بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ہر نبی کے لیے ایک دعائے مستجاب

متفرق ابواب
باب: ہر نبی کے لیے ایک دعائے مستجاب
احادیث:1

حدیث نمبر: 20

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ تُسْتَجَابُ لَهُ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لكل نبي دعوة تستجاب له، فاريد إن شاء الله ان اؤخر دعوتي شفاعة لامتي يوم القيامة"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"”ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے۔ پس ان شاء اللہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت تک اپنی امت کی شفاعت کے لیے ملتوی اور مؤخر رکھوں۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم