بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(حدیث نمبر:19 (مسند عبدالله بن عمر

متفرق ابواب
حدیث نمبر:19

حدیث نمبر:19

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، وَيَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الْيَحْصِبِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ النَّمِيمَةَ: وَهِيَ الْكَذِبُ، وَالسَّخِيمَةَ وَالْحَمِيَّةَ فِي النَّارِ، فَلا يَجْتَمِعَانِ فِي صَدْرِ مُسْلِمٍ".
حدثنا ابو اليمان، ويحيى بن صالح، قالا: حدثنا عفير بن معدان اليحصبي، عن عطاء بن ابي رباح، قال: سمعت ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن النميمة: وهي الكذب، والسخيمة والحمية في النار، فلا يجتمعان في صدر مسلم".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا چغل خوری جھوٹ ہے اور کینہ اور (خاندانی و جاہلی) حمیت جہنم میں ہے۔ یہ دونوں چیز ایک مسلمان کے سینے میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“

إسناده ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم