بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کفار کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم

متفرق ابواب
باب: کفار کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم
احادیث:1

حدیث نمبر: 51

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا ازال اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا قالوا: لا إله إلا الله، فقد عصموا مني دماءهم واموالهم وانفسهم إلا بحقها وحسابهم على الله"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں لوگوں سے تب تک قتال کرتا ہوں گا جب تک وہ «لا إله إلا اللہ» (اللہ کے سوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں) کا اقرار نہیں کر لیتے۔ چنانچہ جب انہوں نے اقرار کر لیا تو بالتحقیق انہوں نے اپنے اموال اور جانیں مجھ سے بچا لیں سوائے ان کے حق کے (یعنی قصاص، ارتداد یا کسی اور حد شرعی کی وجہ سے قتل مستثنیٰ ہے) اور ان کا حساب اللہ عزوجل پر ہے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم