بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالرحمن بن عوف) عبدالله بن ربيعہ رضی اللہ عنہ کی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے حدیث

متفرق ابواب
باب: عبدالله بن ربيعہ رضی اللہ عنہ کی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے حدیث
احادیث:1

حدیث نمبر: 13

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ بِطَرِيقِ الشَّامِ يَسِيرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوْ هَذَا السَّقَمَ عُذِّبَ بِهِ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» ، قَالَ: فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا عاصم، قال: اخبرنا ابن ابي ذئب، عن الزهري، عن سالم، عن عبد الله بن ربيعة، ان عبد الرحمن بن عوف اخبر عمر بن الخطاب، وهو بطريق الشام يسير ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن هذا الوجع او هذا السقم عذب به الامم قبلكم، فإذا سمعتم به بارض فلا تدخلوا عليه، وإذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه» ، قال: فرجع عمر بن الخطاب.
عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تب بتایا جب وہ شام جا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس تکلیف یا بیماری کے ساتھ تم سے پہلے امتوں کو عذاب دیا گیا، جب تم کسی زمین میں اس وبا کے پھیل جانے کا سن لو تو اس میں داخل نہ ہو، اور جب تم کسی جگہ پر ہو اور یہ بیماری وہاں پھیل جائے تو اس سے نہ بھاگو۔“ انہوں نے کہا: کہ یہ حدیث سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ واپس لوٹ آئے۔
ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم