تخریج :تفسيراعياشى:221/1
حدیث نمبر:3
عن جابر قال : قلت لأبي جعفر عليه السلام قوله لنبيه ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ فَسَّرَه لي ، قال : فقال أبو جعفر عليه السلام : لشيء قاله الله ولشيء أراده الله يا جابر ، إنّ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان حريصاً على أن يكون عليٌّ من بعده على الناس (٢) وكان عند الله خلاف ما أراد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، قال : قلت : فما معنى ذلك ؟ قال : نعم عنى بذلك قول الله لرسوله عليه السلام ليس لك من الأمر شيء يا محمّد في عليّ الأمر إليّ في عليّ وفي غيره ، ألم أتل (أنزل خ ل) عليك يا محمّد فيما أنزلت من كتابي إليك ﴿ألم أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنّا وهم لا يفتنون﴾ إلى قوله ﴿فليعلمنّ﴾ قال : ففوّض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الأمر إليه
جابر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے امام ابو جعفر (امام محمد باقر) علیہ السلام سے عرض کیا: اللہ تعالی کا اپنے نبی سے یہ فرمانا کہ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ (اس معاملے میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے)، مجھے اس کی تفسیر بیان فرمائیے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: “اے جابر! یہ بات اللہ کے ایک فرمان اور اس کے ایک ارادے کی وجہ سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر حریص (خواہشمند) تھے کہ ان کے بعد علی علیہ السلام لوگوں پر (امامت و حکومت کریں)۔
جبکہ اللہ کے ہاں وہ حکمت و ارادہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (فوری ظاہری) خواہش کے علاوہ تھا (یعنی امتحان و آزمائش کا اصول)۔”
جابر نے کہا: میں نے عرض کیا: تو پھر اس کا (اصل) مطلب کیا ہے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: “ہاں، اس سے مراد اللہ کا اپنے رسول علیہ السلام سے یہ فرمانا تھا کہ: اے محمد! نہ علی کے معاملے میں اور نہ کسی اور کے معاملے میں آپ کا اپنا کوئی (ذاتی) اختیار نہیں ہے۔ کیا میں نے اپنی کتاب میں، جو آپ پر نازل کی ہے، یہ تلاوت نہیں کی (نازل نہیں کیا) کہ: ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔۔۔ فَلَيَعْلَمَنَّ﴾ (ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ انہیں صرف اس بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟۔۔۔ تاکہ اللہ ظاہر کر دے)؟
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔”
اس روایت کے برعکس شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا، حالانکہ ان کی اپنی روایت میں امام باقر کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں بھی نبی ﷺ کو کوئی اختیار نہیں تھا بلکہ معاملہ اللہ کے سپرد تھا۔