بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

کتاب: وضو کے بیان میں
باب: جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
احادیث:2

حدیث نمبر: Q170

وَكَانَ عَطَاءٌ لاَ يَرَى بِهِ بَأْسًا أَنْ يُتَّخَذَ مِنْهَا الْخُيُوطُ وَالْحِبَالُ، وَسُؤْرِ الْكِلاَبِ وَمَمَرِّهَا فِي الْمَسْجِدِ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِذَا وَلَغَ فِي إِنَاءٍ لَيْسَ لَهُ وَضُوءٌ غَيْرُهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ. وَقَالَ سُفْيَانُ هَذَا الْفِقْهُ بِعَيْنِهِ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا} وَهَذَا مَاءٌ، وَفِي النَّفْسِ مِنْهُ شَيْءٌ، يَتَوَضَّأُ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ.
وكان عطاء لا يرى به باسا ان يتخذ منها الخيوط والحبال، وسؤر الكلاب وممرها في المسجد. وقال الزهري إذا ولغ في إناء ليس له وضوء غيره يتوضا به. وقال سفيان هذا الفقه بعينه، يقول الله تعالى: {فلم تجدوا ماء فتيمموا} وهذا ماء، وفي النفس منه شيء، يتوضا به ويتيمم.
‏‏‏‏ عطاء بن ابی رباح آدمیوں کے بالوں سے رسیاں اور ڈوریاں بنانے میں کچھ حرج نہیں دیکھتے تھے اور کتوں کے جھوٹے اور ان کے مسجد سے گزرنے کا بیان۔ زہری کہتے ہیں کہ جب کتا کسی (پانی کے بھرے) برتن میں منہ ڈال دے اور اس کے علاوہ وضو کے لیے اور پانی موجود نہ ہو تو اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے سمجھ میں آتا ہے۔ جب پانی نہ پاؤ تو تیمم کر لو اور کتے کا جھوٹا پانی (تو) ہے۔ (مگر) طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے۔ (بہرحال) اس سے وضو کر لے۔ اور (احتیاطاً) تیمم بھی کر لے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 170

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُبَيْدَةَ: عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ، فَقَالَ:" لَأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
حدثنا مالك بن إسماعيل، قال: حدثنا إسرائيل، عن عاصم، عن ابن سيرين، قال: قلت لعبيدة: عندنا من شعر النبي صلى الله عليه وسلم اصبناه من قبل انس او من قبل اهل انس، فقال:" لان تكون عندي شعرة منه احب إلي من الدنيا وما فيها".
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ یا ان کے اہل خانہ کی طرف سے ملے ہیں۔ اس پر حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: اگر میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہوتا تو مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ محبوب ہوتا۔
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال (مبارک) ہیں، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ (یہ سن کر) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 171

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ".
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، قال: اخبرنا سعيد بن سليمان، قال: حدثنا عباد، عن ابن عون، عن ابن سيرين، عن انس،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما حلق راسه كان ابو طلحة اول من اخذ من شعره".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا تو سب سے پہلے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے موئے مبارک لیے تھے۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے، کہا ہم سے عباد نے ابن عون کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ ابن سیرین سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) جب سر کے بال منڈوائے تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لیے تھے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں