بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:7

متفرق ابواب
حدیث نمبر:7

حدیث نمبر:7

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا".
حدثنا عبيد الله، قال: انبانا حنظلة، عن طاوس، عن ابن عمر، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تبيعوا الثمرة حتى يبدو صلاحها".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”پھل کو نہ بیچو حتی کہ اس کی صلاحیت (پختگی) ظاہر ہو جائے۔“

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم