بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

واقعۂ معراج اور سیدہ ام ہانی کے گھر نبی کریم ﷺ کے قیام کی روایت کا علمی و حدیثی جائزہ

واقعۂ معراج اور سیدہ ام ہانی کے گھر نبی کریم ﷺ کے قیام کی روایت کا علمی و حدیثی جائزہ

آنحضور کو اللہ میاں نے معراج کے لئے اسی رات کیوں بلایا جب آپ اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے چھپ کر اپنی کزن ام ہانی کے گھر ان ملنے گئے تھے؟

فہرستِ مباحث

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حال ہی میں یہ پوسٹ دیکھنے کو ملی جس میں ان صاحب نے بغیر دلیل کے خود سے ہی باتیں بنا کر نبی علیہ سلام کی پاک ذات پر اعتراض کردیا۔ اس کو جواب دینا ضروری نہیں تھا کیوں کہ ملحدین کے ساتھ ہمارا اصل اختلاف (Existence of God) پر ہے بقیہ اختلاف تو بعد میں آئیں گے۔ اس تحریر کا بھی مقصد اس کو جواب دینا نہیں کیوں کہ صرف ہوائی فائرنگ کے علاوہ تو کوئی دلیل ہے ہی نہیں بلکہ اس تحریر کا مقصد ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہے جو بیچارے ان کی ہوائی فائرنگ کی وجہ سے (Confuse) ہوجاتے ہیں اور انکے دل میں شق پیدا ہوجاتا ہے۔

پہلا اعتراض اور تاریخی حقیقت: سیدہ خدیجہؓ کا وقتِ وفات

سب سے پہلی بات یہ اعتراض شروع سے ہی باطل ہے کیوں کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تو واقعہ معراج سے ایک سال پہلے ہی وفات پا چکی تھیں۔ واقعہ معراج ہجرت کے دو سال پہلے پیش آیا اور سیدہ خدیجہ تو ہجرت کے تین سال پہلے ہی وفات پا چکی تھیں۔ اس چیز کو ایسے جانے بھی نہیں دیں گے اس پر بندہ نہ چیز نے دلائل بھی جمع کیے ہیں دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی علمی دلیل: علامہ محمد ابو زہرہ کا موقف

 “اور ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ سیرت کی کتابوں نے واقعات کو ترتیب کے ساتھ نہیں رکھا، اور انہوں نے انشقاق قمر کو اسراء و معراج کے بعد ذکر کیا ہے۔ اور ہم نے اس کو ترجیح دی ہے جیسا کہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے کہ اسراء ابو طالب اور خدیجہ کی وفات کے بعد ہوا، کیونکہ ان کی وفات اس سے پہلے ہوئی جب پانچ نمازیں فرض کی گئیں، اور نمازیں پانچ صرف معراج میں فرض کی گئی تھیں۔”

﴿خاتم النبيين – محمد أبو زهرة، 1/ 409

دوسری علمی دلیل: ڈاکٹر محمد بن مصطفیٰ الدبیسی کی تحقیق

“خدیجہ (رضی اللہ عنہا ) کی وفات نبی ﷺکی مدینہ ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی، اور یہ اسراء و معراج کے واقعے سے پہلے (ہوئی)۔ اور (ان کا گھر) اسی گھر میں (تھا)، اور رسول اللہ ﷺنے اسے (گھر کو) صرف ہجرت کے بعد (خالی) چھوڑا، جب عقیل بن ابی طالب نے اسے ان چیزوں میں سے (جو انہیں ملی تھیں) لے لیا۔”

﴿السيرة النبوية بين الآثار المروية والآيات القرآنية – محمد بن مصطفى الدبيسي، 210

دوسرا اعتراض: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنھا کے گھر قیام کی روایت کا تذکرہ

اب آجاتے ہیں دوسرے اعتراض کی جانب تو دوسرا اعتراض بھی پہلے کی طرح بلکل باطل ہے کیوں کہ نبی علیہ سلام کا سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر میں قیام کرنے والی بات بھی کسی صحیح حدیث میں نہیں آئی جتنی بھی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے ام ہانی کے گھر قیام کیا تو وہ ابن اسحاق کی وجہ سے ضعیف ہیں اور بخاری مسلم کی متفق علیہ احادیث کے بھی خلاف ہیں۔اسی روایت کے تسلسل میں ابنِ اسحاق مزید نقل کرتےہیں کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے (نبی ﷺ کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے) فرمایا:

“ام ہانی رضی اللہ عنہا سے اسراء کی روایت: محمد بن اسحاق نے کہا: اور مجھے جو کچھ ام ہانی بنت ابی طالب (رضی اللہ عنہا) سے پہنچا، اور ان کا نام ہند ہے، رسول اللہ ﷺ کے اسراء کے بارے میں، وہ کہتی تھیں: ‘رسول اللہ ﷺ کو اسراء کرایا گیا تو وہ میرے گھر میں تھے، اس رات میرے گھر میں میرے پاس سوئے ہوئے تھے۔ انہوں نے عشاء کی آخری نماز پڑھی، پھر سو گئے اور ہم بھی سو گئے۔ پھر جب صبح قریب ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جگایا۔ جب آپ نے فجر پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی،۔۔۔۔۔ جاری ہے”

﴿سیرہ ابن ہشام – ت طہ عبدالرؤف سعد – عبدالملک بن ہشام، 2/ 36﴾

ابن اسحاق پر جروحات:

 “اور مالک، ہشام بن عروہ اور اعمش نے اسے جھٹلایا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پر مختلف قسم کی بدعتوں کا الزام تھا، جن میں تشیع، قدر اور دیگر شامل ہیں۔ اور وہ غیر ثقہ راویوں سے تدلیس کرتا تھا، اور شاید اہل کتاب سے جو وہ ان سے لیتا تھا، ان سے بھی تدلیس کرتا تھا۔

 احمدبن حنبل  نے کہا: وہ بہت زیادہ تدلیس کرنے والا ہے۔

 ان سے کہا گیا: اگر وہ کہے: “حدثنا”یا”انا” تو کیا وہ ثقہ ہے؟

 انہوں نے کہا: وہ کہتا ہے “أخبرني” اور اس میں مخالفت کرتا ہے – اس سے اشارہ ہے کہ وہ تحديث اور اخبار کی تصریح کرتا ہے، اور اس کے باوجود اپنی حدیث میں دوسروں کی مخالفت کرتا ہے۔

اور جوزجانی نے کہا: وہ زہری کی حدیث کو تبدیل کر دیتا ہے، یہاں تک کہ جس کو اس علم میں مہارت ہے وہ جان لیتا ہے کہ یہ زہری کے اصحاب کی روایت کے خلاف ہے۔

  ﴿شرح علل الترمذي – ابن رجب الحنبلي، 1/ 413

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن اسحاق نے یہاں بھی مخالفت ثقات کی ہے اس لیے یہ روایت بلکل نا قابل قبول ہے۔

معراج کا حقیقی آغاز: قرآنِ و حدیث کی قطعی شہادت

اگرچہ یہ بات ہی درست ہے کہ نبی علیہ سلام تو اس وقت مسجد حرام میں تھے۔ اس پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔

جس طرح اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے کہ

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾

“پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ بڑا سننے والا، دیکھنے والا ہے۔”

﴿سورۃ الاسراء، آیت: 1

اب ہم ایک صحیح حدیث بھی پیش کرتے ہیں جو ہمارے دعویٰ کو باقاعدہ ثابت کردے گی اور اس کے بعد کوئی اعتراض نہ بچے گا ان شاءاللہ۔

“3207 – ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہمام نے قتادہ سے بیان کیا، اور مجھ سے خلیفہ نے کہا: ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید اور ہشام نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے انس بن مالک نے مالک بن صعصعہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: نبی ﷺنے فرمایا: ‘جب میں بیت اللہ کے پاس تھا، نیند اور بیداری کے درمیان (ایک حالت میں) – اور انہوں نے دو آدمیوں کا ذکر کیا – تو میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پس میرے سینے سے لے کر پیٹ کے نچلے حصے تک چیرا گیا، پھر میرے پیٹ کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔

اور میرے پاس ایک سفید سواری لائی گئی، جو خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی، (اس کا نام) براق تھا۔

پھر میں جبرائیل کے ساتھ روانہ ہوا یہاں تک کہ ہم آسمانِ دنیا پر پہنچے۔ کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرائیل۔ کہا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد۔ کہا گیا: کیا ان کی طرف بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں۔ کہا گیا: ان پر خوش آمدید، اور وہ کتنی اچھی آمد ہے!”

 (صحیح البخاری – ط السلطانیہ – البخاری، 4/ 114

الحمداللہ بندہ نہ چیز نے باقاعدہ دلائل سے یہ بات ثابت کی کہ ملحدین کا اس پر جو بھی اعتراض ہے اسکی کوئی اصل نہیں صرف انکی علم سے دوری اور فتنہ بھرپہ کرنے کا طریقہ ہے۔ خیر پہلے ہی بات واضح کردی تھی کہ مقصد انکو جواب دینا نہیں بلکہ اپنے مسلمانوں بھائیوں کی اصلاح ہے تاکہ وہ انکے جھوٹے اور منگھڑت اعتراض سے بچ سکیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ مزید بھی اس پر بہت زیادہ کلام ہو سکتا تھا مگر جب ایک اعتراض سرے سے باطل ہے تو اتنا بہت ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہےکہ وہ ہمیں دین اسلام پر ہی قائم اور دین اسلام پر ہی موت نصیب فرمائے آمین۔

خلاصہ

اس تحریر میں میں نے اصل نکتہ یہ واضح کیا ہے کہ معراج کے واقعے پر جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں وہ زیادہ تر تاریخی ترتیب کی غلط فہمی اور کمزور روایات پر اعتماد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ کسی مضبوط علمی بنیاد پر۔ میں نے یہ بات واضح کی کہ سیدہ خدیجہؓ کا وصال معراج سے پہلے ہو چکا تھا، اس لیے ان کا اس واقعے سے جوڑنا تاریخی طور پر درست نہیں بنتا۔
اسی طرح میں نے امّ ہانیؓ کے گھر قیام والی روایت کو بھی اصل دلیل کے طور پر قبول نہیں کیا، کیونکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے مضبوط نہیں اور اس کے مقابلے میں قرآنِ مجید کی صریح آیت اور صحیح بخاری کی روایت یہ واضح کرتی ہیں کہ اسراء کا آغاز مسجد الحرام سے ہوا تھا۔ اس لیے اس اعتراض کی بنیاد بھی میرے نزدیک کمزور ہے اور یہ صحیح نصوص کے مقابلے میں قابلِ ترجیح نہیں رہتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ میرے نزدیک معراج کے بارے میں جو اشکالات پیش کیے جاتے ہیں وہ درحقیقت صحیح نصوص کو نظر انداز کرنے اور غیر مضبوط روایات پر اعتماد کرنے کا نتیجہ ہیں، جبکہ اصل اور قطعی بات قرآن اور صحیح حدیث سے یہی ثابت ہوتی ہے کہ یہ واقعہ مسجد الحرام سے شروع ہوا اور اسی پر اعتماد کرنا لازم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

ابو الحسن شماعیل الحیسنی

ابو الحسن شماعیل الحیسنی

ابو الحسن شماعیل الحیسنی متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور ایک فعال محقق ہیں۔ انہیں کم عمری ہی سے علمی تحقیق، دینی مطالعہ اور مختلف اسلامی مسائل کے تحقیقی جائزے کا خصوصی شوق رہا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اصل مصادر، معتبر حوالہ جات اور علمی اصولوں کو نیاد بنا کر موضوعات کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ان کی دلچسپی بالخصوص عقائد، حدیث، تاریخِ اسلام اور معاصر فکری شبہات پر تحقیق میں ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قارئین تک مدلل، منظم اور مستند معلومات پہنچائی جائیں تاکہ علمی مسائل کو اصل مراجع کی روشنی میں سمجھا جا سکے۔