بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

مسجد میں داخلہ

مسجد میں داخلہ

فہرستِ مباحث

مسجد میں داخل ہوتے وقت بلند آواز سے سلام کرنا

سلام کی اہمیت میں تو کوئی کلام نہیں اور اس کے اجر و ثواب میں بھی کوئی شک نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب امام قراءت کر رہا ہو اور اس طرح قراءت میں مگن ہو کہ اس کو ارد گرد کی بھی خبر نہ ہو اور لوگ بھی اس کی خوش الحانی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، اچانک ایک زوردار آواز اس کے ہی نہیں، سب نمازیوں کے کانوں میں گونج جائے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ”۔۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔۔؟

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض افراد اس طرح سلام کرتے ہیں کہ قراءت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید دوران قراءت کوئی غلطی ہو گئی ہے اور لقمہ ملا ہے۔ آپ حیران ہوں گے، لیکن یہ خود میرے ساتھ ہو چکا ہے کہ ایک بار میں نماز پڑھا رہا تھا، کسی نے زور دار سلام لیا، میں سورہ فاتحہ پڑھ رہا تھا، اس کے سلام کی طرف توجہ اس قدر مبذول ہوئی کہ میں بھول گیا کہ کون سی آیت مبارکہ پڑھی ہے۔ بلا شبہ نماز پڑھنے والوں کو سلام کیا جا سکتا ہے، اس کا جواز ہے لیکن جواز کے درجے والے کام کو حکم کا درجہ دیا جانا تو بہر حال درست نہیں۔

بعض اوقات اس طرح کے سلام سے منع کرنے پر لوگ تلخ ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اس حد تک ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نمازی کو سلام کرنا چاہے تو وہ کر سکتا ہے اور نمازی اس کے سلام کا جواب زبان سے نہیں بلکہ ہاتھ کے اشارے سے دے گا۔﴿ سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب رد السلام فی الصلاۃ، حدیث: 925﴾ اور وہ اس جواب کا بھی پابند نہیں۔ اتنے محدود سے مسئلے میں اس حد تک وسعت کہ مسجد ہر لمحے آنےجانیں، اور نمازی جو نماز ادا کر رہے ہوں، ان کے خشوع و خضوع میں سخت خرابی آتی رہے، یہ کسی طور مناسب نہیں۔ اس لیے ہمیں ان مسائل میں جو محض مستحبات کے زمرے میں آتے ہیں، اپنے رویوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

مسجد میں عبادات کے لیے جگہ مخصوص کر لینا

مسجدیں اللہ رب العزت کا گھر ہیں۔ یہ عبادت کا مقام ہیں۔ ان کا مقصود اصلاً صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ لیکن برا ہو ہماری جھوٹی اناؤں کا، ان کی تسکین کے لیے ہم نے مساجد کو بھی اپنی سیاست کا مرکز بنا لیا ہے، جس کا مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہوتا ہے، مسجد کی خدمت نہیں۔ پھر کچھ لوگ جو اپنے تئیں مساجد کے بڑے ہوتے ہیں، جنہیں مساجد کا خادم ہونا چاہیے، وہ مساجد کے ”مخدوم” بن بیٹھتے ہیں۔ یہی سے بے شمار خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

مساجد کے یہ ”بڑے” جو درحقیقت بہت چھوٹے ہوتے ہیں، ان میں سے بعض نے اپنے لیے مساجد میں بعض کونے یا بعض مصلے مخصوص کیے ہوتے ہیں۔ وہاں ان کے خدام کسی اور کو بیٹھنے نہیں دیتے۔ اگر کوئی بیٹھ جائے تو اسے اٹھا دیتے ہیں۔ جب کہ مسجدوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو پہلے آئے، وہ جہاں جگہ پائے، وہیں بیٹھ جائے۔ مسجد میں تو کوئی محمود و ایاز نہیں ہوتا۔ حضرت عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

”نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کوے کی طرح چُونچ مارنا، درندے کی طرح بازو بچھانا اور کسی شخص کا مسجد میں اپنے لیے کوئی جگہ مخصوص کر لینا جس طرح اونٹ اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ مخصوص کر لیتا ہے۔”﴿ سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع، حدیث: 862﴾

علامہ الدہر شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”مسجد میں کسی جگہ کی تخصیص دراصل غصب کرنا ہوتا ہے اور غاصب کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ اس لیے جو مسجد میں سبقت کر جائے، وہی اگلی صف یا امام کے پیچھے جگہ کا حق دار ہوتا ہے۔”﴿ فتاویٰ علامہ عبدالعزیز بن باز ، ص: 264﴾

اس لیے کوئی بھی شخص اپنے لیے مسجد میں جگہ مخصوص نہ کرے، جہاں اسے جگہ مل جائے وہاں بیٹھ جائے۔ اگر ہمیشہ دائیں جانب بیٹھتا تھا، آج بائیں جانب جگہ ملی ہے تو وہ بائیں جانب بھی مسجد کا حصہ ہے، وہ مسجد سے باہر تو نہیں۔ اگر کسی مخصوص ستون کے ساتھ ٹیک لگا کے خطبہ سنتا تھا، آج وہاں کوئی اور آ کے بیٹھ گیا ہے تو منہ کا ذائقہ کڑوا کرنے کی ضرورت نہیں، طبیعت میں بغیر کسی انقباض کے وہیں بیٹھ جائے اور حضورِ قلب سے خود کو عبادت میں مصروف کرے۔ مسجد میں جگہ مخصوص کرنے سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنی عبادت کی قبولیت کی دعا کی جائے۔

تحیۃ المسجد کا اہتمام نہ کرنا

کتنے ہی نمازی ہیں جو اس مسئلے میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ تحیۃ المسجد احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ایک ضروری امر ہے نہ کہ مستحب۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کا حکم فرمایا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیثِ مبارکہ سے واضح ہو رہا ہے:

“سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی آپ ﷺ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ہمارے ساتھ بیٹھنے سے پہلے تمہیں کس بات نے دو رکعت پڑھنے سے منع کیا؟

میں نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے آپ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی آپ کے پاس چلا آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔”﴿ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تحية المسجد۔۔۔، حدیث: 714، اردو: 1655﴾

اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ایک مسلمان مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس وقت بھی مسجد میں جائے اور اسے وہاں کسی غرض سے رکنا ہو تو اسے دو رکعت ادا کر کے بیٹھنا چاہیے۔ ہاں اگر کوئی مسجد میں جائے اور کھڑے کھڑے واپس آ جائے تو اس کے لیے تحیۃ المسجد نہیں۔ تحیۃ المسجد کی اہمیت اور وجوب کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ جب سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اور رسول کریم ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ لوگوں کے بیچ میں بیٹھ گئے اور خطبہ سننے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے دیکھا تو ارشاد فرمایا:

”جب بھی تم میں سے کوئی نمازِ جمعہ کے لیے مسجد میں آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ مختصر سی دو رکعتیں ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔”﴿صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، التحية والامام يخطب، حدیث: 59/875، اردو: 2024۔ وصحیح البخاری: 1166﴾

ان احادیثِ مبارکہ کے بعد اس قسم کی فقہی موشگافیوں میں پڑنا کہ تحیۃ المسجد فرض ہے یا واجب یا مستحب، سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ وغیرہ، یہ ایک مومن کے شایانِ شان نہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما دیا کہ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کر کے بیٹھو تو پھر چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اتباعِ سنت کا تقاضا ہے کہ فرمانِ نبوی ﷺ سے سرمو انحراف نہ کیا جائے۔ اس چھوٹے سے مسئلے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نہ تو کوئی درجن بھر علوم پر دسترس ضروری ہے اور نہ کسی مسندِ تدریس پر براجمان ہونا لازمی ہے۔ ہاں اس جذبے کی ضرورت ہے کہ جو ہمارے اندر بہت کم ہے اور وہ یہ کہ فرمانِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کو غیر مشروط ماننا اور ائمہ کرام کے اقوال و آرائ کی قید سے آزاد رکھنا۔ اللہ رب العزت ہمیں قدم بقدم اتباعِ نبوی کی سعادت نصیب فرمائے۔

مسجد میں آنے کے بعد امام کے انتظار میں کھڑے رہنا

نمازیوں کی کوتاہیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر وہ نماز کے وقت معمولی سا پہلے آ جائیں تو بجائے اس کے کہ تحیۃ المسجد ادا کریں اور پھر دعا میں مصروف ہو جائیں، کھڑےکھڑے امام صاحب کی آمد کے منتظر رہتے ہیں کہ کب امام صاحب تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔

بعض مساجد میں امام کا حجرہ مسجد میں ہی ہوتا ہے۔ امام کو اگر کسی وجہ سے آنے میں تاخیر ہو جائے۔۔۔ اور یہ تاخیر اکثر و بیشتر ایک آدھ منٹ کی ہی ہوتی ہے۔۔۔ لوگ بار بار گھڑیوں کی طرف نگاہیں دوڑاتے ہیں۔ بیٹھے ہوئے اپنی جگہ پہلو بدل رہے ہوتے ہیں اور جو کھڑے ہوتے ہیں، وہ بھی سخت مضطرب ہوتے ہیں۔ اور اگر امام صاحب دو تین منٹ تاخیر کا شکار ہو جائیں تو پھر کچھ نہ پوچھے۔ اگر تو نمازیوں کی اچھی تربیت ہوئی ہوگی، وہ عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے۔۔۔ اور ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔۔۔ ورنہ امام کو تیسرے درجے کی مخلوق سمجھ کر ادنیٰ سے ادنیٰ شخص بھی اس کا احتساب کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ بہر حال مسجد میں آنے کے بعد کھڑے ہو کے امام کا انتظار کرنے کی بجائے تحیۃ المسجد ادا کیجیے اور پھر جب امام صاحب آئیں، تکبیر ہو تو نماز میں شامل ہو جائیے۔ حضرت ابو قتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ نماز کی تکبیر ہو تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو، کھڑے نہ ہوا اور آہستگی کو لازم پکڑو۔”﴿ صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب لا يسعى الى الصلاة مستعجلا وليقم بالسكينة والوقار، حديث: 638﴾

مطلب یہ کہ اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہنا چاہیے۔ جب امام اپنے مصلے کی طرف آئے تو اس وقت کھڑے ہو جائیے اور صفیں درست کی جائیں۔

اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں غیر ضروری گفتگو کرنا

آپ دیکھیے کہ ہم نمازی کیسی کیسی کوتاہیاں کر جاتے ہیں۔ ایک شخص اپنے کاروبار یا نوکری سے اٹھ کر نماز کے لیے مسجد گیا۔ کوئی دوسرا شخص اپنی تعلیمی مصروفیت سے وقت نکال کر مسجد میں آیا ہوگا۔ غرض جتنے افراد اذان کی آواز سننے کے بعد نماز سے پہلے مسجد میں آئے، وہ اسے ایک ضروری فریضہ سمجھ کر اس کی ادائیگی کے لیے آئے— اب کوئی دس منٹ پہلے آیا اور کوئی پانچ منٹ پہلے— یہ چند منٹ بے حد قیمتی ہوتے ہیں۔ انہیں اس طرح ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ باتیں کرنے کے اور بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔

اگر خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کوئی شخص نماز سے کچھ وقت پہلے مسجد میں آ چکا ہے تو وہ اسے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام سمجھے۔ اس لیے کہ ہم اپنی مصروفیات بہت بڑھا چکے ہیں۔ ان مصروفیات میں مسجد میں نماز سے چند منٹ پہلے حاضری بہت دشوار محسوس ہوتی ہے۔ اگر کوئی نمازی اپنی مصروفیات بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد میں آ چکا ہے، وہ تحیۃ المسجد کی سعادت بھی حاصل کر چکا ہے، اب اس کی مصروفیت کیا ہونی چاہیے؟

سوائے اس کے کہ وہ اپنا خالی دامن اللہ تعالیٰ کے حضور پھیلا دے اور دعاؤں میں مصروف ہو جائے۔ کیونکہ یہ قبولیتِ دعا کا وقت ہے۔ تکبیرِ اولیٰ سے پہلے ان کی آمد بتا رہی ہے کہ یہ نماز باجماعت کے پابند لوگ ہیں۔ شاید ان میں سے کوئی بھی دوسری تیسری رکعت یا آخری تشہد کا نمازی نہیں۔ لیکن اکثر مساجد میں یہ قابلِ اصلاح منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ تکبیرِ اولیٰ کے حریص نمازی اذان اور اقامت کے درمیان قیمتی گھڑیوں میں گپ بازی میں مصروف ہوتے ہیں۔

کوئی سیاست کا رونا رو رہا ہوتا ہے تو کوئی ذاتی مسائل کی گٹھڑی کھولے ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ اس وقت اپنی خالی جھولیاں بارگاہِ الہِ العالمین میں پھیلائے ہوتے ہیں۔ حالانکہ حدیثِ مبارکہ میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقت کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت مانگی گئی دعا رد نہیں کی جاتی۔﴿ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث مبارکہ کے راوی ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لا يُرَدُّ الدُّعاءُ بين الأذانِ والإقامةِ“اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔”﴿سنن ابو داؤد، کتاب الصلوة، باب ما جاء في الدعاء بين الاذان والاقامة، حديث: 521﴾﴾ اس کے باوجود پختہ قسم کے نمازی بھی بعض اوقات اس غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی محتاج اور لاچار ہے۔ اس لیے اس طرح کی کوتاہیوں سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔

مسجد میں تشبیک کی ممانعت

بہت سوں کو یہ لفظ ”تشبیک” اجنبی لگے گا اور واقعتاً بات بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کا معنی ہے انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا۔ شریعت کا مطلوب یہ ہے کہ جب ہم مسجد میں نماز کے لیے آئیں تو ہر طرح کی لایعنی اور غیر ضروری حرکات و سکنات ترک کر دیں۔ ایک نمازی تحیۃ المسجد ادا کر کے نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ اس دوران وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر دیتا ہے۔ بظاہر یہ بہت ہی معمولی سی حرکت ہے اور اس میں کوئی شور نہیں، دوسرے نمازیوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس عمل کو اس حد تک ناپسند کیا ہے کہ مسجد میں آتے ہوئے بھی اس سے منع فرمایا ہے کہ وضو کے بعد مسجد کی طرف آتے ہوئے گو یا تم نماز (کے حکم) میں ہو۔ اور جب مسجد میں آچکو تو ایسے نہ کرو کیونکہ جب تک تم نماز کا انتظار کر رہے ہو، گو یا تم نماز کے حکم میں ہو۔﴿سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة، حديث: 562 ، صحيح ابن خزيمه: 440، مسند احمد: 18103﴾

واللہ اعلم بالصواب

از قلم

عمر فاروق قدوسی

عمر فاروق قدوسی

عمر فاروق قدوسی اسلامی موضوعات پر لکھنے والے مصنف ہیں۔ ان کی تحریروں میں عبادات، نماز، طہارت، استخارہ اور دینی رہنمائی سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف میں خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، اللؤلؤ والمرجان اردو ترجمے کی ترتیب و تدوین ، انوار المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح کے عناوین، نبوی مجموعہ وظائف، اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں، نبیِ رحمت ﷺ کی راتیں اور استخارہ کتاب و سنت کی روشنی میں شامل ہیں۔