(بخاری) اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
احادیث:1
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، فَقَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
حدثنا حجاج، قال: حدثنا شعبة، قال: اخبرني علي بن مدرك، عن ابي زرعة، عن جرير، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال له في حجة الوداع: استنصت الناس، فقال:" لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض".
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے فرمایا: ’’لوگوں کو خاموش کراؤ۔‘‘ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’اے لوگو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کے، پھر کافر نہ بن جانا۔‘‘
ہم سے حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے علی بن مدرک نے ابوزرعہ سے خبر دی، وہ جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ لوگوں کو بالکل خاموش کر دو (تاکہ وہ خوب سن لیں) پھر فرمایا، لوگو! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.