بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

سیدہ فاطمہ کے گھر کو جلانے کی روایت کی حقیقت: اسلم العدوی کی روایت پر تحقیقی جائزہ

سیدہ فاطمہ کے گھر کو جلانے کی روایت کی حقیقت اسلم العدوی کی روایت پر تحقیقی جائزہ

ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ:

جب رسول اللہ ﷺکے بعد ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے لیے بیعت لی جا رہی تھی، تو علی اور زبیر (رضی اللہ عنہما)، رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے پاس جایا کرتے تھے، ان سے مشورہ کرتے تھے اور اپنے معاملات پر بات چیت کرتے تھے۔ جب یہ بات عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) تک پہنچی تو وہ نکلے یہاں تک کہ فاطمہ کے پاس پہنچے اور کہا:

‘اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی! اللہ کی قسم، ہمارے نزدیک آپ کے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا، اور آپ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ ہمیں کوئی محبوب نہیں ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! میرا یہ پیار مجھے اس بات سے نہیں روک سکے گا کہ اگر یہ لوگ آپ کے پاس (اسی طرح) جمع ہوتے رہے، تو میں حکم دوں کہ ان پر یہ گھر آگ لگا کر پھونک دیا جائے!’

پھر جب عمر وہاں سے چلے گئے تو وہ لوگ (علی اور زبیر) فاطمہ کے پاس آئے۔ انہوں (فاطمہ) نے کہا: ‘کیا تم جانتے ہو کہ عمر میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ (یہاں) جمع ہوئے تو وہ گھر کو تم پر آگ لگا دیں گے؟ اور اللہ کی قسم! وہ جو قسم کھا گئے ہیں، اسے ضرور پورا کر دیں گے۔ اس لیے تم اب کوئی بہتر راستہ اختیار کرو (یہاں سے چلے جاؤ) اور اپنا فیصلہ خود کرو اور میرے پاس دوبارہ نہ آنا۔’

چنانچہ وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور پھر واپس نہیں آئے، یہاں تک کہ انہوں نے ابو بکر کی بیعت کر لی۔”

﴿المصنف ابن ابی شیبہ: 432/7

فہرستِ مباحث

اہلِ تشیع اس روایت کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلانے کی دھمکی منسوب کرنے کے لیے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں۔ لیکن اصولِ حدیث کی روشنی میں اس روایت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہ سند کے اعتبار سے حجت ہے اور نہ ہی متن کے اعتبار سے اشکالات سے خالی ہے۔ ذیل میں اس روایت کا علمی و تحقیقی جائزہ ملاحظہ فرمائیں۔

اسلم مولیٰ عمر ابن الخطاب

“اور اسلم، عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کی کنیت ابو خالد ہے۔ وہ یمن کے قیدیوں میں سے تھے، جنہیں عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) نے اشعریوں سے خریدا تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا (یعنی آپ ﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھے) اور ان کا تعلق حبشہ سے تھا۔”

﴿معرفة الصحابة: 255/1

“اور اسلم، عمر بن الخطاب کے آزاد کردہ غلام، قریشی، عدوی، مدنی (اور) ابو خالد ان کی کنیت ہے۔ وہ یمن کے قیدیوں میں سے تھے۔ انہوں نے (حضرت) عمر سے (احادیث) سنیں، اور ان سے (ان کے بیٹے) زید بن اسلم اور قاسم بن محمد نے روایت کی ہے۔”

﴿التاریخ الکبیر البخاری: 23/2

“15 – (میں نے سنا) میرے والد اور ابو زرعہ کو، وہ دونوں فرما رہے تھے: مراسیل (مرسل احادیث) سے حجت (دلیل) قائم نہیں کی جا سکتی، اور حجت صرف متصل صحیح اسانید سے ہی قائم ہوتی ہے۔

﴿مراسیل ابن ابی حاتم: 7

اسلم رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تو تھے لیکن اس واقعہ کے عینی شاہد نہیں تھے، اور انہوں نے یہ واقعہ کسی صحابی سے بھی روایت نہیں کیا، لہٰذا یہ روایت مرسل ہے۔ویسے تو مرسل اس روایت کو کہتے ہیں جس میں صحابی کا واسطہ دیے بغیر تابعی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کچھ بیان کرے۔لیکن فقہاء اور اصولیین کے نزدیک مرسل کا مفہوم اس سے زیادہ عام ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ روایت جس کی سند کسی بھی طرح منقطع (ٹوٹ) ہو، مرسل کہلاتی ہے، خواہ انقطاع کسی بھی قسم کا ہو۔ یہی امام خطیب بغدادی کا بھی مذہب ہے۔

﴿تیسیر مصطلح الحدیث:باب: المرسل:ص74

 جمہور محدثین کے نزدیک مرسل روایت مستقل حجت نہیں ہوتی، جیسا کہ امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رحمھما اللہ نے صراحت کی ہے۔

مزید برآں امام مسلم رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں:

“والمرسل من الروايات في أصل قولنا وقول أهل العلم بالأخبار ليس بحجة.”

“مرسل روایت ہمارے اصول اور اہلِ علم بالاخبار کے نزدیک حجت نہیں ہے۔”

﴿مقدمہ صحیح مسلم: ص 165

پھر مرسل حدیث، جمہور محدثین، امام شافعی اور بہت سے فقہاء اور علمِ اصول کے ماہرین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔ اور امام مالک اور ایک گروہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: یہ صحیح ہے۔ پس اگر مرسل حدیث کے ظاہر ہونے کا مخرج (راستہ) اس طرح درست ثابت ہو جائے کہ وہ کسی دوسرے طریقے سے مسند (مرفوع) ہو کر یا کسی ایسے راوی کی طرف سے مرسل ہو کر آئے ۔

 ﴿تدريب الرواوي:224،223/1

لہٰذا جمہور محدثین کے اصول کے مطابق اسلم رحمہ اللہ کی یہ مرسل روایت مستقل طور پر قابلِ حجت نہیں۔ اور جن اہلِ علم نے مرسل روایت کو قبول کیا ہے، انہوں نے بھی اس کے لیے تقویت دینے والی شرائط ذکر کی ہیں، نہ کہ ہر مرسل روایت کو مطلقاً حجت قرار دیا ہے۔

الزامی جواب

خیر ادھر سے اتنا تو ثابت ہوا کہ اسلم وہاں موجود نہیں تھا۔ مگر اس روایت کو ماننا بھی ہے تو اس پر الزامی جواب ملاحظہ کرے۔

ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے آپ (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے پاس آنے کی اجازت چاہی، تو انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہسے) پوچھا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں انہیں اجازت دوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی، تو وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان کے پاس داخل ہوئے تاکہ انہیں راضی کریں اور (اس دوران) انہوں نے کہا:

‘اللہ کی قسم! میں نے گھر بار، مال و دولت اور اہل و عیال اور برادری کو صرف اللہ کی رضا، اس کے رسول کی رضا اور تم اہل بیت کی رضا کی خاطر چھوڑا ہے۔’

پھر وہ ان کی دلجوئی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) راضی ہو گئیں۔”

﴿سنن الکبریٰ للبیہقی: 491/6

راوى نمبر 1

١٠٠ – الحَاكِمُ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ حَمْدُوَيْه 

الإِمَامُ، الحَافِظُ، النَّاقِدُ، العَلاَّمَةُ، شَيْخُ المُحَدِّثِيْنَ، أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ البَيِّع (١) الضَّبِّيّ، الطَّهْمَانِيُّ، النَّيْسَابُوْرِيُّ، الشَّافِعِيُّ، صَاحِبُ التَّصَانِيْفِ.

﴿سير اعلام النبلاء:163/17

راوى نمبر 2

٢٦٣ – ابْنُ الأَخْرَمِ مُحَمَّدُ بنُ يَعْقُوْبَ الشَّيْبَانِيُّ 

الإِمَامُ، الحَافِظُ المُتْقِنُ، الحُجَّةُ، أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بنُ يَعْقُوْبِ بنِ يُوْسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، النَّيْسَابُوْرِيُّ، ابنُ الأَخْرَمِ، وَيُعرفُ قَدِيْمًا: بِابنِ الكِرْمَانِيِّ.

﴿سير اعلام النبلاء:467/15

راوى نمبر 3

٢٦٣ – ابْنُ الأَخْرَمِ مُحَمَّدُ بنُ يَعْقُوْبَ الشَّيْبَانِيُّ 

الإِمَامُ، الحَافِظُ المُتْقِنُ، الحُجَّةُ، أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بنُ يَعْقُوْبِ بنِ يُوْسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، النَّيْسَابُوْرِيُّ، ابنُ الأَخْرَمِ، وَيُعرفُ قَدِيْمًا: بِابنِ الكِرْمَانِيِّ.

﴿سير اعلام النبلاء:467/15

راوى نمبر 4

٧١ – عَبْدَانُ عَبْدُ اللهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ جَبَلَةَ الأَزْدِيُّ  (خَ)

الإِمَامُ، الحَافِظُ، مُحَدِّثُ مَرْوَ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَبْدُ اللهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ جَبَلَةَ بنِ أَبِي رَوَّادٍ مَيْمُوْنَ – أَوْ أَيْمَنَ – الأَزْدِيُّ، العَتَكِيُّ مَوْلاَهُمْ، المَرْوَزِيُّ، أَخُو المُحَدِّثِ عَبْدِ العَزِيْزِ شَاذَانَ، وَهُمَا سِبْطَا شَيْخِ مَكَّةَ عَبْدِ العَزِيْزِ بنِ أَبِي رَوَّادٍ

﴿سير اعلام النبلاء:271/10

راوى نمبر 5

٢٥ – أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ المَدَنِيُّ (ع)

الإِمَامُ، المُحَدِّثُ، الصَّدُوْقُ، المُعَمَّرُ، بَقِيَّةُ المَشَايِخِ، أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، المَدَنِيُّ.

﴿سير اعلام النبلاء:87/9

راوى نمبر 6

٨٣ – إِسْمَاعِيْلُ بنُ أَبِي خَالِدٍ البَجَلِيُّ الأَحْمَسِيُّ(ع)

الحَافِظُ، الإِمَامُ الكَبِيْرُ، أَبُو عَبْدِ اللهِ البَجَلِيُّ، الأَحْمَسِيُّ مَوْلاَهُم، الكُوْفِيُّ.

﴿سير اعلام النبلاء:175/6

راوى نمبر 7

١١٣ – الشَّعْبِيُّ عَامِرُ بنُ شَرَاحِيْلَ بن عَبْدِ بنِ ذِي كِبَارٍ 

وَذُوْ كِبَارٍ: قَيْلٌ مِنْ أَقْيَالِ اليَمِنِ، الإِمَامُ، عَلاَّمَةُ العَصْرِ، أَبُو عَمْرٍو الهَمْدَانِيُّ، ثُمَّ الشَّعْبِيُّ.

﴿سير اعلام النبلاء:294/4

الامام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہے:

اور شعبي کی مراسیل عمدہ ہے اور اسلم کا نام بھی موجود بھی نہیں۔

﴿الموقظہ: 48

میرے بھائی اگر مرسل ماننی ہے تو یہ والی مانو ورنہ دونوں ضعیف ہے یا دونوں صحیح ہيں۔

اگر بالفرض مخالف اس مرسل روایت کو قبول کرتا ہے تو پھر اسے اسی درجے کی دوسری مرسل روایت بھی قبول کرنا ہوگی جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کا ذکر موجود ہے۔ اگر ایک مرسل روایت حجت ہے تو دوسری بھی حجت ہوگی، اور اگر مرسل حجت نہیں تو پھر پہلی روایت سے بھی استدلال درست نہیں رہے گا۔ اس لیے اس مسئلے میں یکساں اصول اختیار کرنا ضروری ہے۔

خلاصہ

اس تحقیق سے واضح ہوا کہ ابن ابی شیبہ کی روایت سند کے اعتبار سے مرسل ہے، کیونکہ اسلم رحمہ اللہ اس واقعہ کے عینی شاہد نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی صحابی کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ جمہور محدثین کے نزدیک مرسل روایت مستقل حجت نہیں بنتی۔

مزید یہ کہ اگر مخالف اس روایت کو بطورِ دلیل قبول کرتا ہے تو اسی اصول کے مطابق اسے وہ مرسل روایت بھی قبول کرنا ہوگی جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کا ذکر موجود ہے۔ لہٰذا ایک ہی قسم کی روایات میں مختلف اصول اختیار کرنا علمی انصاف کے خلاف ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

زائر عباس

زائر عباس

زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔