بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

حدیث نمبر:2 (مسند عبدالله بن عمر)

متفرق ابواب
حدیث نمبر:2

حدیث نمبر:2

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ، قَالَ:" يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَطْعَمَ يَتَوَضَّأُ.
حدثنا عبيد الله بن موسى، قال: حدثنا ابن ابي ليلى، عن عطية، عن ابن عمر، قال: سال عمر النبي صلى الله عليه وسلم عن الجنب يريد ان ينام، قال:" يتوضا وضوءه للصلاة". وكان ابن عمر إذا اراد ان يطعم يتوضا.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی سے متعلق دریافت کیا جو سونا چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے (اور سو جائے)۔“ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب (حالت جنابت میں) کھانا تناول کرنا چاہتے تو وضو کر لیتے تھے۔

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم