میں ہر عضو کو تین تین بار دھونا (سنت ہے)۔
احادیث:2

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 159

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَىعُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، قال: حدثني إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، ان عطاء بن يزيد اخبره، ان حمران مولىعثمان اخبره، انه راى عثمان بن عفان دعا بإناء، فافرغ على كفيه ثلاث مرار فغسلهما، ثم ادخل يمينه في الإناء فمضمض واستنشق، ثم غسل وجهه ثلاثا ويديه إلى المرفقين ثلاث مرار، ثم مسح براسه، ثم غسل رجليه ثلاث مرار إلى الكعبين، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من توضا نحو وضوئي هذا، ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه".
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ پانی کا برتن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈال کر انہیں دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں ڈال کر پانی لیا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین دفعہ دھویا، بعد ازاں سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت تین بار دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور اس کے بعد دو رکعت ادا کرے اور ان کی ادائیگی کے دوران میں کوئی خیال دل میں نہ لائے تو اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہیں عطاء بن یزید نے خبر دی، انہیں حمران عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے (حمران سے) پانی کا برتن مانگا۔ (اور لے کر پہلے) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ اور (پانی لے کر) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر (پانی لے کر) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے۔ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 160

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمْرَانَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلَا آيَةٌ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا. قَالَ عُرْوَةُ الْآيَةَ: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ سورة البقرة آية 159.
وعن إبراهيم، قال: قال صالح بن كيسان، قال ابن شهاب: ولكن عروة يحدث، عن حمران، فلما توضا عثمان، قال: الا احدثكم حديثا لولا آية ما حدثتكموه، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يتوضا رجل فيحسن وضوءه ويصلي الصلاة، إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة حتى يصليها. قال عروة الآية: إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات سورة البقرة آية 159.
جناب حمران ہی سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں؟ اگر قرآن میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور نماز پڑھے، تو جتنے گناہ اس نماز سے دوسری نماز تک ہوں گے، وہ بخش دیے جائیں گے۔“ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: ﴿بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ کھلی آیات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اس کے بعد کہ ہم کتاب میں ان لوگوں کے لیے صاف بیان کر چکے ہیں، ان پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں﴾
اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، اگر قرآن پاک کی ایک آیت (نازل) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور (خلوص کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور (دوسرے) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں