فدک کی کہانی
باغ فدک کو لے ایک گروہ مدت سے ان مقدس اور مطہر اصحاب پر طعنہ زن ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول مکرم کے ایک اشارہ ابرو پر قربان کر دیں ۔ جن کی زندگی کا مقصد صرف نبی ﷺ کی اتباع تھی ، جو نبی کی محبت میں اپنا تن من دھن ہر شے قربان کر چکے تھے ۔
لیکن تمہید کو ترک کیجئے اور چلتے ہیں باغ فدک کی سیر کو …..
فدک کیا ہے ........؟
فدک کیا ہے ……..؟
پہلے تو جانتے ہیں کہ فدک کیا ہے کہ جس کو لے کر ایک جھگڑا کھڑا ہوا ہے ۔ جب خیبر فتح ہوا تو یہ فدک وہ باغ اور زرخیز زمین تھی کہ بنا کسی لڑائی کے مسلمانوں کو مل گی , اسے مال فے قرار دے کر اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺکو عطا کیا ۔ مال فے اس مال کو کہتے ہیں جو بنا لڑائی مسلمانوں کو ملا ہو اور اس کو مال غنیمت کی طرح تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے احکام الگ ہیں جن کی مکمل صراحت اور وضاحت قران میں موجود ہے ۔
وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
﴿سورۃ الحشر :6﴾
مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللهَ ۖ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا عذاب دینے والا ہے۔
﴿سورۃ الحشر :7﴾
دیکھیے قران میں اس مال کے مصارف اور خرچ کرنے کے مقامات صاف صاف لکھے ہیں کہ وہ نبی کے لیے ہے ، نبی کے اقارب کے لیے اور ساتھ ساتھ اس میں یتیموں اور ناداروں کو بھی شامل کیا ہے ۔
یہ تو ہو گیا مال فے کے مصارف کا تقرر …اب آپ سے سوال ہے اور اللہ کے واسطے اپنے روایتی مسلک ، عقیدے کے پیش نظر مت جواب دیجئے گا بلکہ دیانت و امانت کو پیش نگاہ رکھ کے جواب دیجئے گا …
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ رسول مکرم نے اللہ کے حکم کے خلاف کیا ہو گا ؟
کیا ممکن ہے کہ نبی نے اس باغ فدک کو کہ جو مال فئے تھا ، اللہ کی دی گئی ان ہدایات کے برعکس تقسیم کیا ہو گا ؟
کم از کم ہمار تو ایمان ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں …وہ نبی کہ جو درہم و دینار کو تقسیم کیے بنا کبھی قرار نہ پاتے تھے ، وہ اللہ کی ہدایات کو نظر انداز کر کے سارا مال گھر لے جاتے ہوں ۔اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ بنی ثقیف کے اس آدمی کی ذریت سے ہی ہو گا کہ جس نے کہا تھا کہ رسول آپ انصاف نہیں کرتے اور ہمارے رسول نے تب غضب ناک ہو کے کہا تھا کہ :
” اگر میں محمد انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا “
سو احباب ! ہمارا اس جملے پر ایمان ہے کہ نبی محمد سے بڑھ کر کوئی انصاف کرنے والا آج تک روے زمین نے نہیں دیکھا ۔
میں جانتا ہوں کہ پس منظر کا ذکر طویل تر ہو رہا ہے لیکن یہ پس منظر جانے بنا آپ منظر کو سمجھ ہی نہیں سکتے ۔
اوپر دی گئی آیات کی بنا پر ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے یعنی باغ فدک کے حق دار یہ تھے ۔
1:اللہ عزوجل
2:نبی کریمﷺ
3:نبی کریم ﷺکے قرابت دار
4:یتیم
5:حاجت مند
6:مسافر
تمام عمر نبی کریم فدک کی آمدن کو انہی مصارف میں صرف کرتے رہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ آمدنی کم تھی اور مصارف زیادہ ، یہی وجہ تھی کہ آپ تنگی ترشی میں وقت گزارتے جس کا ذکر امہات المومنین کی روایات میں جابجا ملتا ہے جس کا ذکر طوالت کا سبب ہی ہو گا ، بلکہ سیدہ فاطمہ کو جو ملتا تھا وہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا کہ آپ امیرانہ ٹھاٹھ سے زندگی گزار سکتیں ۔ اور اس تنگی کا ذکر بھی سب کے علم میں ہے ۔
خلاصہ اس تمام بحث کا یہ ہے کہ :
باغ فدک مال فے تھا ۔
مال فے پر نبی کو بطور سربراہ حکومت تقسیم کا اختیار تھا لیکن اس کے مصارف اللہ نے مقرر کر دیے تھے جس کے نبی پابند تھے ۔
رسول اللہ انہی پابندیوں کے مطابق یہ مال تقسیم کرتے رہے ۔حتی کہ آپ اللہ کے حضور چلے گئے ۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد فدک کا معاملہ
جب رسول اللہ ﷺکی وفات ہو گئی اور ابوبکر صدیق خلیفہ بنے تو آپ نے نبی کریم کے قدم بقدم چلنے کا عزم کیا ، یہ ارادہ اور عزم کس قدر پختہ تھا اس کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ انہی دنوں لشکر اسامہ کی تیاری تھی اور نوجوان اسامہ بن زید اس لشکر کے امیر تھے ۔ اسی اثناء میں نبی کریم فوت ہو گئے ۔ خلیفہ بنتے ہی جو پہلے پہلے احکام سیدنا ابوبکر نے جاری کیے ان میں اس لشکر کی روانگی بھی تھی ۔ کبار صحابہ نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر اس مہم جوئی کو ملتوی کرنے کا کہا ، لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا ، اس پر یہ تجویز آئی کہ کم از کم لشکر کا امیر کسی تجربہ کار کو مقرر کر دیجئے ..اس پر بھی صدیق اکبر کا ردعمل وہی تھا کہ میں رسول کے حکم سے ایک بال برابر بھی سرتابی نہیں کر سکتا ۔ یہ فیصلہ میرا نہیں رسول کا تھا میں کون ہوتا ہوں اسے بدلنے والا …اندازہ کیجئےان میں کس قدر اتباع رسول کا جذبہ تھا ۔
سو انہی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دربار میں فدک کا معاملہ بھی پیش ہوتا ہے ۔
سیدۃ فاطمہ الزھراء، خلیفۃ الرسول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ فدک میں جو ان کی وراثت بنتی ہے، وہ انھیں دی جائے۔ اس پر ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کہا ہے:
“ہم انبیاء کی جماعت کوئی وراثت نہیں چھوڑتے، بلکہ جو ہم چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے”
اللہ کی قسم، اللہ کے رسول ﷺکے زمانے میں اس باغ کی جو حیثیت تھی، میں وہی باقی رکھوں گا، اور آپ ﷺنے اپنی زندگی میں اس باغ کے بارے جو فیصلہ کیا، میں بھی وہی میں کروں گا۔
﴿صحیح بخاری، باب غزوہ خیبر]۔
یعنی اس کا پھل اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا رہوں گا جیسا کہ آپ ﷺاپنی زندگی میں کرتے تھے۔ اور یہ روایت سیدۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے علم میں نہ تھی کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی۔ اور یاد رہے کہ یہ روایت اہل تشیع کے نزدیک بھی صحیح ہے۔۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبیؐ کی وفات کے بعد امہات المؤمنینؓ نے جب آپؐ کے ترکے کے لیے ارادہ کیا تو سیدہ عائشہؓ نے منع کردیا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
«عن عائشه أن أزواج النبی ﷺحین توفی رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم أردن أن یبعثن عثمان إلی أبی بکر یسألنه مبراثھن فقالت عائشة ألیس قد قال رسول اللہ ﷺلا نورث ماترکنا صدقة»
﴿ صحیح بخاری کتاب الفرائض باب قول النبی لانورث ماترکنا صدقة﴾
“سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو آپ ﷺکی بیویوں نے یہ ارادہ کیاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور اپنے ورثہ کا مطالبہ کریں تو اس وقت میں (عائشہ) ان کو کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا ہے: ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔”
صحیح بخاری ہی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس جواب پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنجش ہوئی اور انہوں نے دوبارہ اپنی وفات تک اس بارے حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو نہ کی ۔ پہلے اس روایت پر بات کرتے ہیں ۔ روایت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس کے شروع میں مکالمہ ہے سیدہ کا اور خلیفہ کا ۔۔۔سیدہ نے مطالبہ کیا اس پر خلیفہ وقت نے انکار کیا اور ساتھ انکار کی وجہ بھی بتائی ۔
اور صراحت بھی کی کہ ” میں اسی طرح خرچ کروں گا جیسے نبی کرتے تھے “
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس جملے پر سیدہ کو کوئی اعتراض ہوا ہو ؟
اسی طرح یہ حدیث کہ
“ہم انبیاء کی جماعت کوئی وراثت نہیں چھوڑتے، بلکہ جو ہم چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے” بھی ان کے علم میں نہیں تھی ، کیونکہ اگر ان کے علم میں ہوتی تو وہ کبھی بھی مطالبہ کرنے نہ آتیں ، کیونکہ ان کی شان ہی نہیں کہ اپنے بابا کی بات کو سن کر بھی وہ ایسا مطالبہ کرتیں .جیسے حدیث عائشہ کے مطابق باقی امہات بھی مطالبہ کرنے کو تھیں لیکن ان کو سیدہ عائشہ نے نبی پاک کا قول سنا دیا تو وہ وہیں رک گئیں ۔۔۔۔
.ظاہر ہے سیدہ فاطمہ کے گمان میں یہی تھا کہ فدک کا باغ ان کی وراثت ہے سو وہ مطالبہ کرنے آ گئیں ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر فدک وراثت ہوتا تو سیدہ کا مطالبہ سو فیصد درست تھا ۔
کیا فدک وراثت تھا ؟
اس کیس کا بنیادی نکتہ ہی یہی ہے کہ فدک وراثت نہیں تھا ۔ اور صحابہ کرام نے بھی یہی سمجھا ۔ کیونکہ اگر وراثت ہوتا تو اس کی تقسیم بھی اس طرح ہونی تھی ۔۔۔۔
کہ نصف حصہ سیدہ فاطمہ کو ملتا کیوں کہ نبی کریم کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی . آٹھواں حصہ امہات المومنین کو ملتا ، جبکہ باقی سیدنا عباس کو ملتا .. یعنی کہ اس تقسیم میں بھی سیدہ فاطمہ آدھے کی مالک ہوتیں ، باقی دوسروں کے حصے میں آتا ۔ لیکن یہ تقسیم تب ہوتی جب یہ وراثت ہوتا لیکن قران کی یہ آیت بہت کھلے طور پر اس کی نفی کرتی ہے کہ یہ وراثت تھا
مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللهَ ۖ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا عذاب دینے والا ہے۔
﴿سورت الحشر :7﴾
اگر یہ نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت ہوتا تو ہی وراثت بنتا ، لیکن اس میں ملکیت کے حقوق تو اللہ تعالی خود تقسیم کر رہے ہیں اور اس کی یہی صورت بنتی ہے کہ یہ ریاست کے زیر انتظام رہے اور اس کی آمدنی یوں یوں تقسیم ہوتی رہے ۔ مزید وضاحت سیدنا ابوبکر ہی بیان کردہ حدیث سے ہوتی ہے کہ “
“ہم انبیاء کی جماعت کوئی وراثت نہیں چھوڑتے، بلکہ جو ہم چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے”
اور کمال یہ ہے کہ یہ روایت اہل سنت اور شیعہ دونوں کے ہاں معتبر ہے اور اسے درست تسلیم کیا جاتا ہے ۔ آج کے شیعہ اور سنی جس کو درست مانتے ہیں ، کیا کوئی بدبخت گمان کر سکتا ہے کہ سیدہ کے سامنے آئی ہو گی تو انہوں نے نہ مانی ہو گی ؟
کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوئیں؟
عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
اب آتے ہیں بخاری کی روایت کے اگلے حصے کی طرف کہ کہ سیدہ اس جواب پر ناراض ہو گئیں اور عمر بھر بات نہیں کی ۔
سیدہ رضی اللہ عنہا کیا پھر ناراض ہو گئیں ؟؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ،جی جناب ، بخاری کی روایت میں پہلے ہماری دونوں محترم ہستیوں کا مکالمہ ہے اس مکالمے میں کوئی ایک لفظ بھی تلخی کا درج نہیں ، ایک مطالبہ ہے جواب میں رسول کی حدیث اور جائیداد کی قانونی حیثیت کا ذکر …..اس کے بعد فریقین رخصت ہوتے ہیں ..یہ جو لکھا ہے کہ کہ سیدہ نے اس کے بعد عمر بھر بات نہیں کی ..یہ اس کے بعد راوی کا بیان ہے ۔ اور راوی کے اس بیان کو اصول حدیث میں ادراج کہا جاتا ہے ۔ اس کے غلط اور درست ہونے کے احتمالات ہوتے ہیں ۔ اور اس سے کیا مراد ہو سکتا ہے اس پر بھی بحث ہو سکتی ہے ۔ اس کا ایک مفھوم تو بظاہر یہی ہے کہ سیدہ ناراض ہو گئیں ..لیکن پھر وہی سوال منہ کھولے کھڑے ہوں گے جو ہم نے اوپر درج کیے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ ہم کس طرح گمان کر سکتے ہیں کہ نبی کریم کی صحیح حدیث کو سن کر بھی آپ نے عدم تسلیم کیا ہو گا ..جبکہ سیدنا ابوبکر کہہ رہے ہیں کہ وہ اسی طرح تقسیم کرتے رہیں گے جس طرح نبی کریم کرتے رہے ۔ اس صورت میں تو بات قابل اطمینان تھی کہ اگر باپ کی وفات کے بعد کوئی خدشات تھے کہ گذر بسر کیسے ہو گی تو وہ رفع ہو گئے کیونکہ خلیفہ وقت تسلی دے رہے ہیں کہ بی بی آپ گھبرائیں نا جو نبی آپ کو دیتے رہے وہ ویسے ہی ملتا رہے گا ….
حدیث کے اس دوسرے حصے کا مفھوم یوں بھی بیان کی جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر کی بات سن کر سیدہ فاطمہ خاموش ہو گئیں اور ” عمر بھر دوبارہ بات نہ کی ” یعنی اس حوالے سے کوئی بات یا تقاضا نہ کیا ۔ اس مفھوم کو تقویت سیدنا علی کا اپنا طرز عمل بھی واضح کرتا ہے ..کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ کا جنازہ کس نے پڑھایا ؟
جی ہاں آپ حیران مت ہوں کہ ایک دم میں نے کہاں جا چھلانگ لگائی ..جھگڑا فدک اور بات جنازے کی شروع کر دی …. جناب جب سیدہ فاطمہ وفات پا گئیں تو جنازے کے وقت سیدنا ابوبکر کو آگے کیا گیا ۔ ہم جو عام عام سے لوگ ہیں ، ہمارے والد فوت ہو جائیں اور ان کی کسی سے کبھی کوئی تلخی ہوئی ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ بندہ جنازے میں ہی شریک نہ ہو ، اور آ کے جنازہ پڑھا جائے ، ہم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اور شیر خدا کی عزیز ترین ہستی اور نبی کی بیٹی فوت ہو رہی ہے اور جنازے کے لیے ان کو آگے کیا جا رہا ہے جن کو دوست عمر بھر کے لیے ناراض ثابت کرتے ہیں ۔
امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ
حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا(رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ:۔یعنی جب فاطمہ فوت ہوئیں تو علی رضی اللہ عنھ نے انکو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کردیا۔
﴿بحوالہ السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز﴾
سیدنا محمدباقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے
عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : جعفر صادق , محمد باقرسے روایت کرتے ہیں کہ فاطمہ دختر رسول اللہ ؐ فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر نے علی المرتضٰی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی نے جواب دیا کہ آپ خلیفۃ رسول ہیں آپکی موجودگی میں ٫٫میں ،،آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا۔
﴿بحوالہ کنزالعمال :خط فی رواۃ مالک:جلد 6 صفحہ 318:طبع قدیم:روایت 5299باب فضائل الصحابہ :فصل الصدیق مسندات علی﴾
روایت میں الفاظ کو غور سے پڑھیے کہ جناب ابوبکر کو سیدنا علی نے(اپنے حسن سلوک سے ) آگے کر دیا ….اور اب نارضگی تلاش کیجئے۔
کیا حدیث لانورث ۔۔۔من گھڑت ہے ؟
جب فدک پر مضمون شروع کیا تو گمان بھی نہ تھا کہ یوں طویل تر ہو جائے گا –
وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
عبارت مختصر ، قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
اور جب اس موضوع پر پڑھنا شروع کیا تو “احباب ستم گر ” اعتراضات کے پہاڑ بنائے بیٹھے محسوس ہوے – سو پہلے حصے میں ہم نے اجمالی بحث کی اور یہاں ہم ممکن حد تک اعتراضات کا جواب دیں گے –
پہلا اعتراض ان لوگوں کا حدیث ” لا نورث ۔۔۔۔الخ ” پر ہوتا ہے ۔
عن أبي بکر الصدیق عن النبي ﷺ قال: «لا نورث ما ترکناه صدقة»
’’حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ،آپﷺ نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں ،وہ صدقہ ہوتاہے۔‘‘
جب سیدہ فاطمہ ، سیدنا ابوبکر کے پاس “پہنچیں ” اور دعوی وراثت کیا تو جواب میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث سنا کے ان کے دعوے وراثت کو رد کر دیا – اس حدیث پر بہت اعتراض کیا جاتا ہے – ایک یہ کہ حدیث انہوں نے [ معاذ اللہ ] اپنے پاس سے گھڑ لی تھی ، اگر ایسا ہوتا تو کوئی اور صحابی اسے بیان کیوں نہیں کرتا – دوسرا اعتراض یہ حدیث قران کے خلاف ہے ، جہاں تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے تو معمول کی کم علمی پر مبنی ہے – یہ حدیث بایں الفاظ و دیگر مگر اسی مفھوم میں شیعہ سنی دونوں کی کتب میں موجود ہے اور اس قدر موجود ہے کہ اسے متواتر کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا -اس حدیث کو ایک سے زیادہ صحابہ نے روایت کیا اور کتب احادیث میں موجود بھی ہے – سیدنا ابوبکر کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ آپ اپنے مزاج کے سبب حدیث کے بیان میں بہت محتاط تھے ، اب اگر ان جیسا بندہ یہ حدیث بیان کر رہا ہے تو ان کا اس میں اکیلا ہونا بھی کافی تھا ، لیکن
حفیظ اہل زبان کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
سو نہ ماننے والوں کے لیے اللہ نے بہت سا سامان کر رکھا تھا ، اس روایت کو سیدہ عائشہ نے سیدنا ابو ہریرہ نے اور سیدنا عمر نے بھی روایت کیا ہے – اور جب سیدنا عمر کے دور میں یہ معامله دوبارہ سامنے آیا تو سیدنا عمر نے مجلس میں موجود لیکن ان سبب سے اہم بات یہ ہے کہ خود شیعہ کتب میں بھی یہ روایت مفھوم کے اعتبار سے محفوظ ہے –
معروف شیعہ محدث محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی کتاب اصول کافی میں بروایت ابوالبختری امام ابوعبداللہ جعفر صادق سے اس معنی کی روایت نقل کی ہے:
«عن ابی عبداللہ قال ان العلماء ورثة الأنبیاء و ذالک ان الانبیاء۔۔۔۔۔۔ دراھما ولا دینارا وانما ورثوا احادیث من احادیثھم فمن اخذ بیشئ منھا اخذ بحظ وافر»
﴿اصول کافی:32/1 باب صفۃ العلم وفضلہ﴾
حضرت جعفر صادق نے فرمایا: ہر گاہ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اس لیےکہ انبیاء علیہم السلام کی وراثت درہم و دینار کی صورت میں نہیں ہوتی وہ اپنی حدیثیں وراثت میں چھوڑتے ہیں جو انہیں لے لیتا ہے اس نے پورا حصہ پالیا۔‘‘
اصول کافی میں کلینی نےحماد بن عیسی سےاور حماد بن عیسی نےقداح سےجعفر ابو عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے… اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا۔‘‘
﴿الاصول من الکافی کتاب فضل العلم، باب ثواب العالم والمتعلم جلد 1، 34﴾
جعفر ابوعبداللہ نےایسی ہی ایک اور روایت میں کہا ہے: ’’علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں۔‘‘
﴿الاصول من الکافی باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء جلد 1، صفحہ 32﴾
’’ابراہیم بن علی رافعی نے اپنے باپ سے، اس نے اپنی دادی بنت ابی رافع سے روایت کیا ہے وہ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ ﷺ اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو لے کر آپ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں”یا رسول اللہ ﷺ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، ان کو اپنی کچھ میراث دے دیجیے“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ حسن رضی اللہ عنہ کے لیے میری ہیبت اور بزرگی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے میری جرأت اور میری سخاوت۔‘‘
﴿کتاب الخصال از قمی صدوق، صفحہ 77﴾
دوسری روایت میں ہے: ’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول , یہ آپ کے دو بیٹے ہیں، انہیں کچھ عطا کیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حسن کو میں نے اپنا رعب اور بزرگی دی اور حسین کو اپنی سخاوت اور شجاعت۔‘‘
﴿کتاب الخصال از قمی صفحہ 77﴾
۔۔۔حدیث «مَا ترکنَا صَدقة» کی صحت اتنی عالم آشکارا ہے کہ شیخ ابوریہ محمود اور سید محمد باقر موسوی خراسانی جیسے کٹر شیعہ عالم بھی اس کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔
تیسری صدی کے مشہور شیعی محدث فرات بن ابراہیم ابن الفرات الکوفی اپنی تفسیر ’الفرات‘ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے رسول اللہ سے پوچھا: ما أرث منك یارسول اللهﷺ! یارسول اللہ ! میں آپ کی وراثت میں کیا پاؤں گا؟ تو آپ نے میرے جواب میں فرمایا:
فقال: «مَا ورِث الأنبیاء من قبلي…»
’’جو کچھ مجھ سے پہلے انبیاء اپنی وراثت میں دیتے رہے ہیں، وہی آپ بھی حاصل کریں گے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا:
ما ورثت الأنبیاء من قبلك؟
’’آپ سے پہلے کے انبیائے کرام اپنی وراثت میں کیا چھوڑتے رہے؟‘‘
اس پر رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
کتاب ربهم وسنہہ نبیهم ’’اپنے ربّ کی کتاب اور نبی کی سنت ‘‘
﴿ کتاب تفسیر فرات :ص82 بحوالہ تحفہ الشیعہ ﴾
یہ روایت ان لوگوں کے اس اشکال کو بھی دور کرتی ہے کہ جن کا مسلسل دعوی ہے کہ یہ حدیث قران کے خلاف ہے کہ جس میں انبیاء کا وراثت کا ذکر کیا گیا ہے –
آپ نے دیکھ لیا کہ خود ہمارے “دوستوں ” کی کتب اس روایت سے رونق افروز ہیں لیکن الزام سیدنا صدیق اکبر پر کہ انہوں نے یہ روایت موقع پر گھڑ لی تھی –
۔۔۔۔
* شیعہ کتب کے حوالے کتاب و سنت ویب سائٹ سے لیے گیے ۔۔
خلاصہ
الحمد للہ! مذکورہ دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ باغِ فدک عام موروثی جائیداد نہیں بلکہ مالِ فَے تھا، جس کے مصارف خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مقرر فرما دیے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں اسی شرعی حکم کے مطابق اس کی آمدنی کو اہلِ بیت، قرابت داروں، مساکین، یتیموں اور دیگر مستحقین پر صرف فرمایا، نہ کہ اسے اپنی ذاتی ملکیت بنا کر رکھا۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی سنت کو برقرار رکھا اور صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ اس مال کے بارے میں وہی طریقہ اختیار کریں گے جو رسول اللہ ﷺ نے اختیار فرمایا تھا۔ اسی بنا پر انہوں نے حدیث «لا نورث، ما تركنا صدقة» کے مطابق فدک کو بطورِ وراثت تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کی سابقہ حیثیت کو برقرار رکھا۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست معلوم نہیں ہوتا کہ حدیث «لا نورث» سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود گھڑی تھی، کیونکہ یہ روایت متعدد صحابۂ کرام سے مروی ہے، اہلِ سنت کی معتبر کتب میں بھی موجود ہے اور اہلِ تشیع کی متعدد کتابوں میں بھی اس کے مفہوم کی تائید ملتی ہے۔ لہٰذا اس حدیث پر وضع یا انفراد کا اعتراض علمی بنیادوں پر قائم نہیں رہتا۔
رہی یہ بات کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ کے لیے ناراض رہیں، تو اس بارے میں بھی پیش کردہ دلائل اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعوے کو قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ بعض روایات اور قرائن اس کے برخلاف حسنِ تعلق اور باہمی احترام کی نشاندہی کرتے ہیں۔
الغرض فدک کے معاملے کا صحیح فہم اسی وقت ممکن ہے جب قرآنِ مجید کی آیات، صحیح احادیث اور صحابۂ کرام کے تعامل کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ ان تمام دلائل کا مجموعی نتیجہ یہی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فدک کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام کے مطابق عمل کیا، اور اسی میں امت کی رہنمائی اور اتباعِ نبوی کا حقیقی نمونہ موجود ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین

ابو بکر قدوسی
ابوبکر قدوسی پاکستان کے معروف دینی مصنف، محقق، ناشر اور کالم نگار ہیں، جو طویل عرصے سے اسلامی علوم، تاریخ، سیرت، کتابی ثقافت اور اہلِ علم کے تذکروں پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ وہ لاہور کے معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ سے وابستہ ہیں اور متعدد علمی و تحقیقی کتب کی اشاعت و تدوین میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، تاریخی شعور اور ادبی اسلوب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جبکہ ان کی معروف تصانیف میں "تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں" سمیت متعدد کتابیں شامل ہیں۔ دینی اشاعت، علمی تحقیق اور اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔




