بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کثرت سوال سے پرہیز

متفرق ابواب
باب: کثرت سوال سے پرہیز
احادیث:1

حدیث نمبر: 32

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ذروني ما تركتكم، فإنما هلك الذين من قبلكم بسؤالهم واختلافهم على انبيائهم، فإذا نهيتكم عن شيء فاجتنبوه، وإذا امرتكم بامر فاتوا منه ما استطعتم"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جن مسائل سے بھی میں بےاعتنائی برتوں تو تم ان میں بےجا مداخلت نہ کرو)۔ بلاشبہ تم میں سے گزشتہ امتیں اپنے (بےجا) سوال کرنے اور انبیاء کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔ چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو تم اس سے اجتناب کرو، اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو تم حتیٰ المقدور اس کی تعمیل کرو۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم