عطیہ العوفی کی روایت اور فدک کا دعویٰ
میں نے حسین بن یزید الطحان کے سامنے یہ حدیث پڑھی، تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جو آپ نے سعید بن خثیم کے سامنے پڑھی تھی، انہوں نے فضیل سے، انہوں نے عطیہ (العوفی) سے، انہوں نے ابو سعید خدری (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا:
“جب یہ آیت نازل ہوئی: {اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو} ﴿سورہ الاسراء: 26﴾، تو نبی کریم ﷺ نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو بلایا اور انہیں فدک عطا فرما دیا۔”
﴿مسند ابی یعلیٰ: 360/2﴾
شیعہ حضرات اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک بطور ہبہ عطا فرما دیا تھا۔
کسی بھی روایت کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا وہ سند کے اعتبار سے ثابت بھی ہے یا نہیں، اور کیا اس کا متن دیگر صحیح دلائل اور قرآنی نصوص کے موافق ہے یا نہیں۔ یہی وہ اصول ہے جسے محدثین نے ہمیشہ اختیار کیا ہے۔ چنانچہ اس تحریر میں ہم اس روایت کا سندی اور متنی جائزہ پیش کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا یہ روایت واقعی قابلِ احتجاج ہے یا نہیں۔
الحمد للہ! تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت متعدد علتوں کا شکار ہے۔ اس کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے، اس کے مرکزی راوی عطیہ العوفی پر محدثین نے کلام کیا ہے، اور اس کے متن کے بارے میں بھی متعدد اشکالات موجود ہیں۔ ذیل میں ان تمام امور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
علت نمبر 1: روایت کا مرسل اور منقطع ہونا
عطیہ بن سعد العوفی، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مرسل بیان کر رہا ہے، جس کا آگے بیان آئے گا کہ ابو سعید صحابی ہے یا کوئی اور، سے روایت بیان کر رہا ہے۔
اور میں نے اپنے والد (ابو حاتم) اور ابو زرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: جسے سعید بن خثیم نے، انہوں نے فضیل بن مرزوق سے، انہوں نے عطیہ سے، اور انہوں نے ابو سعید (خدری) سے روایت کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں:
“جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ﴾ (اور قرابت داروں کو ان کا حق دو)، تو نبی کریم ﷺ نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو بلایا اور ان کے لیے فدک مقرر فرما دیا۔”
تو انہوں نے (جواب میں) کہا: “یہ (روایت) دراصل عطیہ سے ہے، انہوں نے کہا: ‘جب نازل ہوئی…’ یہ مرسل ہے؛ اس میں ابو سعید (خدری) کا ذکر نہیں ہے۔”
﴿کتاب العلل ابن ابی حاتم: 583/4﴾
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت مرسل اور منقطع ہے جو حجت نہیں ہوتی۔
علت نمبر 2: عطیہ العوفی کا ضعف، تدلیس اور تشیع
امام ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
عطیہ بن سعد بن جنادہ: (جُنَادہ میں) جیم پر پیش ہے اور اس کے بعد نون ہلکا (بغیر تشدید کے) ہے، العوفی الجَدَلی، (جَدَلی میں) جیم اور دال دونوں پر زبر ہے، کوفی ہیں، ان کی کنیت ابو الحسن ہے۔ وہ سچے (صدوق) ہیں لیکن بہت غلطیاں کرتے تھے، اور وہ شیعہ رجحان رکھتے تھے اور تدلیس کرنے والے (مدلس) تھے۔ ان کا تعلق (راویوں کے) تیسرے طبقے سے ہے۔ ان کا انتقال 111 ہجری میں ہوا۔
﴿تقریب التھذیب: 4616﴾
عطیہ العوفی ضعیف الحفظ اور کثیر الخطا راوی ہے اور گزری روایت میں آیا ہے کہ عطیہ ابو سعید سے ‘عنعنہ’ روایت بیان کر رہا ہے اور مدلس کی سمع کی صراحت کا شیعہ سے مطالبہ کرتے ہیں۔
عطیہ العوفی الکوفی تابعی معروف ضعیف الحفظ مشہور بہ التدلیس۔
﴿تعریف اہل التقدیس: 122﴾
علت نمبر 3: محدثین کی جرح اور عطیہ العوفی کی تضعیف
اس وجہ سے ہم اس کی تعریف کریں گے کہ امام مسلم نے مشہور بہ التدلیس کی روایت پر سمع کی تصریح کا مطالبہ کیا۔
عطیہ بن سعد بن جنادہ، جیم پر پیش اور اس کے بعد ہلکی (بغیر تشدید کے) نون کے ساتھ (جُنَادَة)، العوفی الجدلی، جیم اور بغیر نقطے والی دال کے زبر کے ساتھ (الجَدَلِي)، کوفی، ابو الحسن: صدوق (سچے) ہیں لیکن کثرت سے غلطی کر جاتے تھے، اور وہ شیعہ مدلس تھے۔ تیسرے طبقے سے ہیں، سن 111 ہجری میں وفات پائی۔ (بخ، د، ت، ق)
بلکہ: وہ ضعیف (کمزور) ہیں۔ انہیں ہشیم، یحییٰ بن سعید القطان، احمد بن حنبل، سفیان ثوری، ابو زرعہ رازی، اور ابن معین نے کئی روایات میں ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن معین نے ایک اور روایت میں کہا: “ان میں کوئی حرج نہیں (یعنی ٹھیک ہیں)”۔ اور انہیں ابو حاتم، نسائی، جوزجانی، ابن عدی، ابو داؤد، ابن حبان، دارقطنی، اور ساجی نے بھی ضعیف کہا ہے۔ پس ان کی تضعیف (ضعیف ہونے) پر اجماع ہے، ابن سعد کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق (مستند ہونے کی تصدیق) نہیں کی! لہذا ہم نہیں جانتے کہ مصنف (ابن حجر) اپنے اس جملے: “صدوق یخطئ کثیراً” (سچے ہیں لیکن کثرت سے غلطی کرتے تھے)… الخ، کو کہاں سے لائے ہیں۔
﴿تحریر تقریب التہذیب: 20/3﴾
اور اسی طرح اسے ابراہیم بن مہاجر نے عطیہ سے، انہوں نے ابو سعید (خدری) سے موقوفاً (صحابہ کا قول) روایت کیا ہے، اور عطیہ مضطرب الحدیث ہیں۔
اور ابو الربیع الزہرانی وغیرہ نے ان (خلف بن ہشام) کی مخالفت کی ہے۔ پس انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کرتے ہوئے کہا: “ہم سے ہمارے ساتھی نے بیان کیا” اور انہوں نے ان کا نام نہیں لیا—یعنی عطیہ سے۔ اور حماد بن زید کی روایت میں یہی بات زیادہ صحیح ہے۔
رہا عاصم کا عطیہ سے حدیث بیان کرنا، تو اسے عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ نے روایت کیا ہے اور وہ متروک الحدیث (جن کی حدیث چھوڑ دی جائے) ہے۔ اور ابو عوانہ کی عاصم سے، انہوں نے عطیہ سے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے، اور عاصم کی عطیہ سے روایت کردہ کسی بھی چیز کی صحت ثابت نہیں ہے۔
﴿علل الدرقطنی: 293،291/11﴾
٥٦٦٧ – عطیہ بن سعد [د، ت، ق] العوفی [الکوفی]، تابعی مشہور، ضعیف۔ انہوں نے ابن عباس، اور ابو سعید، اور ابن عمر سے روایت کیا۔ اور ان سے (روایت کرنے والوں میں) مسعر، اور حجاج بن ارطاة، اور ایک جماعت، اور ان کے بیٹے الحسن شامل ہیں۔
قال ابو حاتم: يكتب حديثه، ضعيف۔ وقال سالم المرادى: كان عطية يتشيع۔
اور ابن معین نے کہا: (وہ) صالح ہیں۔ اور (امام) احمد نے فرمایا: وہ ضعیف الحدیث ہیں۔ اور ہشیم، عطیہ کے بارے میں کلام (جرح) کرتے تھے۔
اور ابن المدینی نے یحییٰ (بن سعید القطان) سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: عطیہ، ابو ہارون، اور بشر بن حرب میرے نزدیک (ضعف میں) برابر ہیں۔
اور (امام) احمد نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عطیہ (محمد بن السائب) کلبی کے پاس آتے تھے اور ان سے تفسیر کا علم لیتے تھے؛ اور انہوں نے اس کی کنیت “ابو سعید” رکھ دی تھی، پھر وہ (روایت کرتے ہوئے) کہتے تھے: “ابو سعید نے کہا” (تاکہ لوگ اسے صحابی ابو سعید خدری سمجھیں)۔
میں (امام ذہبی) کہتا ہوں: یعنی وہ (لوگوں کو) اس وہم میں ڈالتے تھے کہ وہ (ابو سعید) الخدری ہیں۔ اور امام نسائی اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ: (وہ) ضعیف ہیں۔
﴿ميزان الاعتدال:80،79/3﴾
ابو حاتم نے کہا: ان کی حدیث لکھی جائے گی، (لیکن وہ) ضعیف ہیں۔ اور سالم المرادی نے کہا: عطیہ شیعہ رجحان رکھتے تھے۔
اس عبارت جو امام ابن حجر نے اسبابِ جرح میں بیان کیا کہ جو راوی سوء الحفظ یا لین الحفظ ہو تو یہ اس کے ضعف پر دلالت کرتا ہے۔ اس طرح انہوں نے اوسط میں منکر الحدیث اور مضطرب الحدیث بھی ضعف پر دلالت کرتے۔
﴿شرح نخبۃ الفکر: 176﴾
اس وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
علت نمبر 4: ابو سعید کے نام سے تدلیس کا اشکال
جس ابو سعید سے عطیہ روایت کرتا وہ صحابی نہیں بلکہ محمد بن السائب کلبی کذاب ہے۔
الامام ابن حبان نے کہا: عطیہ نے اس کی کنیت ابو سعید رکھی۔ (کلبی)
﴿المجروحین: 262/2﴾
الامام السمعانی نے کہا: عطیہ نے اس کی کنیت ابو سعید رکھی۔ (کلبی)
﴿کتاب الانساب: 134/11﴾
ابن صلاح نے کہا: عطیہ اس ابو سعید سے تفسیر بیان کرتا تھا۔
﴿اختصار علوم الحدیث: 143﴾
علت نمبر 5: شیعہ رجالی مصادر کی روشنی میں سند کا جائزہ
اس روایت کی سند میں فضیل بن مرزوق اور عطیہ العوفی موجود ہیں۔ بعض شیعہ رجالی مصادر میں ان راویوں کے بارے میں ایسی معلومات ملتی ہیں جو ان کی حیثیت کے تعین میں مزید تحقیق کا تقاضا کرتی ہیں۔ لہٰذا مخالفین پر لازم ہے کہ وہ اپنی رجالی کتب کی روشنی میں بھی اس سند کی صحت کو ثابت کریں۔
عمر بن احمد بن عثمان نے بغداد میں زبانی حدیث بیان کی۔انہوں نے کہا: ہمیں جعفر بن محمد الاحمسی نے حدیث بیان کی۔انہوں نے کہا: ہمیں ابو معمر سعید بن خثیم، علی بن القاسم الکندی، یحییٰ بن یعلیٰ اور علی بن مسهر نے فضیل بن مرزوق سے، انہوں نے عطیہ العوفی سے، انہوں نے ابو سعید الخدری سے حدیث بیان کی۔
انہوں نے کہا: جب اللہ کا یہ فرمان نازل ہوا: «اور رشتہ دار کو اس کا حق دو» تو رسول اللہ (ص) نے فاطمہ کو فدک عطا کر دیا۔
﴿مجمع البيان فى تفسير القران:635/6﴾
فضل بن مرزوق:
مجهول {اصحاب الصادق رحمه الله}
﴿المفيد فى معجم الرجال:459﴾
عطية العوفى:
اصحاب على رضى الله عنه مجهول
﴿المفيد فى معجم الرجال:375﴾
سندی تحقیق کے بعد متنی و استدلالی دلائل
الحمد للہ! اب تک ہم نے اس روایت کی سند کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہ روایت ارسال، انقطاع، ضعفِ راوی، تدلیس اور دیگر متعدد علتوں کا شکار ہے۔ تاہم بحث کو مزید مکمل کرنے کے لیے صرف سندی کمزوریوں پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ اب ہم بعض ایسے دلائل بھی پیش کریں گے جو خود شیعہ مصادر اور دیگر نصوص کی روشنی میں اس دعوے کا جائزہ لینے میں مدد دیتے ہیں۔ ان دلائل سے واضح ہوگا کہ فدک کے بارے میں پیش کیا جانے والا یہ استدلال کئی علمی اشکالات کا حامل ہے اور اسے بلا تحقیق قبول کرنا درست نہیں۔
دلیل نمبر 1: فدک کے بارے میں خود شیعہ روایات کا بیان
علی بن محمد بن عبداللہ سے، انہوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں سے (میرا خیال ہے کہ وہ سیاری تھے)، انہوں نے علی بن اسباط سے روایت کی، انہوں نے کہا: “جب ابو الحسن موسیٰ [عباسی خلیفہ] المہدی کے پاس آئے، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کے غصب شدہ حقوق اور مظالم کی تلافی کر رہا ہے (یعنی لوگوں کے حقوق واپس کر رہا ہے)، تو انہوں نے فرمایا:”اے امیر المومنین! ہمارا مظلمہ (غصب شدہ حق) کیوں واپس نہیں کیا جا رہا؟” المہدی نے پوچھا: “اے ابو الحسن، وہ کیا ہے؟” انہوں نے فرمایا:”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنے نبی (ﷺ) کے لیے فدک اور اس کے آس پاس کے علاقے فتح کیے، تو اس پر نہ گھوڑے دوڑائے گئے اور نہ اونٹ۔”
﴿الکافی: 543/1﴾ (تراث الانبیاء)
دلیل نمبر 2: قرآن مجید کی روشنی میں فدک کی حقیقت
اب یہاں نبی ﷺ پر جو آیت نازل ہوئی کہ قربت دار کو حق دو، یہ تو قرآن کے مخالف ہے کیونکہ قرآن میں کچھ اور موجود ہے:
“اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔”
﴿سورۃ الحشر: 7،6﴾
یہ تو شیعہ مذہب کے مطابق قرآن کی آیت میں تضاد آ گیا۔ یہ ہم قرآن کی ایک آیت کو مان سکتے ہیں جس میں واضح مالِ فاء کا بیان ہے، یا دوسری آیت کا جو ہبہ پر آپ پیش کرتے ہیں۔ اب یہ شیعہ سے درخواست ہے کہ ہمیں بتائے کیا یہاں قرآن کی غلطی ہے، نعوذ باللہ کی، یا نبی ﷺ کی، نعوذ باللہ۔
اس روایت کے متنی اشکالات میں سے ایک اہم اشکال یہ بھی ہے کہ خود شیعہ کی معتبر کتاب اصول الکافی میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ سورۂ بنی اسرائیل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ چنانچہ روایت ملاحظہ ہو:
: امام ابو جعفر سے روایت ہے……….
مکہ میں سورت بنی اسرائیل میں ان پر نازل فرمایا۔”اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو…” اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک کہ “بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر (اور انہیں) دیکھنے والا ہے۔”
﴿اصول الكافى:31،28/2﴾
اسی پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے نہ صرف اس روایت کی سند کی انفرادیت کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس کے متن میں موجود زمانی اشکال (Chronological Problem) کو بھی واضح کیا۔ ان کے مطابق اگر آیت مکی ہے اور فدک مدنی دور میں، فتحِ خیبر (7 ہجری) کے بعد حاصل ہوا، تو دونوں کو ایک ہی واقعہ سے جوڑنا محلِ نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس روایت کو منکر قرار دیا۔
“اور حافظ ابو بکر البزار نے کہا: ہم سے عباد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضیل بن مرزوق نے عطیہ سے اور انہوں نے ابو سعید (خدری) سے روایت کیا، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ} (اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو)، تو رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو بلایا اور انہیں ‘فدک’ عطا فرما دیا۔
ہم فضیل بن مرزوق کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے روایت کیا ہو سوائے ابو یحییٰ التمیمی اور حمید بن حماد بن ابی الخوار کے۔ اور یہ حدیث، اگر اس کی سند صحیح بھی مان لی جائے، تب بھی اس میں ایک الجھن (اشکال) ہے؛ کیونکہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی (مکی ہے)، جبکہ ‘فدک’ ہجرت کے ساتویں سال خیبر کے ساتھ فتح ہوا تھا، تو یہ بات اس کے ساتھ کیسے مطابقت رکھ سکتی ہے؟ پس یہ ایک منکر (ناقابلِ قبول) حدیث ہے، اور زیادہ مشابہت اس بات سے ہے کہ یہ رافضہ (شیعہ) کی وضع کردہ (من گھڑت) ہے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔”
﴿تفسير ابن كثير:63/5﴾
اگر خود شیعہ روایت کے مطابق سورۂ بنی اسرائیل مکی ہے، جبکہ فدک ہجرت کے بعد سات ہجری میں حاصل ہوا، تو پھر یہ دعویٰ کہ آیت ﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ﴾ کے نزول کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک عطا فرمایا، مزید علمی تحقیق اور تطبیق کا محتاج ہو جاتا ہے۔
دلیل نمبر 3: اہل بیت رضی اللہ عنہم کی معاشی حالت
فرار (میدانِ جنگ سے بھاگنا)، شکم سیری (پیٹ بھر کر کھانا)، سیرابی، (عمدہ) لباس، بچھونا اور اوڑھنا؛ حالانکہ ہم محمد ﷺ کے اہل بیت ہیں، نہ تو ہمارے گھروں کی (پکی) چھتیں ہیں، نہ کواڑ (دروازے) اور نہ ہی پردے ہیں سوائے کھجور کی شاخوں اور اس جیسی چیزوں کے۔ اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی بچھونا ہے اور نہ ہی ہمارے اوپر اوڑھنے کے لیے کوئی کپڑا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ نماز کے لیے ایک ہی لباس کو باری باری استعمال کرتے ہیں، اور ہمارے عام افراد کے دن اور راتیں بھوک کی حالت میں (فوقہ کھینچتے ہوئے) گزرتے ہیں، اور بسا اوقات ہمارے پاس کوئی چیز آتی ہے۔
﴿بحار الانوار:175/38﴾
دلیل نمبر 4: انبیاء کی وراثت کے متعلق شیعہ روایات
اگر شیعہ مصادر کے مطابق انبیاء درہم و دینار بطور وراثت نہیں چھوڑتے اور رسول اللہ ﷺ کی موروثی اشیاء سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتقل ہوئیں، تو فدک کے مسئلے میں پیش کیے جانے والے بعض دعوے مزید وضاحت اور تطبیق کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے محمد بن خالد سے، انہوں نے ابو البختری سے، انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
“بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ انبیاء نے (وراثت میں) کوئی درہم یا دینار نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے اپنی احادیث (اپنے علوم و تعلیمات) کی وراثت چھوڑی ہے۔ پس جس نے ان (تعلیمات) میں سے کچھ بھی حاصل کر لیا، اس نے (خیر و برکت کا) ایک بڑا حصہ پا لیا۔
پس تم دیکھو کہ یہ اپنا علم کس سے حاصل کر رہے ہو؟ کیونکہ ہم اہل بیت میں ہر نسل (اور دور) میں ایسے عادل و منصف لوگ موجود ہوتے ہیں جو اس (دین) سے غلو کرنے والوں کی تحریف (تبدیلیوں)، باطل پرستوں کے جھوٹے دعووں اور جاہلوں کی غلط تاویلات (غلط تشریحات) کو دور کرتے ہیں۔”
﴿اصول كافى:32/1﴾
وراثت علی رضی اللہ عنہ:
“محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے نضر بن سوید سے، انہوں نے یحییٰ حلبی سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے، انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت کی، آپ نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ترکے (سامان) میں ایک تلوار، ایک زرہ، ایک نیزہ (یا چھوٹا بھالا)، ایک کجاوہ (زین) اور اپنا سفید و سیاہ مائل (خاکستری) خچر چھوڑا، پس یہ سب کچھ علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کو وراثت میں ملا۔”
﴿اصول كافى:234/1﴾
ہمارے اصحاب (ساتھیوں) میں سے دو شخصیات کے بارے میں جن کے درمیان قرض یا وراثت کا کوئی جھگڑا ہو، اور وہ (اپنا فیصلہ کروانے کے لیے) کسی بادشاہ (حکمران) یا قاضیوں (عدالتوں) کے پاس جائیں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
انہوں نے (امام نے) فرمایا: جو شخص بھی حق یا باطل کے فیصلے کے لیے ان کے پاس جائے گا، اس نے گویا طاغوت (باطل قوت/ناجائز حکمران) سے فیصلہ کروایا۔ اور وہ جو کچھ بھی اس کے حق میں فیصلہ کریں گے، وہ اسے حرام (مال) کی صورت میں حاصل کرے گا، چاہے وہ اس کا ثابت شدہ حق ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس نے اسے طاغوت کے فیصلے کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس (طاغوت) کا انکار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ‘وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔'”
﴿اصول الكافى:84/1﴾
ان روایات سے کم از کم اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ خود شیعہ مصادر میں انبیاء علیہم السلام کے درہم و دینار بطور وراثت چھوڑنے کی نفی موجود ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے ترکے کے طور پر بعض مخصوص اشیاء کا ذکر بھی ملتا ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتقل ہوئیں۔ اسی طرح وراثت کے مسائل کے متعلق بھی مستقل ابواب موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کا باب ایک باقاعدہ فقہی اور شرعی مسئلہ تھا۔
لہٰذا فدک کے بارے میں پیش کیے جانے والے دعوے کو محض ایک منفرد اور ضعیف روایت کی بنیاد پر قطعی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ جب ایک طرف خود شیعہ مصادر میں انبیاء کی مالی وراثت کے بارے میں یہ نصوص موجود ہوں، تو فدک کے مسئلے میں پیش کردہ استدلال مزید تحقیق، تطبیق اور علمی وضاحت کا محتاج ہو جاتا ہے۔
الحاصل یہ کہ فدک کے ہبہ پر پیش کی جانے والی روایت نہ سند کے اعتبار سے مضبوط ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی دیگر نصوص کے ساتھ اس کی تطبیق آسان ہے۔ اس لیے ایک منصف محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام دلائل کو جمع کرکے فیصلہ کرے، نہ کہ صرف ایک کمزور روایت کی بنیاد پر تاریخی اور اعتقادی نتائج اخذ کرے۔
خلاصہ
اس پوری تحقیق میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیت کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ کی جانب سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک عطا کرنے والی روایت علمی اعتبار سے مضبوط نہیں۔ اس روایت کی سند متعدد علتوں کا شکار ہے۔ سب سے پہلے امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ نے اسے مرسل قرار دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت اپنی اصل سند ہی میں انقطاع کا شکار ہے۔ مزید برآں اس روایت کا مرکزی راوی عطیہ العوفی ہے جس پر محدثین نے سوء حفظ، کثرتِ خطا، تشیع اور تدلیس کی وجہ سے جرح کی ہے، بلکہ جمہور ائمہ حدیث نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید تحقیق سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ عطیہ العوفی کی روایات میں “ابو سعید” کے نام سے تدلیس کا اشکال موجود ہے۔ متعدد ائمہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ محمد بن السائب الکلبی سے روایت کرتے تھے اور اسے “ابو سعید” کہہ کر بیان کرتے تھے، جس سے سننے والے کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا گمان ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ خود اس روایت کی سند میں موجود بعض رواۃ کے بارے میں شیعہ رجالی کتب میں بھی ایسے مباحث پائے جاتے ہیں جو اس روایت کی صحت پر مزید سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ان تمام علتوں کو جمع کیا جائے تو روایت کا ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہونا مزید واضح ہو جاتا ہے۔
سندی بحث کے بعد متنی اور استدلالی دلائل کا جائزہ لینے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فدک کے مسئلے میں پیش کیا جانے والا موقف متعدد اشکالات کا حامل ہے۔ قرآن مجید میں مالِ فَے کے متعلق وارد آیات ایک مستقل شرعی نظام بیان کرتی ہیں، جبکہ بعض شیعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام درہم و دینار بطور وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ علم اور دینی میراث چھوڑتے ہیں۔ اسی طرح شیعہ مصادر میں رسول اللہ ﷺ کے بعض ترکہ جات کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منتقل ہونا بھی مذکور ہے۔ مزید برآں اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی معاشی حالت سے متعلق بعض روایات بھی اس مسئلے میں غور و فکر کا تقاضا کرتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
زائر عباس
زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔