بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(حدیث نمبر:23 (مسند عبدالله بن عمر

متفرق ابواب
حدیث نمبر:23

حدیث نمبر:23

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يَتَعَارَّ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلا أَجْرَى السِّوَاكَ عَلَى فِيهِ".
حدثنا محمد بن سعيد بن زياد، حدثنا سعيد بن راشد، حدثنا عطاء بن ابي رباح، عن ابن عمر،" ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتعار ساعة من الليل إلا اجرى السواك على فيه".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بھی بیدار ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔

إسناده ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم