بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(الاربعون في الرد على الشيعة من كتبهم) سيدنا ابو بكر كى بيعت

متفرق ابواب
سيدنا ابو بكر كى بيعت

نهج البلاغة:46

حدیث نمبر:10

وَسَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ، أَتَرَانِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ)؟ وَاللَّهِ لَأَنَا أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَهُ فَلَا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ كَذَبَ عَلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِي أَمْرِي فَإِذَا طَاعَتِي قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَتِي، وَإِذَا الْمِيثَاقُ فِي عُنُقِي لِغَيْرِي

اور ہم نے اللہ کے امر (اور فیصلے) کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھوں گا؟ خدا کی قسم! میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے آپ ﷺ کی تصدیق کی، لہٰذا میں وہ پہلا شخص نہیں بن سکتا جو آپ ﷺ پر جھوٹ باندھے۔​پھر میں نے اپنے معاملے میں غور و فکر کیا، تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری (اللہ اور رسول کی) اطاعت میری (لوگوں سے) بیعت پر مقدم ہے، اور میرے گلے میں کسی اور کا عہد و پیمان ہے (جس کی پاسداری مجھ پر لازم ہے)۔

اس روایت کے برعکس شیعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کو باطل اور غیر شرعی قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی کتابوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کیا، اپنے ذمہ عہد و پیمان کا اعتراف کیا، اور یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر تمام مسلمانوں نے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

اور مزید ہے کہ:

ومعلوم أن جمهور أصحابه، وجلهم كانوا ممن يعتقد إمامة من تقدم عليه عليه السلام، وفيهم من يفضلهم على جميع الأمة

 اور یہ بات معلوم و واضح ہے کہ آپ (حضرت علی علیہ السلام) کے صحابہ کی اکثریت اور ان کا بڑا حصہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو آپ سے پہلے کے خلفاء کی امامت (خلافت) کے قائل تھے، اور ان میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ان (پہلے خلفاء) کو تمام امت پر فضیلت دیتے تھے۔ ﴿الشافي في الامامہ :144/3

وكيف يمكن أمير المؤمنين عليه السلام الخلاف على من بايعه جميع المسلمين، وأظهروا الرضا به، والسكون إليه؟

 اور امیر المومنین (علیہ السلام) کے لیے اس شخص کی مخالفت کیسے ممکن ہو سکتی تھی جس کی بیعت تمام مسلمانوں نے کر لی تھی، اور جس پر انہوں نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا اور اس پر مطمئن ہو چکے تھے؟ ﴿الشافي في الامامہ:246/3