فدک اور ناراضگیِ فاطمہ کی حقیقت
فدک کے مسئلے میں سب سے زیادہ پیش کی جانے والی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح بخاری کی روایت ہے، جسے شیعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پہلے روایت ملاحظہ فرمائیں:
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے عقیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی کریمﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی اس میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں مالِ فئے کے طور پر دی تھا اور جو خیبر کے خمس (پانچویں حصے) سے بچا ہوا تھا۔
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، البتہ آلِ محمد ﷺ اسی مال میں سے کھاتی رہے گی۔ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے صدقے میں اس حالت سے کوئی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تھا، اور میں اس میں وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کا تھا۔
چنانچہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس میں سے کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا۔
اس بات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور ان سے گفتگو ترک کر دی، اور اپنی وفات تک ان سے بات نہیں کی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔
﴿صحیح البخاری: 4240﴾
اس سے روافض سے اعتراض اٹھتے کہ سیدنا ابوبکر نے سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو حق نہیں دیا اس وجہ سے وہ ناراض ہو گی اور بات ترک کردی۔ روافض حضرات سے ایک سوال ہے کیا امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے صحیح سند قول مروی نہیں کہ علما انبیاء کی وارث ہوتے ہے اور انبیاء مال و درہم نہیں چھوڑتے۔ (الکافی)
سیدنا ابوبکر کا فیصلہ بالکل صحیح تھا اور نہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا غلط تھی کیوں کہ وہ اس کہ انتظام کہ طور پر لینا چاہتی تھی۔
سيدنا ابوبكر رضى الله عنه كا ادب (كتب شيعہ)
شیعہ عموماً فدک کے واقعہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان نزاع اور بے ادبی کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ خود شیعہ مصادر اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ذیل میں شیعہ کتاب “الاحتجاج للطبرسی” سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہ جواب ملاحظہ فرمائیں جس سے اہلِ بیتِ نبوت رضی اللہ عنھم کے ساتھ ان کے ادب، احترام اور حسنِ عقیدت کا واضح ثبوت ملتا ہے:
ابوبکر نے کہا: اے بنتِ رسول! آپ کے بابا مومنین کیلئے مہربان و کریم اور خیر خواہ تھے، کافرین کے مقابل سخت و شدید اور عذاب کی طرح دکھائی پڑتے تھے، آپ کے والد اور علی ابن ابی طالب آپ کے شوہر ہیں، آپ اہل بیتِ رسول اور ان کے اہل خاندان سے ہیں، آپ لوگ دوسرے افراد میں منتخب ہیں، آپ کو دوست نہیں رکھے گا مگر وہ شخص جو کہ سعادت مند ہے اور دشمن نہیں رکھے گا مگر وہ شخص جو کہ شقی بد بخت ہے، آپ لوگ ہماری سعادت و خوش نصیبی کا وسیلہ ہیں۔
اے خاتم الانبیاء کی بہترین بیٹی اے سردار خواتین! آپ اپنی باتوں میں سچی اور عقل و خرد اور کمال کے لحاظ سے بالاتر ہیں کسی کو حق نہیں کہ آپ کے قول کو رد کرے اور آپ کے حق کو لے لے، لیکن بخدا قسم! میں نے رسولِ خدا کی رائے سے تجاوز نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے قول کے خلاف عمل کیا ہے۔
ہاں! جو شخص کسی قوم وملت کیطرف سے تحقیق کیلئے بھیجا جاتا ہے وہ اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولتا، میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے رسولِ خدا کو فرماتے سنا ہے:
“ہم گروہِ انبیاء سونا، چاندی، زمین و مال میراث نہیں چھوڑتے ہماری میراث علم و حکمت اور کتاب و نبوت ہے اور جو کچھ مال دنیا سے باقی رہ جائے وہ اس کے اختیار میں ہے جو کہ ہماری وفات کے بعد امورِ عامہ کی ولایت و حکومت کا مالک ہو وہ جیسی صلاح دیکھے اسے صرف کرے۔آپ جو مطالبہ کر رہی ہیں، میں اسے جنگ کے اسلحے، اس کے وسائل و اسباب اور چوپایوں پر خرچ کروں گا تاکہ مسلمان قدرت مند، مضبوط ہوں اور کفار و مخالفین سے جنگ و جہاد کے وقت غالب رہیں۔
یہ صرف میرا خیال اور میری بات نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کی رائے اور امت کا اجماع ہے، ہم ہرگز ہرگز کوئی مقصد و مطلب آپ سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے یا کوئی چیز آپ سے چھپانا نہیں چاہتے۔ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میں آپ کو دیتا ہوں، میں اپنی طرف سے کوئی سختی و دشمنی نہیں کروں گا، آپ اپنے پدرِ بزرگوار کی امت کی سردار ہیں۔
پیغمبرِ اسلام کے فرزندوں کی مادرِ گرامی ہیں، ہم آپ کے مال کو آپ سے نہیں لینا چاہتے، باپ اور بیٹوں کے اعتبار سے آپ کی منزلت و عزت کا انکار بھی نہیں کر سکتے، جو کچھ میرے ہاتھوں میں ہے اس میں آپ کا امر اور حکم نافذ ہوگا لیکن کیا میں آپ کے بابا کے قول کی مخالفت کر سکتا ہوں؟
﴿احتجاج طبرسي:189،188/1﴾
اندراج زهرى
مدرج اسے کہتے ہیں کہ متنِ حدیث میں راوی کے کلام (تفسیر و تشریح وغیرہ) سے کچھ اضافہ ہو جائے، اور سننے والا سمجھ بیٹھے کہ یہ اضافی نوعِ حدیث میں (مدرج) ہے، پھر وہ اسی طرح روایت کرنے لگے۔﴿اختصار علوم الحدیث:53﴾
محدثین کے مطابق اس روایت میں راوی (امام زہری) کے اپنے الفاظ (ادراج) شامل ہیں جو کہ حدیثِ رسول کا حصہ نہیں بلکہ ان کی اپنی تاریخی یا تفسیری وضاحت ہے۔ابن شہاب الزہری(تولد تقریباً 67ھ، وفات 124/125ھ) جلیل القدر تابعی اور امامِ حدیث ہیں۔ انہوں نے یہ روایت امام عروہ بن زبیر سے نقل کی، اور پھر ان کے متعدد شاگردوں، جیسے شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور صالح بن کیسان نے اسے روایت کیا۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ انہی شاگردوں سے منقول متعدد طرق میں اصل واقعہ تو موجود ہے، لیکن “فغضبت فاطمة” اور “فهجرته” جیسے الفاظ روایت میں موجود نہیں۔ یہ اختلافِ طرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان الفاظ کے ثبوت میں یکسانیت نہیں، بلکہ مختلف روایات میں الفاظ کا اختلاف پایا جاتا ہے۔
لہٰذا یہ محلِ تحقیق ہے کہ آیا یہ الفاظ اصل روایت کا لازمی حصہ ہیں یا بعض طرق میں بطورِ زیادت نقل ہوئے ہیں۔ کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اس واقعے کی تمام صحیح روایات میں “ناراضگی” کا ذکر یکساں طور پر موجود نہیں، اس لیے صرف انہی الفاظ کو بنیاد بنا کر قطعی نتائج اخذ کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔
خیر اس روایت کے بہت طرق ہے جس میں ناراضگی کا ذکر نہیں مگر میں آپ کے سامنے:
شعیب بن ابی حمزہ
عقیل بن خالد
صالح بن کیسان
یہ واقعہ متعدد روایات سے بیان ہوا ہے۔ سوائے ابن شہاب زہری والے طرق کی چند روایات کے کسی اور طرق یاکسی اور راوی سے ناراضگی مروی نہیں ہے۔ناراضگی یا الفاظ سے ثابت ہوتی ہے یا چہرے سے۔سیدہ کے الفاظ بھی نہیں اور راوی امام زہری اس واقعے کے عینی شاہد نہیں لہٰذا سیدہ کا چہرہ تو اس نے نہیں دیکھا۔امام زہری کے علاوہ کسی اور طریق سے یہ ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ اس کا ادراج اور گمان ہے۔
اب وہ روایات پیش کروں گا جن میں اندراجِ زہری موجود نہیں۔
شعیب بن ابی حمزہ
دليل نمبر 1:
ہمیں محمد بن عوف الطائی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار، ابو الیمان اور بشر بن شعیب نے حدیث بیان کی، ان سب نے کہا: ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ (ام المومنین) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا:
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس (آدمی) بھیجا تاکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی اس میراث کا تقاضا کریں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مالِ فئے (بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال) میں سے عطا فرمایا تھا۔ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی کریم ﷺ کے اس صدقے (مال) کا مطالبہ کر رہی تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس (پانچویں حصے) میں سے باقی بچا تھا۔
تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (جواب میں) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمد (ﷺ) تو بس اسی مال میں سے کھا سکتی ہے— یعنی اللہ کے مال میں سے— انہیں اس سے زیادہ لینے کا حق نہیں ہے۔” اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے صدقات (کے نظام) میں سے کسی چیز کو بھی اس کی اس حالت سے نہیں بدلوں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تھی۔
اور میں اس (مال) میں یقیناً وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو اس میں رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا تھا
﴿کِتَابُ المُنْتَقٰی: 408،407﴾
دليل نمبر 2:
ہمیں محمد بن عوف الحمصی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار اور بشر بن شعیب نے حدیث بیان کی، — عثمان نے کہا: — ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے روایت کی کہ (ام المومنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا:
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پاس (آدمی) بھیجا تاکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی اس میراث کا تقاضا کریں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مالِ فئے (بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال) میں سے عطا فرمایا تھا۔ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی کریم ﷺ کے اس صدقے (مال) کا مطالبہ کر رہی تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس (پانچویں حصے) میں سے باقی بچا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (جواب میں) کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمد (ﷺ) تو بس اسی مال میں سے کھا سکتی ہے” یعنی اللہ کے مال میں سے “
یعنی اللہ کے مال میں سے — “انہیں خوراک (ضرورت) سے زیادہ لینے کا حق نہیں ہے۔ اور اللہ کی قسم! میں نبی کریم ﷺ کے صدقات (کے نظام) میں سے کسی چیز کو بھی اس کی اس حالت سے نہیں بدلوں گا جس پر وہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں تھی، اور میں اس میں یقیناً وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو اس میں نبی کریم ﷺ نے اختیار کیا تھا۔” پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس (مال) میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا۔
﴿مستخرج ابی عوانة: 301،302/14﴾
یہاں سے ایک چیز واضح ہو رہی ہے کہ ان ترک میں اتنا تضاد ہے کہ کہیں الفاظ ترک آتے ہے اور کہیں نہیں آتے جو اس روایت میں اندراج کو واضح کرتے۔
عقیل بن خالد
دليل نمبر 1:
ہمیں ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے خبر دی، انہیں احمد بن عبید الصفار نے بتایا، ہمیں احمد بن ابراہیم بن ملحان نے حدیث بیان کی، انہیں ابن بکیر نے، انہیں لیث نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا:
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس (آدمی) بھیجا تاکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی اس میراث کا تقاضا کریں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مالِ فئے میں سے مدینہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس (پانچویں حصے) میں سے باقی بچا تھا۔ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (جواب میں) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، آلِ محمد (ﷺ) تو بس اسی مال میں سے کھا سکتی ہے”، اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے صدقے (کے نظام) میں سے کسی چیز کو بھی اس کی اس حالت سے نہیں بدلوں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تھی، اور میں اس میں یقیناً وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا تھا۔ اور راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
﴿سنن الکبریٰ البیہقی: 103/7﴾
دليل نمبر 2:
نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس (آدمی) بھیجا تاکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی اس میراث کا تقاضا کریں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مالِ فئے میں سے مدینہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس (پانچویں حصے) میں سے باقی بچا تھا۔ تو سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے (جواب میں) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمد (ﷺ) تو بس اسی مال میں سے کھا سکتی ہے”، اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے صدقے (کے نظام) میں سے کسی چیز کو بھی اس کی اس حالت سے نہیں بدلوں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تھی، اور میں اس میں یقیناً وہی طرزِ عمل اختیار کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نےاختیار کیا تھا۔ پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس (مال) میں سے سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا۔
﴿سنن ابی داود: 588/4﴾
یہاں عقیل بن خالد کے ترک میں بھی اس ناراضگی کا ذکر موجود نہیں ہے۔
صالح بن کیسان
دليل نمبر 1:
ہمیں زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں میرے والد (ابراہیم) نے صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی، (انہوں نے کہا) مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر (رضی اللہ عنہ) سے تقاضا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ترکے میں سے ان کا مروجہ حصہ (میراث) انہیں تقسیم کر دیں، اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مالِ فئے (بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال) کے طور پر عطا فرمایا تھا۔ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔”
﴿مسند ابی یعلیٰ: 71،70/1﴾
دليل نمبر 2:
اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی۔ (تحویل سند) اور ہمیں زہیر بن حرب اور حسن بن علی الحلوانی نے بھی حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں یعقوب (جو کہ ابن ابراہیم ہیں) نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں ہمارے والد نے صالح سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی، (انہوں نے کہا) مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا:
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر (رضی اللہ عنہ) سے تقاضا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ترکے میں سے ان کا مروجہ حصہ (میراث) انہیں تقسیم کر دیں، اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مالِ فئے (بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال) کے طور پر عطا فرمایا تھا، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: “ہمارا (انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔” راوی نے بیان کیا: اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں، اور وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اپنے اس حصے کا تقاضا کرتی تھیں جو (رسول اللہ ﷺ نے) چھوڑا تھا یعنی خیبر اور فدک (کے اموال) اور مدینہ میں موجود آپ ﷺ کے صدقات میں سے۔ پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ (مال) دینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: “میں کسی بھی ایسے کام کو چھوڑنے والا نہیں ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ عمل فرمایا کرتے تھے مگر یہ کہ میں خود بھی اس پر عمل کروں گا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ ﷺ کے احکامات میں سے کسی چیز کو بھی چھوڑ دیا تو میں گمراہ (راہِ راست سے منحرف) ہو جاؤں گا۔”
چنانچہ مدینہ والے صدقے (کے انتظام) کا معاملہ تھا، تو (بعد میں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے سپرد کر دیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب رہے (یعنی اس کا انتظام سنبھالتے رہے)۔ اور جہاں تک خیبر اور فدک کا تعلق ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو (سرکاری تحویل میں) برقرار رکھا اور فرمایا: “یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صدقات (اموال) ہیں، جو آپ ﷺ کی پیش آنے والی ضروریات اور حادثات (ملکی و عوامی اخراجات) کے لیے وقف تھے، اور ان کا معاملہ اس شخص کے سپرد رہے گا جو اولو الامر (سربراہِ مملکت) بنے گا۔” راوی نے کہا: پس وہ دونوں (اموال) آج کے دن تک اسی حالت پر چلے آ رہے ہیں۔
﴿صحیح مسلم: 1382،1381/3﴾
یہاں سے تضاد اور زُہری کا اندراج دونوں ثابت ہوجاتا۔اس مسئلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی ایک اہم علمی نکتہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“ثابت ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ وہ اس کے بعد ستر (70) دن زندہ رہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ آٹھ مہینے، اور ایک قول یہ ہے کہ دو مہینے۔ یہ بات عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے بھی مروی ہے۔ اور بیہقی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا قول ‘وعاشت الخ’ (اور وہ زندہ رہیں…) ادراج ہے (یعنی یہ راوی کا اپنا کلام ہے جو حدیث میں شامل ہو گیا)، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ مسلم کے ہاں زہری کے طریق سے ایک دوسری روایت موجود ہے جس کے آخر میں حدیث کا ذکر کر کے کہا گیا ہے: ‘میں نے زہری سے پوچھا: فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ان کے بعد کتنا عرصہ زندہ رہیں؟ انہوں نے کہا: چھ مہینے’۔ اور مسلم کے ہاں یہ روایت اسی طرح ہے، بلکہ اس میں یہ (کلام) بخاری کی طرح متصل (موصولاً) واقع نہیں ہوا ہے۔ واللہ اعلم (اور اللہ بہتر جانتا ہے)۔”
﴿فتح البارى ابن حجر:494/7﴾
ایک طرق ، ایک راوی اور اس کا گمان،شیعہ کا بس اسی پر ایمان!
آخر کیا وجہ ہے کہ اہل تشیع فرد واحد کے ایسے ادراج پر دین ایمان بناتے ہیں جس کا رد دوسرے مضبوط حقائق سے ثابت ہے۔ کیا شیعہ عقائد اس طرح گھڑے گئے ہیں؟
"ترکِ کلام" کا صحیح مفہوم
متعدد روایات کے تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ نے بعض مقامات پر واقعے کی توضیح اپنے الفاظ میں بیان کی ہے۔ مزید برآں بعض طرق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ “ترکِ کلام” کا تعلق مطلق طور پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو ترک کرنے سے نہیں بلکہ میراث کے اسی مخصوص معاملے سے تھا۔ اس کی وضاحت درج ذیل دلائل سے ہوتی ہے:
اگر مصنف عبد الرزاق كى روايت كو ديكها جاے تو الفاظ جو قال ہے یہ تو مرد کے لیے استعمال ہوتا اور لفظ قالت عورت کے لیے تو یہ اس چیز کی دلیل ہے کہ یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ الفاظ نہیں مگر یہ کسی مرد کے الفاظ ہے جو امام زہری رحمہ اللہ ہے۔
﴿مصنف عبد الرزق:472/5﴾
امام قسطلانى رحمة الله عليه شرح بخارى ميں لکہتے:
اور معمر کی روایت میں ہے: ‘پس فاطمہؓ نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی، اور وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی’۔ اور عمر بن شبہ کے ہاں معمر سے ہی ایک دوسرے طریقے (سند) سے یہ الفاظ آئے ہیں: ‘پس انہوں نے اس مال (میراث) کے معاملے میں ان سے گفتگو نہیں کی’، اسی لیے ترمذی نے اپنے بعض شیوخ سے نقل کیا ہے کہ: فاطمہؓ کے ابو بکرؓ اور عمرؓ سے یہ کہنے کا مطلب کہ ‘میں تم دونوں سے بات نہیں کروں گی’، یعنی: اس میراث کے معاملے میں (بات نہیں کروں گی)۔”
﴿ارشاد السارى الشرح صحيح البخارى:447/11﴾
واضح ہوا کہ اس سے مراد نارضگیی نہیں بلکہ یہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نہ میراث کہ معاملہ کو ترک کیا۔
دلیل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: حضرت فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے ترکے سے اپنی میراث کا تقاضا کر رہے تھے اور اس وقت وہ فدک اور خیبر میں آپ ﷺ کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ‘ہم (انبیاء) کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، آلِ محمد (ﷺ) صرف اس مال میں سے کھا سکتے ہیں’۔ اور اللہ کی قسم! میں کسی ایسے معاملے کو نہیں بدلوں گا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا، میں بھی بالکل ویسا ہی کروں گا۔” (زہری) پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دوری اختیار کر لی اور اس مال کے معاملے میں اپنی وفات تک دوبارہ ان سے گفتگو نہیں فرمائی۔
﴿تاريخ مدینہ ابن شبہ:197/1﴾
ادہر سے زہری رحمہ اللہ کا اندراج اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا میراث کہ معاملہ میں گفتگو کو ترک کرنا نہ کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کلام ترک کرنا مذکور ہے۔
ان تمام روایات کے مجموعی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ “فَهَجَرَتْهُ” یا “ترکِ کلام” کے الفاظ کو مطلق معنی پر محمول کرنا درست نہیں۔ متعدد طرق اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اگر ترکِ گفتگو ثابت بھی مان لیا جائے تو وہ فدک و میراث کے اسی مخصوص معاملے سے متعلق تھا، نہ کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہر قسم کے تعلق یا گفتگو کے انقطاع سے۔ یہی وجہ ہے کہ امام قسطلانی رحمہ اللہ نے بھی اس مفہوم کی وضاحت نقل کی ہے، اور تاریخ ابن شبہ کی روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ لہٰذا اس روایت سے دائمی ناراضگی یا مطلق ترکِ کلام پر استدلال کرنا علمی اعتبار سے محلِ نظر ہے۔
بالفرض وراثتِ نبوی تسلیم کر لی جائے تو؟
اللہ کے بندو! بالفرض ایک لمحے کے لیے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ فدک میراثِ نبوی تھا اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بطور وارث اس کا حق حاصل تھا، تب بھی ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے:
پورا فدک صرف سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی کا حق کس طرح بن جاتا ہے؟
قرآن مجید کے مطابق میراث صرف بیٹی میں منحصر نہیں ہوتی بلکہ دیگر شرعی ورثاء بھی اپنے اپنے حصے کے حق دار ہوتے ہیں۔ اگر فدک واقعی میراث تھا تو پھر اس کے شرعی حصص کا تعین قرآنِ مجید کے مطابق ہونا چاہیے تھا، نہ کہ مکمل جائیداد کو ایک ہی وارث کا حق قرار دیا جاتا۔
لہٰذا وراثت کے دعوے کو تسلیم کر لینے کے بعد بھی یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ پورے فدک پر واحد ملکیت کا دعویٰ کس قرآنی اصول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے؟
اسی وجہ سے فدک کے مسئلے میں صرف “میراث” کا دعویٰ پیش کر دینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ضروری ہے کہ شرعی وراثت کے تمام اصولوں کے مطابق پورا فدک صرف ایک ہی وارث کا حق کیسے قرار پاتا ہے۔
ناراضگیِ فاطمہ اور قرآنی مثال
بعض اہلِ تشیع یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فدک کا مطالبہ کیا اور انہیں مطلوبہ فیصلہ نہ ملا تو اس سے ناراضگی اور ترکِ تعلق ثابت ہو جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے خود ان کے اپنے الفاظ میں یہ شدید ناراضگی، دائمی ترکِ کلام اور قطعِ تعلق ثابت ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس دعوے کی بنیاد ابن شہاب زہری کے بعض طرق پر ہے، جبکہ متعدد دیگر طرق میں نہ ناراضگی کا ذکر ہے، نہ ترکِ کلام کا اور نہ ہی ان اضافی تفصیلات کا جنہیں بعض لوگ اصل واقعے کا لازمی حصہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ اگر کسی شخص کو کسی معاملے میں دلی رنج یا غم لاحق ہو جائے تو اس سے لازماً دوسرے فریق کا ظالم یا مجرم ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے:
“اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو غضب ناک اور رنجیدہ تھے۔”﴿سورۃ الأعراف: 150﴾
پھر آگے فرمایا:
“موسیٰ نے کہا: اے ہارون! جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تو تمہیں کس چیز نے روکا؟”﴿سورۃ طٰہٰ: 92﴾
حالانکہ سیدنا ہارون علیہ السلام قصوروار نہ تھے۔ لہٰذا محض رنج یا ناراضگی کا پایا جانا کسی فریق کے باطل یا گناہگار ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔
اسی طرح اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ فدک کے معاملے میں سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دلی رنج ہوا، تو اس سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غلط ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ انہوں نے اپنا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ حدیث «لا نورث، ما تركنا صدقة» کی بنیاد پر کیا تھا، نہ کہ اپنی ذاتی رائے یا خواہش کی بنا پر۔
لہٰذا اصل محلِ نزاع یہ ہے کہ کیا ناراضگی والی تفصیلات تاریخی طور پر ثابت ہیں یا نہیں؟ اور اگر ثابت بھی مان لی جائیں تو کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر طعن کی دلیل بنتی ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ انسانی فطرت کے مطابق کسی معاملے میں رنجش کا پیدا ہو جانا ایک الگ چیز ہے، جبکہ کسی شخص کے شرعاً یا اخلاقاً خطا کار ہونے کا دعویٰ الگ چیز ہے۔
شیعہ کتب سے فدک اور دیگر املاکِ فاطمہ کی حقیقت
اہل تشیع کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ منسوب تمام جائیدادیں فدک ہی تک محدود نہیں تھیں بلکہ بعض دیگر باغات اور املاک بھی موجود تھیں جن کے بارے میں خود شیعہ مصادر میں یہ تصریح ملتی ہے کہ وہ بطور میراث نہیں بلکہ وقف کی حیثیت رکھتے تھے۔
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے، انہوں نے ابوالحسن ثانی [امام علی رضا] (رحمہ اللہ) سے روایت کی، آپ نے فرمایا:
میں نے آپ سے ان سات باغات (حسیان/دیواروں سے گھرے ہوئے باغ) کے بارے میں سوال کیا جو رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے وراثت/ترکہ تھے،تو آپ نے فرمایا: “نہیں، بلکہ وہ وقف تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) ان میں سے صرف اتنا لیتے تھے جو آپ کے مہمانوں اور ان سے وابستہ اخراجات (یا ضروریات) پر خرچ کرنے کے لیے ضروری ہوتا تھا،پس جب آپ (ﷺ) کی رحلت ہوئی، تو عباس آئے اور اس معاملے میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے اختلاف (یا بحث) کرنے لگے، تو علی (رضی اللہ عنہ) اور دیگر حضرات نے گواہی دی کہ وہ (باغات) فاطمہ پر وقف ہیں،(ان باغات کے نام یہ ہیں:) الدلال، العواف، الحسنیٰ، الصافیہ، امِ ابراہیم کا باغ، المیثب، اور البرقہ۔”
﴿الكافى:47/7﴾
علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی نجران سے، انہوں نے عاصم بن حمید سے، انہوں نے ابوبصیر سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: ابو جعفر (امام محمد باقر) رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں فاطمہ رضی اللہ عنھا کی وصیت پڑھ کر نہ سناؤں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، ضرور۔
راوی کہتے ہیں: پس انہوں نے ایک چھوٹا سا ڈبہ یا ایک پٹاری نکالی، اس میں سے ایک تحریر برآمد کی اور اسے پڑھا:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یہ وہ وصیت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ نے کی ہے۔ انہوں نے اپنے سات باغات (حوائط) کی وصیت کی ہے: العواف، الدلال، البرقہ، المیثب، الحسنیٰ، الصافیہ، اور ام ابراہیم کا باغ۔ (یہ سب) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں۔ اگر علی رحلت فرما جائیں تو حسن کے لیے، اگر حسن رحلت فرما جائیں تو حسین کے لیے، اور اگر حسین رحلت فرما جائیں تو میری اولاد میں سے جو عمر میں سب سے بڑا ہو (اس کے لیے ہوں گے)۔ اس پر اللہ گواہ ہے، اور مقداد بن اسود اور زبیر بن عوام گواہ ہیں، اور اسے علی بن ابی طالب نے لکھا ہے۔”
﴿الكافى:48/7﴾
ان روایات سے کم از کم دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
اول: شیعہ روایات کے مطابق فدک کے علاوہ بھی ایسی املاک موجود تھیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاا سے منسوب تھیں۔
دوم: سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان باغات اور املاک کو ضبط یا منسوخ نہیں کیا، بلکہ وہ بعد میں بھی اہل بیت کے تصرف میں رہیں، حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت میں ان کا ذکر موجود ہے۔
لہٰذا یہ دعویٰ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تمام املاک یا حقوق سلب کر لیے تھے، خود شیعہ روایات کے مطابق محلِ نظر معلوم ہوتا ہے۔ مزید برآں اگر یہ باغات وقف تھے تو فدک کے بارے میں وراثت کا دعویٰ بھی ازسرِنو تحقیق کا محتاج ہو جاتا ہے، کیونکہ خود شیعہ مصادر بعض املاک کو میراث کے بجائے وقف قرار دیتے ہیں۔
شیعہ کتب سے فدک کی آمدنی کا مصرف
نیز اس بات کی تائید شیعہ متقدمین اور متأخرین کی متعدد معتبر کتابوں سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فدک کی آمدنی اپنے ذاتی استعمال کے لیے نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس میں سے اہلِ بیت کو ان کی ضروریات کے مطابق دیتے تھے اور باقی مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کر دیتے تھے۔
“اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اس کی پیداوار (آمدنی) لیتے تھے، پھر اس میں سے انہیں اتنا دیتے تھے جو ان کے لیے کافی ہو جائے، اور باقی کو تقسیم کر دیتے تھے۔”
﴿شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد: 216/16﴾
﴿الموسوعة الكبرى عن فاطمة الزهراء: 514/12﴾
﴿الكوثر في أحوال فاطمة بنت النبي الأعظم: 197/6﴾
﴿السقيفة وفدك: 103﴾
﴿موسوعة التاريخ الإسلامي: 59/4﴾
ان شیعہ مصادر سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک کو اپنی ذاتی ملکیت یا ذاتی آمدنی کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق بطورِ صدقہ برقرار رکھا۔ اس کی آمدنی میں سے اہلِ بیت کو ان کی ضروریات کے مطابق دیا جاتا تھا اور باقی مسلمانوں کے مصالحِ عامہ پر خرچ کیا جاتا تھا۔ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقصد اہلِ بیت کا حق غصب کرنا ہوتا تو وہ ان کی ضروریات کے مطابق فدک کی آمدنی میں سے ان کا حصہ ہرگز نہ دیتے۔ لہٰذا خود شیعہ متقدمین و متأخرین کے مصادر اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اقدام ذاتی مفاد پر مبنی نہیں بلکہ شرعی امانت داری، دیانت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی پر مبنی تھا۔
انبیاء کی وراثت کے متعلق شیعہ روایات
اگر شیعہ مصادر کے مطابق انبیاء درہم و دینار بطور وراثت نہیں چھوڑتے۔تو فدک کے مسئلے میں پیش کیے جانے والے بعض دعوے مزید وضاحت اور تطبیق کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے محمد بن خالد سے، انہوں نے ابو البختری سے، انہوں نے امام جعفر صادق (رحمہ اللہ) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
“بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ انبیاء نے (وراثت میں) کوئی درہم یا دینار نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے اپنی احادیث (اپنے علوم و تعلیمات) کی وراثت چھوڑی ہے۔ پس جس نے ان (تعلیمات) میں سے کچھ بھی حاصل کر لیا، اس نے (خیر و برکت کا) ایک بڑا حصہ پا لیا۔
پس تم دیکھو کہ یہ اپنا علم کس سے حاصل کر رہے ہو؟ کیونکہ ہم اہل بیت میں ہر نسل (اور دور) میں ایسے عادل و منصف لوگ موجود ہوتے ہیں جو اس (دین) سے غلو کرنے والوں کی تحریف (تبدیلیوں)، باطل پرستوں کے جھوٹے دعووں اور جاہلوں کی غلط تاویلات (غلط تشریحات) کو دور کرتے ہیں۔”
﴿اصول كافى:32/1﴾
وراثت علی رضی اللہ عنہ:
“محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے نضر بن سوید سے، انہوں نے یحییٰ حلبی سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے، انہوں نے امام جعفر صادق (رحمہ اللہ) سے روایت کی، آپ نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ترکے (سامان) میں ایک تلوار، ایک زرہ، ایک نیزہ (یا چھوٹا بھالا)، ایک کجاوہ (زین) اور اپنا سفید و سیاہ مائل (خاکستری) خچر چھوڑا، پس یہ سب کچھ علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کو وراثت میں ملا۔”
﴿اصول كافى:234/1﴾
ہمارے اصحاب (ساتھیوں) میں سے دو شخصیات کے بارے میں جن کے درمیان قرض یا وراثت کا کوئی جھگڑا ہو، اور وہ (اپنا فیصلہ کروانے کے لیے) کسی بادشاہ (حکمران) یا قاضیوں (عدالتوں) کے پاس جائیں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
انہوں نے (امام رحمہ اللہ نے) فرمایا: جو شخص بھی حق یا باطل کے فیصلے کے لیے ان کے پاس جائے گا، اس نے گویا طاغوت (باطل قوت/ناجائز حکمران) سے فیصلہ کروایا۔ اور وہ جو کچھ بھی اس کے حق میں فیصلہ کریں گے، وہ اسے حرام (مال) کی صورت میں حاصل کرے گا، چاہے وہ اس کا ثابت شدہ حق ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس نے اسے طاغوت کے فیصلے کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس (طاغوت) کا انکار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ‘وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔'”
﴿اصول الكافى:84/1﴾
ان روایات سے کم از کم اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ خود شیعہ مصادر میں انبیاء علیہم السلام کے درہم و دینار بطور وراثت چھوڑنے کی نفی موجود ہے۔ اسی طرح وراثت کے مسائل کے متعلق بھی مستقل ابواب موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کا باب ایک باقاعدہ فقہی اور شرعی مسئلہ تھا۔
شیعہ مذہب کہ مطابق قرآن کی آیت میں تضاد (نعوذ باللہ)
علی بن محمد بن عبداللہ سے، انہوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں سے (میرا خیال ہے کہ وہ سیاری تھے)، انہوں نے علی بن اسباط سے روایت کی، انہوں نے کہا: ‘جب ابو الحسن موسیٰ (رحمہ اللہ) [عباسی خلیفہ] المہدی کے پاس آئے، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کے غصب شدہ حقوق اور مظالم کی تلافی کر رہا ہے (یعنی لوگوں کے حقوق واپس کر رہا ہے)، تو انہوں نے فرمایا:”اے امیر المومنین! ہمارا مظلمہ (غصب شدہ حق) کیوں واپس نہیں کیا جا رہا؟’ المہدی نے پوچھا: ‘اے ابو الحسن، وہ کیا ہے؟’ انہوں نے فرمایا: ‘بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنے نبی (ﷺ) کے لیے فدک اور اس کے آس پاس کے علاقے فتح کیے، تو اس پر نہ گھوڑے دوڑائے گئے اور نہ اونٹ”
﴿الکافی: 543/1﴾ (تراث الانبیاء)
لیکن یہاں ایک بنیادی اشکال پیدا ہوتا ہے۔ اگر فدک واقعی رسول اللہ ﷺ کی ذاتی ملکیت تھی جسے آپ ﷺ نے بطور ہبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے حوالے کر دیا تھا، تو پھر قرآن مجید میں مالِ فئے کے بارے میں جو حکم بیان ہوا ہے اس کی کیا توجیہ ہوگی؟
اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے بستیوں والوں کا جو ( مال ) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو ، اور جس سے روکے رک جاؤ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو ، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے ۔
﴿سورۃ الحشر: 7،6﴾
قرآن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مالِ فئے ایک اجتماعی اور شرعی مصرف رکھنے والا مال تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے متعدد مصارف کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس بنا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فدک مالِ فئے تھا، جیسا کہ خود مذکورہ روایت میں بیان کیا گیا ہے، تو پھر اسے مکمل طور پر ایک شخص کی ذاتی ملکیت قرار دینا کس دلیل سے ثابت ہوگا؟
مزید یہ کہ مذکورہ روایت خود فدک کے مالِ فئے ہونے کو ثابت کر رہی ہے، جبکہ ہبہ کا دعویٰ ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے مستقل، صحیح، صریح اور قابلِ اعتماد دلیل درکار ہے۔ صرف ہبہ کا دعویٰ کر دینا کافی نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ فدک مالِ فئے کے عمومی حکم سے نکل کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مستقل ذاتی ملکیت بن گیا تھا۔
اصولِ شریعت اور اصولِ استدلال دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص کسی ثابت شدہ اصل حکم سے استثناء کا دعویٰ کرے، دلیل پیش کرنا اسی کے ذمہ ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن کے واضح حکم کے مقابلے میں دعوائے ہبہ کو ثابت کرنا ضروری ہے، نہ کہ قرآن کے حکم کو۔
یہ تو شیعہ موقف کے مطابق ظاہری تعارض پیدا ہوتا ہے۔ یاہم قرآن کی ایک آیت کو مان سکتے جس میں واضح مال فئے کا بیان ہے یا دوسری آیت کا جو ہبہ پر آپ پیش کرتے اب یہ روافض سے درخواست ہے کہ ہمیں بتائے کیا یہاں قرآن کی غلطی ہے نعوذ باللہ کی یا نبی ﷺ کی نعوذ باللہ۔
اگر فدک کو بطورِ ہبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مستقل ذاتی ملکیت قرار دیا جاتا ہے تو اس دعوے کی ایسی قطعی دلیل پیش کی جائے جو قرآن میں مذکور مالِ فئے کے عمومی حکم سے اس مخصوص صورت کو مستثنیٰ ثابت کر دے، ورنہ اصل حکم وہی رہے گا جو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے۔
لہٰذا اصل نزاع یہ نہیں کہ فدک کس کے پاس تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ فدک کی ذاتی ملکیت پر دلیل زیادہ قوی ہے یا قرآن میں مذکور مالِ فئے کا عمومی حکم؟ اور اصولاً جب تک تخصیص یا استثناء کی معتبر دلیل نہ ہو، عام قرآنی حکم ہی حجت رہتا ہے۔
اس اشکال کا واضح اور اصولی جواب پیش کیا جانا چاہیے۔
خلاصہ
اس تحقیق کا بنیادی مقصد فدک کے مسئلے میں پیش کیے جانے والے مشہور شیعہ استدلال کا علمی جائزہ لینا ہے۔ اس میں صحیح بخاری کی روایت کے مختلف طرق کا تقابلی مطالعہ کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی اور ترکِ کلام کے الفاظ تمام صحیح طرق میں موجود نہیں، بلکہ متعدد طرق ان اضافوں سے خالی ہیں، جس سے ان الفاظ کے ادراج ہونے کا قوی احتمال پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں امام بیہقی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ کے اقوال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔
مزید یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض ناراضگی تسلیم بھی کر لی جائے تو بھی وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے شرعی فیصلہ کے غلط ہونے کی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث «لا نورث، ما تركنا صدقة» کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔ اس حقیقت کو قرآن مجید میں سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون علیہما السلام کے واقعے سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ محض رنج یا ناراضگی کسی شخص کے قصوروار ہونے کی دلیل نہیں ہوتی۔
تحقیق میں شیعہ مصادر سے بھی متعدد روایات پیش کی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ بیت سے منسوب دیگر باغات وقف تھے، وہ بعد میں بھی اہلِ بیت کے تصرف میں رہے، اور خود شیعہ روایات میں انبیاء علیہم السلام کے درہم و دینار بطور وراثت نہ چھوڑنے کا ذکر موجود ہے، جس سے فدک کے متعلق شیعہ موقف مزید قابلِ تحقیق ہو جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید کی آیاتِ مالِ فَے (سورۃ الحشر: 6-7) کی روشنی میں یہ اصولی سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر فدک مالِ فَے تھا تو اسے مستقل ذاتی ملکیت یا ہبہ قرار دینے کے لیے قرآن کے عمومی حکم سے استثناء کی واضح اور قطعی دلیل درکار ہے، ورنہ اصل حکم وہی رہے گا جو قرآن نے بیان فرمایا ہے۔
حاصلِ تحقیق یہ ہے کہ فدک کے بارے میں پیش کیے جانے والے مشہور اعتراضات سند، متن، اصولِ حدیث، شیعہ مصادر اور قرآنی دلائل کی روشنی میں مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہتے، جبکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ سنتِ نبوی ﷺ اور شرعی اصولوں کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
زائر عباس
زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔
علمی تدوین و اضافہ
محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔ اس تحریر میں انہوں نے علمی نظرِ ثانی، اضافوں، حوالہ جات کی جانچ اور تحقیقی تدوین میں حصہ لیا۔