کتاب: وضو کے بیان میں
باب: نماز کا وقت ہو جانے پر پانی کی تلاش ضروری ہے۔
احادیث:1
حدیث نمبر: Q169
وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَضَرَتِ الصُّبْحُ فَالْتُمِسَ الْمَاءُ، فَلَمْ يُوجَدْ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ.
وقالت عائشة حضرت الصبح فالتمس الماء، فلم يوجد، فنزل التيمم.
” ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک سفر میں) صبح ہو گئی ‘ پانی تلاش کیا گیا، مگر نہیں ملا۔ تو آیت تیمم نازل ہوئی “۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ".
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، انه قال:" رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت صلاة العصر، فالتمس الناس الوضوء فلم يجدوه، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الإناء يده، وامر الناس ان يتوضئوا منه، قال: فرايت الماء ينبع من تحت اصابعه حتى توضئوا من عند آخرهم".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر نہ ملا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”اس سے وضو کریں۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگشت ہائے مبارک کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی (برتن) سے وضو کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی (چشمے کی طرح) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ (قافلے کے) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں