اللہ نے آدم کو سب نام سکھائے، فرشتوں کو نہیں سکھائے۔ تو آدم کا فرشتوں سے مقابلہ کیسے بنا؟
ملحدین کی جانب سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ:
الله غلطی پر هے یا دھیان نہیں رہا یا حافظہ خراب ھے یا دوست اپنے ھیں بھائی بھلکڑ یہاں معاملہ صاف ھے۔ 02 سورۃ البقرہ 31 فقرہ ! اور اس نے آدم کو سب چیزوں کہ نام سکھائے اور پھر انکو فرشتوں کہ سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر سچے ھوتو مجھے انکے نام بتاؤ ؟ غور کرکے تحمل کو خاطر میں رکھ کر بتانا سنجیدگی برقرار رکھنا۔
اللہ نے آدم کو سب نام سیکھائے ؟ ھیں نا ؟ مگر فرشتوں کو نام نہیں سیکھائے ؟ ہیں نا ؟ اب مجھے بتائیں کیا آدم کا فرشتوں سے مقابلہ بنتا ہے ؟
اکثر کوئ نقل کرتا ہے تو لکھتا جاتا ہے یا ذھنی کمزور ھوتا ہے تب بھی لکھتا جاتا ھے یا ترمخان ہوتاہے بنا سوچے سمجھے لکھواتا جاتا ہے ؟ مرشد، میرے مطابق اور عقلی اور منطقی لحاظ سے یہاں غلطی ہے مگر یہاں تسلیم کون کریگا ؟
کیا یہ علمی تنقید ہے؟
اعتراض کرنے کا ہر شخص کو حق حاصل ہے، لیکن علمی دنیا میں اعتراض دلیل، تحقیق اور مہذب انداز میں کیا جاتا ہے، نہ کہ تمسخر، طعن و تشنیع یا غیر مناسب الفاظ کے ذریعے۔ کسی مذہب، مقدس ہستی یا عقیدے پر گفتگو کرتے وقت سنجیدگی اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض ناقدین دلیل دینے کے بجائے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو نہ علمی گفتگو کا حصہ ہیں اور نہ ہی شائستگی کے تقاضوں کے مطابق ہیں، جیسے یہ کہنا کہ “اللہ غلطی پر ہے“، “دھیان نہیں رہا“، “حافظہ خراب ہے” یا “بھلکڑ ہے“۔ اس قسم کی زبان کسی مضبوط دلیل کی علامت نہیں بلکہ علمی کمزوری اور غیر سنجیدہ طرزِ بحث کی نشانی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس واقعی کوئی علمی اشکال ہو تو اسے دلائل کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، کیونکہ حق کی تلاش ہمیشہ احترام، انصاف اور دلیل کے ساتھ ہوتی ہے، نہ کہ توہین اور تمسخر کے ذریعے۔
زیرِ بحث اعتراض بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے، جس میں قرآن مجید کے ایک واقعے کو مکمل سیاق و سباق سے الگ کرکے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام اسماء سکھا دیے، جبکہ فرشتوں کو وہ علم نہیں دیا، پھر آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے درمیان سوال و جواب کیسے منصفانہ تھا؟ بعض لوگ اسی بنیاد پر قرآن کے اس واقعے کو غیر منصفانہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب اس واقعے کو قرآن مجید کی تمام متعلقہ آیات اور ان کے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ نہ کوئی برابری کا مقابلہ تھا اور نہ ہی فرشتوں کو نیچا دکھانا مقصود تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے آدم علیہ السلام کی خلافت کے استحقاق اور اپنی کامل حکمت کو ظاہر فرمایا۔
پس منظر
اعتراض کا پس منظر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے قرآن مجید میں بیان کردہ پورا واقعہ اس کی اصل ترتیب کے ساتھ دیکھا جائے، کیونکہ جب واقعہ مکمل طور پر سامنے آتا ہے تو یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿﴾ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـٴُـوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿﴾ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿﴾ قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ﴿﴾ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿﴾
اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: “میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” انہوں نے عرض کیا: “کیا تو اس میں ایسے کو مقرر کرے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں؟” اللہ نے فرمایا: “بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”اور اللہ نے آدم کو تمام اسماء سکھا دیے، پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: “اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔”انہوں نے عرض کیا: “تو پاک ہے! ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہی جو تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ بے شک تو ہی خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔”اللہ نے فرمایا: “اے آدم! انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔” پھر جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا: “کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے بھی جانتا ہوں؟”اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: “آدم کو سجدہ کرو۔” تو سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا، تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔
﴿سورۃ البقرۃ:34،33،32،31،30﴾
اس ترتیب سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرشتوں کو فرما دیا تھا: “میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔” پھر آدم علیہ السلام کو اسماء کا علم عطا کرکے اپنی اسی حکمت کو عملاً ظاہر فرمایا۔ لہٰذا یہ واقعہ فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے درمیان برابری کا مقابلہ نہیں تھا، بلکہ آدم علیہ السلام کی خلافت کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کو واضح کرنے کے لیے تھا۔
آیت کا صحیح مفہوم
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَاۤ
“اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے”﴿سورۃ البقرۃ:31﴾
مفسرین نے ‘الاسماء’ کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔ بہتر قول یہ ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اشیاء کے نام اور ان سے متعلق ایسا علم عطا فرمایا جو خلافتِ ارض کے لیے ضروری تھا۔
سوال یہ ہے کہ
فرشتوں کو کیوں نہیں سکھائے؟
فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف ذمہ داریاں سونپی ہیں اور انہیں انہی ذمہ داریوں کے مطابق علم عطا فرمایا۔ انہیں زمین کی خلافت نہیں سونپی گئی، اس لیے خلافت کے لیے درکار علم بھی نہیں دیا گیا۔
کسی ورکشاپ کی ذمہ داری سپرد کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے اوزاروں کا علم کون رکھتا ہے، ظاہر ہے کہ انھیں وہی استعمال کر سکتا ہے جو کم از کم ان کا نام جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی اشیاء کے نام آدم علیہ السلام کو سکھائے اور فرشتوں پر واضح کیا کہ زمین کی خلافت کے لیے صرف تسبیح و تقدیس کافی نہیں بلکہ علم اسماء بھی ضروری ہے جو آدم کو عطا کیا گیا ہے، فرشتوں کو نہیں ۔ رہی یہ بات کہ فرشتوں کو یہ علم کیوں نہیں دیا گیا اور انھیں زمین کی خلافت کیوں نہیں سونپی گئی تو اس کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، فرمایا : اِنِّيْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ “بے شک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”﴿تفسیر القرآن الکریم ازعبد السلام بن محمد:سورۃ البقرۃ:31﴾
اس لیے اللہ نے وہ علم آدم کو دیا جو “زمین کے خلیفہ” کے لیے ضروری تھا۔
جیسے ایک انجینئر کو سب مشینوں کا علم دیا جاتا ہے، ڈاکٹر کو نہیں۔ اس کا مطلب ڈاکٹر کم تر نہیں، بس کام الگ ہے۔
آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے درمیان برابری کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم علیہ السلام کی خلافت کے استحقاق کو ظاہر کرنے کے لیے ایک امتحان تھا، جس میں علم کو ظاہر کیا گیا۔
اللہ نے فرشتوں سے پوچھا: “اگر سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ”۔ فرشتوں نے کہا:
سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا
“اے اللہ ہم نہیں جانتے”۔﴿سورۃ البقرۃ:32﴾
پھر آدم نے سب بتا دیے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آدم کو وہ علم دیا گیا جو فرشتوں کو نہیں دیا گیا تھا۔ اس علم کے ظاہر ہونے کے بعد اللہ نے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو نمایاں فرمایا اور فرشتوں کو ان کے سامنے سجدۂ تعظیمی کا حکم دیا۔
قرآن میں کوئی غلطی نہیں۔ غلطی سمجھنے والے کی ہو سکتی ہے۔
اللہ نے فرمایا:
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠
“کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔”﴿سورۃ الملک:14﴾
اللہ نے آدم کو “اسماء” سکھائے تاکہ وہ زمین پر خلیفہ بن کر زندگی گزار سکے۔ فرشتوں کو وہ علم نہیں دیا کیونکہ ان کی ڈیوٹی الگ ہے۔
آدم کو خلافت والا علم، فرشتوں کو وہ علم دیا گیا جس کی انہیں اپنی ذمہ داریوں کے لیے ضرورت تھی، جبکہ آدم علیہ السلام کو اس کے علاوہ خلافتِ ارض کے لیے مخصوص علم بھی عطا کیا گیا۔تاکہ فرشتوں پر واضح ہو جائے کہ آدم اس منصب کے اہل ہیں۔
نکتہ 1: مقابلہ کیوں؟
مقابلہ برابری کا نہیں تھا۔ یہ امتحان تھا تاکہ فرشتوں کو اور ابلیس کو پتہ چل جائے کہ خلیفہ کا منصب کس کے لائق ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اسماء سکھانے سے پہلے ہی فرشتوں سے فرمایا تھا:
اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
“بے شک میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”﴿سورۃ البقرۃ:30﴾
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسماء سکھانے کا واقعہ فرشتوں کو ہرانا مقصود نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ اعلان کر چکا تھا کہ آدم علیہ السلام کے انتخاب میں ایسی حکمت موجود ہے جسے فرشتے نہیں جانتے۔ پھر جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو اسماء کا علم عطا کیا اور فرشتوں سے ان کے نام پوچھے تو اس حکمت کا عملی اظہار ہو گیا۔ چنانچہ فرشتوں نے خود اعتراف کیا:
سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا
“تو پاک ہے، ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہی جو تو نے ہمیں سکھایا ہے۔”﴿سورۃ البقرۃ:32﴾
نکتہ 2: فرشتوں کو کیوں نہیں سکھایا؟
اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کو اس کی ذمہ داری اور منصب کے مطابق صلاحیتیں اور علم عطا فرماتا ہے۔ چونکہ فرشتوں کو زمین کی خلافت نہیں سونپی گئی تھی، اس لیے انہیں وہ علم عطا نہیں کیا گیا جو اس منصب کے لیے درکار تھا۔ انسان کو زمین میں آبادکاری، تدبیرِ امور، نسل کی بقا اور مختلف معاملات انجام دینے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا جامع علم عطا فرمایا جو خلافتِ ارض کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں کو زمین کی تدبیر، کھیتی باڑی، صنعت و حرفت اور اولاد کی تربیت جیسے امور کا علم نہیں دیا گیا، کیونکہ ان کی ذمہ داری یہ کام انجام دینا نہیں تھی۔ اس کے برعکس انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا گیا، اس لیے اسے وہ علم عطا کیا گیا جو اس منصب کے لیے ضروری تھا۔
نکتہ 3: کیا یہ "غلطی" ہے؟
ہرگز نہیں۔ اللہ خود فرماتا ہے:
الر ۚ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
“الر(اس سے اس کی مراد اللہ ہی جانتا ہے)۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔” ﴿سورۃ ہود:14﴾
اگر کوئی تضاد لگے تو قصور ہماری سمجھ کا ہے، قرآن کا نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے درمیان برابری کا مقابلہ نہیں کروایا، بلکہ آدم علیہ السلام کو زمین کی خلافت کے لیے عطا کردہ علم کو ظاہر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا تھا:
إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿سورۃ البقرۃ:30﴾
پھر اسماء کا علم عطا کرکے اپنی اسی حکمت کو عملی طور پر واضح کر دیا۔ لہٰذا اعتراض کی بنیاد ہی درست نہیں، کیونکہ یہ مقابلہ نہیں بلکہ خلافتِ ارض کی اہلیت کا اظہار تھا۔
اس لیے اس واقعے کو صرف ایک آیت یا ایک جملے کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ پورے سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ جب تمام آیات کو ترتیب کے ساتھ پڑھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی خلافت کے لیے درکار علم عطا فرمایا اور اسی علم کے ذریعے ان کی اہلیت کو ظاہر کیا۔ فرشتوں سے سوال کرنا کسی برابری کے مقابلے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کو نمایاں کرنا تھا ۔ لہذا اس واقعے پر کیا جانے والا اعتراض قرآن کے سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے، نہ کہ قرآن میں کسی تضاد یا غلطی کا۔
خلاصہ
اس پورے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے درمیان کوئی برابری کا مقابلہ نہیں کروایا، بلکہ آدم علیہ السلام کو زمین کی خلافت کے لیے عطا کیے گئے علم کو ظاہر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا تھا:﴿ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾جس سے واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام کے انتخاب میں ایسی حکمت موجود تھی جسے فرشتے نہیں جانتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اسماء کا علم عطا کیا، فرشتوں کے سامنے اس علم کو ظاہر کیا، اور فرشتوں نے خود اعتراف کیا کہ انہیں اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ “اللہ نے آدم کو سکھایا مگر فرشتوں کو نہیں، اس لیے یہ مقابلہ غیر منصفانہ تھا” درست نہیں، کیونکہ قرآن کے مطابق یہ مقابلہ ہی نہیں تھا۔ یہ آدم علیہ السلام کی خلافت، علم کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت کو ظاہر کرنے کا ایک واقعہ تھا۔ جب اس واقعے کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ پڑھا جائے تو اعتراض کی بنیاد خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن میں نہ کوئی تضاد ہے، نہ کوئی غلطی اور نہ ہی کوئی غیر منصفانہ طرزِ عمل۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
خزینہ شہزادی
خزینہ شہزادی متبع ٹیم (Muttabi Team) کی رکن ہیں اور دعوتی و تعلیمی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ متبع ٹیم کے متعدد منصوبے ان کے مشوروں اور تعاون سے ترتیب پاتے ہیں۔ وہ واٹس ایپ چینلز اور گروپس کی نگرانی بھی کرتی ہیں، جبکہ مختلف اسلامی کورسز میں بطور مدرسہ طالبات کو قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تجوید کی تعلیم دیتی ہیں۔
علمی تدوین و اضافہ
محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔